چودھری پرویز الٰہی کی ”ڈولی ڈنڈا“ حراست
اپنی عادت کے برعکس منگل کی صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کو قلم نہیں اٹھایا۔ ٹی وی اور لیپ ٹاپ کھول کر چودھری پرویز الٰہی کے بارے میں تازہ ترین جاننے کے تجسس میں الجھ گیا۔ چودھری صاحب سے دیرینہ شناسائی ہے۔ باہمی عزت و احترام والا تعلق ہے۔ ان سے قربت کا مگر دعوے دار نہیں کیونکہ اسلام آباد میں مقیم ہونے کی وجہ سے ملاقاتیں ان کے کزن چودھری شجاعت حسین کے ساتھ بہت زیادہ رہی ہیں۔ سیاسی سوجھ بوجھ کے حوالے سے بھی میں انہیں پرویز الٰہی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ”گہرا“ شخص تصور کرتا ہوں جو زندگی کی ”پرکاریوں“ کو نہایت سادگی سے بیان کر دیتے ہیں۔
چودھری پرویز الٰہی پر فوکس کرنے ان دنوں ملکی سیاست کا دیرینہ طالب علم ہونے کی وجہ سے مجبور ہوا ہوں۔ میری دانست میں ان کے ساتھ گزشتہ چند دنوں سے جو سلوک ہو رہا ہے وہ درحقیقت ایک فرد واحد کے ساتھ ریاست کے سلوک تک محدود نہیں ہے۔ کئی حوالوں سے ان کی ”ہینڈلنگ“ درحقیقت ہماری ریاست کے اہم ستونوں کے مابین اختیارات کی تقسیم کے تناظر میں چپقلش کا اظہار ہے۔ ریاست کا سب سے طاقت ور شمار ہوتا ادارہ چودھری صاحب کو ”راہ راست“ پر لانے کے لئے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے تو عدالت ان کے لئے ڈھال کی صورت متحرک ہوجاتی ہے۔
گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے ایک عزت مآب جج نے نہایت استقامت سے چودھری پرویز الٰہی کو ہر صورت ضمانت پر رہا کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ حکومت کو اس امر پر بھی مجبور کیا کہ وہ چودھری صاحب کو عدالت کے روبرو پیش کرے۔ کافی لیت و لعل کے بعد پولیس انہیں عدالت لانے کو مجبور ہوئی تو جج صاحب نے قطعاً غیر مبہم الفاظ میں یہ حکم جاری کر دیا کہ چودھری صاحب کو پولیس اپنی نگرانی میں ان کے گھر پہنچا کر آئے۔ کسی اور مقدمے میں انہیں گرفتار کرنے کی گنجائش بھی نہ چھوڑی۔
عدالت کے واضح احکامات کے باوجود اسلام آباد پولیس کے چند افسر و اہلکار ہنگامی حالات میں لاہور پہنچ گئے۔ چودھری صاحب اپنے گھر کے قریب پہنچے تو اسلام آباد سے آئی نفری نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا۔ چودھری صاحب کو ذلت آمیز انداز میں ”ڈولی ڈنڈا“ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے گاڑی سے نکال کر پولیس اپنے ہمراہ لے گئی۔ گرفتاری کے بعد انہیں اٹک جیل میں اندیشہ نقض امن کی دفعات کے تحت بند کر دیا گیا ہے۔
چودھری صاحب نے گزشتہ چند برسوں سے اپنے لئے جو سیاسی ترجیحات اختیار کر رکھی ہیں مجھے ان سے اتفاق نہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت نظرانداز نہیں کر سکتا کہ وہ ہماری سیاست کے ایک کائیاں اور تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ ان کی عمر بھی عزت و احترام کی حقدار ہے۔ ان کے قد کاٹھ والا سیاستدان ”ڈولی ڈنڈا“ کیے بغیر بھی حراست میں لیا جاسکتا تھا۔ روایتیں اور قدریں مگر ہمارے معاشرے میں گزشتہ کئی برسوں سے اپنی وقعت کھو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال کی بدولت عمران خان کے جنونی حامیوں نے ان قدروں کی پامالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پرویز صاحب اب اس جماعت کے صدر ہیں۔ ان کے ساتھ ہوئے سلوک کو لہٰذا ان کے سیاسی حریف ”مکافات عمل“ ٹھہراتے ہوئے نظرانداز کر سکتے ہیں۔ میرے لئے ایسا رویہ اختیار کرنا ممکن نہیں۔
قدروں اور مثبت روایات سے کہیں بڑھ کر چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ہوا سلوک ملکی سیاست کے میرے جیسے دیرینہ شاہد کو یہ عندیہ بھی دے ر ہا ہے کہ ہماری ریاست کے دیگر ”ستون“ ملک کے سب سے طاقت ور تصور ہوتے ادارے کے روبرو اپنی اہمیت اجاگر کرنے کو مچل رہے ہیں۔ انگریزی زبان میں ایسی فضا کے لئے Territorial Warsکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی ایک ایسی فضا جہاں ریاست کے مختلف ادارے اپنی اپنی حدود اور اختیارات دیگر اداروں کے مقابل دھڑلے سے اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں ریاستی اداروں کے مابین اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ایسی چپقلش شروع ہو جائے تو بالآخر کامل ابتری اور انتشار ہی کا باعث ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گزشتہ اپریل کے آغاز سے اس چپقلش کا آغاز ہوا۔ عثمان بزدار کی فراغت کے بعد حمزہ شہباز کی حکومت چند ہفتے بھی ٹک نہیں پائی۔ دریں اثنا ء گورنر راج کے وقفے بھی آئے۔ مسلسل عدم استحکام نے پنجاب کی افسرشاہی کو قطعاً بے لگام بنا دیا۔ ایسے عالم میں اکثر مجھے پنجابی کا وہ محاورہ یاد آتا ہے جو سمجھ نہیں پاتا کہ ”کس کی ماں کو ماسی“ پکارا جائے۔ اس کے علاوہ بلھے شاہ کا ”برا حشر ہویا پنجاب دا“ بھی ذہن میں گونجتا رہا جو مغلیہ سلطنت کے زوال کے ایام میں ہمارے خطے میں افغان حملہ آوروں، مغل صوبے داروں اور سکھوں کے باغیانہ جتھوں کے مابین لامتناہی کش مکش کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ پنجاب ان دنوں ایک نگران حکومت کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے افراتفری کی فضا معدوم ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ عدالتوں کے مگر اختیار والوں کے ساتھ معاملات معمول کے مطابق نہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کا کیس اس تناظر میں ایک ”کیس سٹڈی“ کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
ہمارے عوام کی اکثریت کی طرح پاکستان کا بے اختیار شہری ہوتے ہوئے میری فطری خواہش ہے کہ ہماری عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔ اس ضمن میں ان کی شفقت مگر فقط ایک ہی جماعت کے لئے وقف نظر آئے تو ماتھا ٹھنک جاتا ہے۔ ماضی کے بے شمار قصے یاد آ جاتے ہیں جہاں ہماری ریاست کا سب سے طاقت ور ادارہ دیگر ”ستونوں“ کی جانب سے ”اختیار دکھاتے“ رویے سے مشتعل ہو گیا اور کئی برسوں تک ہم سر جھکائے فدویانہ خاموشی اختیار کرنے کو مجبور ہو گئے۔ اختیار دکھانے کی جنگیں حد سے بڑھ جائیں تو تخت یا تختہ والے مقام ہی آتے ہیں اور بالآخر یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ وہ محاورہ درست ہے جو ”گھونسے“ کو ہمارے لئے ”رب“ سے زیادہ نزدیک بتاتا ہے۔
(بشکریہ نوائے وقت)


