بالا حصار کے حصار میں


کابل میں اگلے دو دن بڑے ہی مصروف گزرے۔ مشین خانہ پراجیکٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ سوویت دور کے اور اس سے بھی پہلے برطانوی تسلط کے مختصر عرصے میں شہر کے بیچوں بیچ اسلحے اور دیگر جنگی سامان کو ذخیرہ کرنے کے کئی گودام بنائے گئے تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ عدم استعمال کی وجہ سے ویران ہو گئے۔ جرمن حکومت کے تعاون سے ہمارے ادارے کے افغانستان آفس نے ان گوداموں کے دوبارہ استعمال (Adaptive reuse) کا پراجیکٹ بنایا ہے۔

ان آٹھ بڑے گوداموں کی مرمت، بحالی اور تزئین و آرائش کا کام شروع کیا۔ اس کام کا سکیل اور حجم دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان گوداموں کی بحالی کے ساتھ ساتھ قریبی علاقے میں کئی گرین بیلٹس  بنائی گئی ہیں۔ اس منصوبے کا سب سے دلچسپ حصہ وہ آٹھ چھوٹے معلق باغ ہیں جو نزدیکی پہاڑوں پر آباد بستیوں کو گرین سپیس مہیا کرنے کے لئے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس بحالی کے کام کے بعد مختلف کاروباری اور تجارتی کام ان عمارتوں میں شروع کیے جائیں گے۔ چونکہ ان عمارتوں کی لوکیشن شہر کے وسط میں ہے، امید ہے کہ یہ سرگرم کاروباری مراکز بنیں گے اور عام لوگوں کو کورڈ مارکیٹ کی طرح کی سہولت فراہم کریں گے۔ ایک ہزار کے قریبی مزدور بیک وقت کام کر رہے ہیں اور ورکشاپس، مشینری اور انفراسٹرکچر کا ایک جال بچھا ہے۔

وزارت ثقافت سے لیز پر لی گئی عمارت میں قائم جنگلاک تربیتی مرکز بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس عمارت میں لکڑی کے ماڈلز تیار کرنے کی فیکٹری ہے۔ بڑی بڑی عمارتوں، قلعوں اور اشیا کے ماڈلز یہاں تیار کیے جاتے ہیں اور معیار اور نفاست میں کسی سے کم نہیں۔ اسی عمارت میں قالین بافی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ افغانی کارپٹس تو یوں بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں اور اب بھی لاکھوں میٹر قالین سالانہ تیار کیے جاتے ہیں مگر وہ تمام کام مشینوں پر تھوک کے حساب سے ہوتا ہے۔

اس مرکز میں قالین بافی کے روایتی اور قدیم طریقوں کی تربیت دی جاتی ہے، جس میں کھڈیوں پر رنگین نقش و نگار والے قالین بنے جاتے ہیں۔ ہمارے ادارے کا قائم شدہ میوزک سکول اب بھوت گھر لگتا ہے اور یہاں تمام آلات موسیقی کو چھپا دیا گیا ہے۔ یہیں افغانستان کے بارے میں شائع کی گئی کتابوں کا ذخیرہ بھی دیکھا۔ تصاویر کا مجموعہ، تاریخ کی کتابیں، قدیم ورثہ پر لکھی گئی کتابیں اور پشتو شاعری کے مجموعے۔ غنی خان کے شاعری کے تراجم پر مشتمل ایک خوبصورت کتاب جس میں شاعری کی نسبت سے نقاشی بھی کی گئی ہے ہمیں تحفے میں ملی، چند اور کتابوں کے ہمراہ۔

ہر روز کھانے کا مینیو ایک ہی تھا کیونکہ ہمارے دفتر ہی میں کہ جو ایک قلعے میں قائم ہے، رہائش اور مہمانداری کا انتظام کیا گیا تھا۔ کابلی پلاؤ، مٹن، دال، افغانی نان، پھل، تربوز کا جوس اور ڈھیروں سلاد۔ قلعے کے صحن کے بیچ میں ایک خوب صورت گارڈن ہے جسے طویل اور گھنے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ اس گارڈن کے ایک حصے میں لکڑی کے ایک چبوترے کے تلے، کہ جس میں انگور کی بیلیں اپنے پھل کے وزن سے ٹوٹ رہی تھیں، کھانے کی میز سجائی جاتی۔ لگتا تھا باغ بہشت میں بیٹھے من و سلویٰ تناول کر رہے ہیں۔

تیمور شاہ کے مزار پر دعا :

شہر کے بیچوں بیچ تیمور شاہ کے مزار پر گئے۔ اس تاریخی عمارت کو بھی ہمارے ادارے نے بحال کیا تھا۔ کئی سال پہلے مکمل کیے گئے اس مزار کا آرکیٹیکچر نہایت خوبصورت ہے۔ اینٹوں کے ڈیزائن سے تیار چھت اور دیواروں سے نظر نہیں ہٹتی۔ ایک زیر زمین راستے سے مرقد تک پہنچے تو پتا چلا کہ صاحب مزار یہاں دفن نہیں ہیں بلکہ یہاں ان کے بھائی کی قبر ہے۔ مگر صاحب مزار سے عقیدت کی وجہ سے یہ مقبرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ پہلی منزل پر قائم ہال میں نمائشیں، کانفرنسز اور اسی نوعیت کی دیگر سرگرمیاں منعقد کرنے کی سہولت موجود ہے۔ مگر اس عمارت کا کمرشل استعمال زیادہ نہیں ہوا۔ اسی طرح سیاحوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ ان وجوہ سے عمارت اور ملحقہ باغ کی مرمت اور دیکھ بھال کا معیار زیادہ اچھا نہیں ہے۔ ایک خوبصورت عمارت اور عمدہ گارڈن عدم توجہی کا شکار ہے۔

قلعہ بالا حصار کے پراجیکٹ نے تو گنگ کر دیا۔ باون ( 52 ) ہیکٹرزپر مشتمل یہ قلعہ ایک عجوبے سے کم نہیں۔ داخلے کے دروازے کے سامنے ہی وزیٹر سینٹر ہے۔ انتہائی سادہ آرکیٹیکچر مگر پتھر کا کام اس خوبصورتی سے کیا گیا ہے کہ نظر نہیں ہٹتی۔ میں نے اپنے میزبان سے کہا کہ یہ پتھر کی دیواریں اتنا طاقتور اثر ڈالتی ہیں کہ ادھر ادھر اگر نفاست کی کوئی کمی ہے بھی تو نظر نہیں آتی۔ سادہ سے انٹیریئر  اور عام سی ایل ای ڈی روشنیاں لیکن ان در و دیوار کے ڈیزائن اور تعمیر میں کوئی ایسا جادو ہے کہ نظر ان سے ہٹتی ہی نہیں اور ان کے ارد گرد ہر شے خوب صورت لگتی ہے۔

قلعے میں پہاڑی پر چڑھتے گئے۔ شروع کے حصے میں آرکیالوجی کی کھدائی سے ایک کئی فٹ چوری طویل دیوار کو دریافت کیا گیا ہے، جس کی سٹرکچرل مضبوطی کے لئے بہت سا کام کیا گیا ہے۔ قلعے کا مشرقی دروازہ جو تباہ شدہ حالت میں ہے، کی بحالی کا کام جاری ہے اور اس کے پہلو میں ایرانی آرکیالوجٹس کی نگرانی میں مزید کھدائیاں جاری ہیں۔ اس قلعے کی بحالی کا کام اگر دس برس میں مکمل ہو جائے تو یہ ایک شاندار کامیابی ہو گی۔ اس طویل و عریض سائٹ پر مختلف حصوں میں تعمیر نو، کنزرویشن اور سٹرکچرل سٹیبلائزیشن جاری ہے۔

بیرونی دیوار کے پہلو میں ایک ٹریل بنائی جا رہی ہے، جس پر سیاح چل کر سارے قلعے اور کابل شہر کے ایک بڑے حصے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس پراجیکٹ کی ایک خصوصیت تعمیر و بحالی کے کام کے ساتھ ساتھ آرکیالوجی کی دریافت کے لئے کھدائیاں ہیں۔ قلعے کی عقبی سمت میں دس سے بارہ فٹ کی کھدائی میں ایک بستی دریافت ہو رہی ہے۔ ایرانی آرکیالوجسٹ نے بتایا کہ اس بستی کے کچھ حصے نویں صدی سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس سے بھی پرانے عہد کی اشیاء کا سراغ ملا ہے۔

اس کیمپ کا خوبصورت ترین حصہ آرکیالوجی کا وہ کیمپ ہے جہاں کھدائی کے دوران ملنے والی اشیا کی صفائی، شناخت، کیٹلانگ اور بحالی کا کام ہو رہا ہے۔ ایک خوبصورت پہاڑ کے ساتھ پہلے حصے میں صفائی کے ٹینک ہیں، پھر ان کا اندراج ہے، پھر ٹریسنگ اور آخری حصے میں مختلف حصوں کو جوڑ کر آرٹیفیکٹ کی دوبارہ تخلیق ہے۔ سادہ، کم ماہرانہ مگر خالصتاً پروفیشنل انداز میں قائم یہ حصہ تاریخ کے کتنے ہی نقوش محفوظ کر رہا ہے۔

یہ ہماری آخری دوپہر تھی جو بالا حصار کی پہاڑی پر گزری اور دل پر نقش ہو گئی۔ ابھی تھوڑی دیر میں ائرپورٹ جانا ہے مگر میزبانوں کا اصرار ہے کہ کھانا کھا کر جائیں ان افغان دوستوں نے اپنے دل اور آنکھیں ہمارے رستے میں بچھا دیں تھیں اور تین دن ہمیں اپنی ہتھیلیوں پر اٹھائے رکھا۔ کابل میں گزرے یہ ایام ایک خوبصورت یاد بن کر جسم اور روح کا حصہ بن گئے ہیں۔

دیر بی حدہ بی چی حثہ رنگ بہ دی ستایم
حوک بہ د لفظو نو نہ موتیاں راتو ٹوی
(غنی ؔخان)
(ترجمہ : تمہارے حسن و جمال کی تعریف کیسے کروں اس کے لئے لفظوں میں موتی کون چنے گا)

Facebook Comments HS