وہ اک تارا قسط نمبر2

جس شام وہ ماسکو ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹیں خرید کر گاڑی کے انتظار میں ویٹنگ لاؤنج میں پاس پاس بیٹھے۔ ہیثم نے اس کی قدرے سرخی مائل تھکی تھکی آنکھیں دیکھ کر پوچھا۔
”خیریت؟“
” ہیثم میں ساری رات اس خطے کو جوبحر منجمد شمالی کی برفانی دلدلوں سے تبت اور ہمالیہ تک پھیلا ہوا کبھی کا دشت ایشا اور آج کا وسط ایشیا کہلاتا ہے، پڑھتی رہی۔ یقین مانو اس کی دلچسپ تاریخ نے مجھے آنکھ نہیں جھپکنے دی۔ وہی وحشیانہ انسانی جبلت، گروہوں، قبیلوں کی ماردھاڑ، ایک دوسرے پر غلبے کی تمنا، کہیں ستھین کہیں آریا، کہیں ہن، کہیں بایان یعنی مغل، کہیں ترک۔
ولادمیر سٹوف، Vladmirstovنے کس خوبصورتی سے چنگیز خان، روسیوں اور مغلوں کی لڑائیوں اور دشت کی تہذیبی زندگی کی تصویر کشی کی ہے۔ وہ تمہارا جد امجد ترک برلاس قبیلے سے تعلق رکھنے والا تیمور سچی بات ہے اس کو پڑھ کر تو لطف آ گیا۔
برتھ آرام دہ تھی۔ ساری رات سوئی۔ صبح کوئی آٹھ بجے قہوے کا مگ ہاتھ میں پکڑے چسکیاں بھرتے ہوئے اس نے دریائے ”دون“ دیکھا اور ہیثم سے سنا ہم ہزار میل کا سفر طے کر چکے ہیں اور یہ وہی دریا ہے جسے روس کے ممتاز ناول نگار نے ”خاموش دون“ کہا ہے۔ شولوخوف یہاں قریب کے گاؤں ویشینکایا میں رہتے ہیں۔
اور وہ ہنستے ہوئے بولی۔ ”اتر کر انہیں ملنے نہ چلے چلیں۔“
صبح کی روشن کرنیں ایک کے بعد ایک منظروں کا سارا حسن آنکھوں کے سامنے لا رہی تھیں۔ کہیں پہاڑ تھے، کہیں گھاٹیاں، کہیں میدانوں میں ہری کچور فصلیں، کہیں دریا اور کہیں طویل سرنگیں۔ یہ سفر اگر نئی دنیائیں، نئے لوگوں اور نئے واقعات سے روشناس کروانے جار ہا تھا تو وہیں یہ محبتوں، چاہتوں اور نئے رشتوں میں گندھ جانے کا بھی تھا۔ اس کی مسرت و اشتیاق قابل دید تھا۔
نوواروسیسئک میں وہ اتر گئے۔ اس وقت ایک بج رہا تھا۔ لنچ کیا اور تازہ دم ہو کر انہوں نے شہر دیکھا۔ دوسری جنگ عظیم کا شکار شہر، جس نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور سرخرو ہوا۔
ہیرو چوک میں شہدا کی یاد میں نہ بجھنے والا شعلہ جلتا ہے۔ اسے دیکھنا اور نوواروسیئکی گجر جیسے نغمے کو سن نا بہت دل موہ لینے والا کام تھا۔ یہ صرف دو منٹ کے لئے بجا۔ آغاز میں گھنٹیاں بجیں۔ پھر بڑی غمگین سی دھن بکھری اور اختتام فاتحانہ سمفنی آکسٹرا کی موسیقی سے ہوا۔
اس نے خوشی و مسرت سے پلکیں جھپکائیں اور دہری ہو کر اس کی کلائی کو پکڑ لیا۔ ”ہیثم یہ بڑا خوش کن منظر ہے۔ یہاں رکتے ہیں۔ ایک بار پھر اس سے لطف اٹھاتے ہیں۔“
ایک گھنٹے بعد پھر وہی سین دہرایا گیا۔
اسے موسیقی میں سرشار ڈوبتے دیکھ کر اس نے پوچھا تھا۔
”جانتی ہو کس کی کمپوزنگ ہے؟“
اینا چند لمحوں تک کچھ سوچتی رہی پھر تذبذب ملے لہجے میں بولی۔
”شاید پروکوفیف کی۔“
”اوں ہوں۔“ ہیثم زوردار لہجے میں آواز نکالتا ہوا اس کی طرف دیکھ کر ہنسا۔
”ابھی تم موسیقی سمجھنے میں کچی ہو۔ دمیتری شوستا کوویچ۔“
”اف۔“ اینا کو جیسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بول اٹھی۔
”یقین مانو پہلے یہی دماغ میں آیا تھا۔ پر دیکھو ہیثم یہ سٹالن کتنا بدبخت تھا۔ روس کے اس عظیم فنکار کو کیسے ذلیل کیا گیا۔ اس کے اوپیرا The Lady Macbeth of Mtensk کو بین کر دیا تھا ا س نے۔“
”ایک شوستا کوویچ پر کیا، ادیبوں، شاعروں، مصوروں، سبھوں کو ظلم و ستم کی سان پر چڑھایا گیا۔“
” ہیثم تم نے مینڈل کی وہ شہرہ آفاق نظم پڑھی ہے جو اس نے سٹالن کے خلاف لکھی تھی اور جو اس کی موت کی کا سبب بنی“ ۔
” ارے وہ سٹالن کا کرتوت نامہ ہیثم کو جیسے کچھ بھولی بسری چیزیں یاد آ گئیں۔ بھئی پڑھی بھی ہے اور بہت بار سنی بھی۔ میرے دادا ابا کی پسندیدہ ترین۔ کہتے ہیں کہ نظم لکھنے کے بعد اس نے سب سے پہلے بورس پیسترنک کو بند کمرے میں سنائی۔ بورس تو کنگ بیٹھا سنتا تھا اور کہتا تھا۔ مینڈل یہ تو شاہکار ہے۔ پھر قریبی دوستوں کا مجمع کمرے میں بیٹھا۔ دروازے کھڑکیاں حتٰی کہ روشن دان تک بند ہوئے۔ مگر مینڈل شاعر ہونے کے باوجود یہ بھول گیا تھا کہ کبھی گڈری میں لعل چھپے ہیں۔
نظم تو ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتی پورے سویت یونین میں پھیل گئی۔ دل جلے اسے کاغذوں پر لکھتے اور آگے آگے بانٹتے چلے جاتے تھے۔ مجھے آج بھی وہ رات یاد ہے جب میرے دادا باہر سے آئے۔ کھانے کے بعد مردان خانے میں بس مردوں نے اسے سنا اور جانتی ہو اینا میرے دادا کے چھوٹے بھائی جو اسی سہ پہر آدیگیئی سے آئے تھے انہوں نے اسے سن کر کہا تھا۔
سمجھ لو یہ اوسپ مینڈل سٹام کی موت کا پروانہ ہے۔ بات کتنی سچی تھی۔
لو اسے سنو ذرا۔
ہم زندہ ضرور ہیں مگر اس دھرتی بارے سوچتے نہیں
جہاں ہم رہ رہے ہیں کچھ دس قدم پرے یا نزدیک
تم سن ہی نہیں سکتے ہو جو ہم کہتے ہیں
لیکن اگر لوگ موقع پر بات کریں تو وہ کریملن، کا کیشیئن کے بارے ہی ہوگی
اس کی موٹی انگلیاں بھدی ہیں اور پھسنے والی مچھلی کی طرح پلی ہوئی
موزوں لفظوں کی تلاش اتنی مشکل جتنے بھاری وزن دار پتھر
اس کی کا کروچ جیسی مونچھیں بہت ڈراؤنی ہیں
اس کے گردا گرد چھوٹی اور موٹی گردنوں والے خوشامدی ٹٹو اور پٹھو ہیں یہی اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں کچھ تو سیٹیاں بجاتے
کچھ میاؤں میاؤں کرتے اور کچھ سوں سوں کرتے وہ اکیلا گرجتا، دخل در معقولات کرتا اور کش لگاتا اپنے ہی اصولوں کو توڑتا حکومتی فرمانوں کو سموں تلے روندتا اپنے چڈوں، اپنے ماتھے اپنی آنکھوں اور بھنوؤں میں ہر قتل پر خوش ہوتا
پھر ایک دن یہ کریملن جا پہنچی۔ جی پو یو کے سر براہ گوڈانے سٹالن سے ملاقات پر اسے جیب سے نکال کر میز پر رکھ دیا۔ سٹالن بھی جوانی میں ماڑی موٹی شاعری کرتا تھا۔ وہ پڑھتا گیا۔ پہلے زرد ہوا پھر سرخ ہوا پھر چہرہ کالا پڑا۔ ”لوگوں نے کیا سوچا ہو گا“ ۔ پولٹ بیورو کے ارکان تو ہنستے ہوں گے۔ بس تو لا ل بوٹی آنکھوں نے ایک واضح سگنل دے دیا تھا۔
دونوں تھوڑی افسردہ اور ملول سے کھڑے رہے۔
٭٭٭
