آرٹیفیشل انٹیلی جنس نئے دور کا آغاز یا بے روزگاری کا سبب
ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا ہر لمحے تیزی سے بدلتی جا رہی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس دراصل کمپیوٹر کی ایک فیلڈ ہے۔ جس کا مقصد کمپیوٹر کو انسانوں جیسی عقل دینا ہے تاکہ کمپیوٹر بھی انسانوں کی طرح باتوں کو سمجھ کر فیصلے کر سکیں اور انسانوں کی طرح کام اور بات کر سکے۔ اس طرح بہت سے کام جن کے لیے انسانوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس میں وقت بھی زیادہ لگتا تھا اب کمپیوٹرز کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ کمپیوٹر کا آغاز ایک سادہ سی مشین کے طور پر ہوا تھا۔ پہلا کمپیوٹر ایک ایسی مشین تھا جو سائز میں بہت بڑا تھا اور ایک سادہ سا ریاضی کے سوال حل کرنے میں اس کو بہت وقت لگتا تھا۔
آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی۔ کمپیوٹر کا سائز چھوٹا ہوتا گیا۔ اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا آسان ہو گیا۔ جو کمپیوٹر ایک سوال کو حل کرنے میں وقت لگتا تھا۔ وہ ہی کمپیوٹر اب ہر کام منٹوں میں کر دیتا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں ہم نے دیکھا کہ ایسے پروگرام تیار کیے گئے جو انٹرنیٹ پر موجود انفارمیشن استعمال کر کے لوگوں کی باتوں کے جوابات دیا کرتے تھے۔
اسی طرح ایسے پروگرامز بھی دیکھنے کو ملے جو کچھ الفاظ لے کر کسی بھی طرح کی تصویر بنا سکتے ہیں۔ وہ کوئی پینٹنگ یا انسان بھی ہو سکتا ہے اور کوئی ایسا منظر جو حقیقت میں موجود ہی نہ ہو۔ یہ سب کچھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ممکن ہوا۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا ایک حصہ روبوٹس بھی ہیں۔ جن کو خاص ہدایات دی جاتی ہے اور روبوٹس انھیں سمجھ کر اپنا کام سرانجام دیتے ہیں۔ سری الیکسا اور اسنیپ چیٹ ایپلیکیشن آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے چلنے والی ایپلی کیشنز ہیں۔ جو لوگوں کی باتیں سمجھ کر اس کے مطابق کے جواب دیتی ہیں۔
اے آئی میں ایک نئی ترقی یہ ہوئی ہے۔ اب آپ کو خبریں انسانوں کی بجائے کمپیوٹر روبوٹ پڑھ کر سنایا کریں گے۔ بیشتر ممالک جیسے کہ چین اور انڈیا سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس نیوز اینکرز کی خبریں آنے کے بعد پاکستان میں بھی ایسی نیوز اینکر بنا دی گئی ہے۔ یہ نیوز اینکر امبر کے نام سے تیار کی گئی ہے۔ جو کہ انسانوں کی طرح دیکھتی ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک انسان نہیں بلکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ نیوز چینل جی این این نے اپنے نیوز شو میں امبر نام کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس نیوز اینکر کو متعارف کرایا ہے۔
یہ صرف ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اس میں مزید بہتری کی جا رہی ہے۔ اس چیز کی تیاری کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں کمپیوٹر سے بنائیں نیوز اینکرز مکمل شو چلائیں گے۔ یعنی کہ انسان کی طرح دوسرے مہمانوں سے بات کریں گے اور ان کی باتوں سے متعلق سوال کریں گے اور پورا شو کمپیوٹر سے بنائی گئے یہ اینکر پرسن چلائے گے۔ یقیناً یہ ٹیکنالوجی میں ایک نیا موڑ ہے۔
یقیناً یہ دلچسپی کا باعث بھی ہے۔ لیکن اس سے کچھ خطرات بھی لاحق ہے۔ سب سے پہلے تو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی وجہ سے جب بہت سے کام کمپیوٹر کی مدد سے ہونے لگے گے تو یہ انسانوں کی جگہ لے لیں گے۔ وہ کام جس کے لیے انسانوں کو نوکریاں دی جاتی تھی ان کے بدلے اب کمپیوٹرز آ جائیں گے۔ کمپیوٹرز انسانوں کی جگہ لے لیں گے اور اس طرح بہت سے لوگوں بے روزگار ہو جائے گے۔ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو گا۔ اے آئی کے فائدے اور نقصان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ کیا واقعی کمپیوٹرز انسانوں کی جگہ لیں گے یا نہیں؟
تو بات یہ ہے کہ جب کمپیوٹر اس قابل ہو جائیں گے اور کمپنیز کمپیوٹر سے کام لے کر کم وقت میں اور کم خرچ میں اپنا کام ایک بہتر انداز میں کر سکیں گی تو یقیناً وہ انسانوں کی جگہ پر کمپیوٹر سے کام کروانے کو ترجیح دیں گی۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کمپیوٹرز کو چلانے اور کنٹرول کرنے کے لئے انسانوں کی ضرورت ہوگی۔ ایسے مزید نئے اور انوکھے پروگرامز بنانے کے لئے انسانوں کی ضرورت ہو گی۔
جدید ترین روبوٹس ہوں یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس نیوز اینکر ان کو سب بنانے اور کنٹرول کرنے والے انسان ہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں وہ ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ جو اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کو سیکھ کر اپنی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ کام کا اندازہ بدلہ رہا ہے۔ لیکن آرٹیفیشل انٹیلی جنس مکمل طور پر انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ کیوں کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا وجود انسان کی وجہ سے ہی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے صرف انہی لوگوں کو خطرہ ہے۔ جو اس ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس سے ڈرتے ہیں یا اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔


