پھول


یوں تو پھول کو قدرت کا تحفہ کہا جاتا ہے مگر صفحہ ہستی میں ایسے پھول بھی موجود ہیں جو اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ کسی کے وجود کو سیاہ کر دیں۔ پھول جو اپنی منفرد مہک کے سحر سے دوسروں کو متاثر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ پھول جس پر شبنم بھی شرما جائے، جس کی نرمی سے کپاس کی نرمی بھی سہم جائے، جب ایک انسان کا روپ اختیار کرتا ہے تو وہی خوشبو وہی ہنر، وہی نرمی، چند لمحوں میں ماند پر سکتی ہے۔ جی ہاں میں انہی پھولوں کی بات کر رہی ہوں جو انسان کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔

جس طرح پھولوں کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں بالکل اسی طرح انسانوں کے روپ میں بہت سے پھول ظاہر و پوشیدہ راز میں ملتے ہیں۔ انہی پھول میں سے کچھ ایسے پھول ہیں جو اپنی اندرونی خوشبو سے، اپنی زبان کی مٹھاس سے اتنی طاقت رکھتے ہیں جو سخت سے سخت لہجے کو بھی ڈھیر کر دیں۔ اور چند ایسے پھول بھی ملتے ہیں جو صرف ظاہری حسن اور خوشبو سے دوسروں کو بے وقوف بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ ”گلاب“ جو تمام پھولوں میں اول درجے پر ملتا ہے، جو اپنے سنہرے لال رنگ سے لوگوں کو متاثر کرتا ہے، محبت کے اظہار میں سرخرو رہتا ہے ایک مدت کے بعد مرجھا جانے کی خامی لئے ہمیشہ ہمارے دلوں کو تازہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گلاب جس کا سحر آپ کو مدہوش کر سکتا ہے ایک مدت کے بعد اسی سحر سے انسان گھبرانے لگتا ہے مگر اس کے دامن سے نفرت نہیں کر پاتا، بالکل اسی طرح یہ پھول نما انسان اپنے رویے اپنی خوبصورتی سے اپنے کردار سے متاثر بھی کر سکتا ہے اور بے زار کرنے کی ہمت لئے ہمارے سامنے بھی کھڑا رہتا ہے۔ پھر انسان کی قوت اور قدرت اس انسان کی چھاپ کو ہمیشہ اپنی کہانی میں نمایاں رکھتی ہے چاہے وہ ہجوم میں ملے یا تنہائی کے کسی پہر۔

مجھے لگتا ہے کہ جس طرح ہم پھول کو اس کی خامیوں کے ساتھ اپناتے ہیں اور اس کی قدروقیمت ہماری نظر میں نہیں گھٹتی، اسی طرح انسان جو پھول کی مثال لئے ہمارے سامنے ظاہر ہوتے ہیں ان کی قدر و اہمیت میں بھی خلل نہیں آنا چاہیے۔ ہاں یہ بھی یاد رہے میں نے پھول کو محض انسانی رویہ اس کے حسن اور کردار سے جوڑا ہے جو کہیں نہ کہیں مادی حیثیت کو اجاگر کر سکتا ہے مگر میں پھول کو معاشرے کی عکاسی کے طور پر بیان نہیں کر نا چاہتی، کیونکہ معاشرہ انسانوں کے سیلاب میں کھو کر اپنی ہستی کو ڈبو دیتا ہے جہاں انسان کی ہستی بالکل اسی طرح دھندلا جاتی ہے جس طرح سیال کے موسم میں دھندلاتی ہوئی صبح میں دور سے صرف کسی اجنبی کا عکس عیاں ہو، مگر اس کا وجود کہیں ماند پڑا رہے اور عام نظر اسے دیکھنے سے قاصر ہو۔

”چمن کے سنہرے رنگوں میں
میری پہچان کر سیاہ پھول ہوں میں ”

Facebook Comments HS