فری لانسنگ


”آج سب شام میں بڑی پھوپھو کے گھر جمع ہو رہے ہیں سوچ رہی ہوں کپ کیکس بنا لوں“ ۔ کچن میں کھڑی رابعہ نے اپنی ساس سے کہا،

”بھئی تمھاری مرضی ہے انھوں نے تو کچھ نہیں کہا“ ۔ ”کوئی بات نہیں میں بناؤں گی“ ۔ یہ کہہ کر رابعہ کپ کیکس بنانے میں مصروف ہو گئی اس کی پوری دوپہر کپ کیکس بنانے میں گزر گئی بھرا پورا خاندان تھا پچاس سے ساٹھ کپ کیکس بنانا ضروری تھے وہ انھیں پیک کر کے تیار ہونے چلی گئی۔

”یہ کپ کیکس رابعہ بھابھی بنا کر لائیں ہے“ ؟ کپ کیک کھاتے ہوئے ثنا نے پوچھا۔ ہاں! پیچھے سے بڑی پھوپھو کی آواز آئی۔ ”بھابھی“ آپ اتنے مزیدار کپ کیکس بناتی ہیں فری لانسنگ کیوں نہیں شروع کر دیتی ”؟“ فری لانسنگ میں کچھ سمجھی نہیں! ”رابعہ نے کہا۔

”ارے بھابھی آج کل تو فیس بک، واٹس ایپ ہے اپنا پیج بنا کر لوگوں کو مطلع کریں کہ آپ کپ کیکس بناتی ہے آپ کو آرڈر ملنے شروع ہوجائیں گے آج کل لوگ تقریبات میں کچھ مختلف کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ بچوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں اس لیے مختلف جگہوں پر میلوں کا انعقاد ہو رہا ہے آپ وہاں پر کم سرمایہ میں اسٹال لگا کر اپنی چیز کو بازار میں متعارف کروا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کی جانب سے مثبت رویہ دیکھنے پر آپ اپنے ہنر میں نکھار پیدا کرنے کے لیے کسی بیکنگ کورس میں بھی داخلہ لے سکتی ہے تاکہ آپ اپنے کاروبار کو دن دگنی ترقی دے سکے“ ۔

”ویسے ثنا میری فراغت کا بہترین استعمال بتایا ہے تم نے اس سے میرا وقت بھی استعمال ہو گا اور معاشی استحکام بھی حاصل ہو گا“ ۔

فی الوقت ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین ایسی ہیں جن کے پاس ہنر موجود ہے مگر وہ اس کے استعمال کے ذرائع نہیں ڈھونڈ پاتی یا پھر یہ سوچتی ہے کہ کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے کے لیے کثیر سرمایہ درکار ہوتا ہے مگر ایسا نہیں ہے آپ معمولی رقم سے بھی اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہے یوں تو کوئی بھی کاروبار شروع کرنے کے لیے کاروبار کی تعریف کے لحاظ سے چار چیزیں درکار ہوتی ہے زمین، مزدور، سرمایہ، کاروباری سوچ بوجھ مگر اس بدلتی اور ترقی یافتہ دنیا میں اب جو چار چیزیں درکار ہیں اس میں لگن، ہنر، سرمایہ اور کاروباری سوچ بوجھ ہے اس لیے اگر آپ ان چیزوں کی مالک ہیں تو آج سے ہی فری لانسنگ شروع کر دیجیے۔

Facebook Comments HS