برکس

دو ہزار ایک میں، مشہور زمانہ، امیریکن کمپنی، گولڈمین ساکس، کے مینیجر، جم اونیل نے چار ممالک ( برازیل، روس، انڈیا اور چین) کے پہلے خطوط کو ملا کرBRIC ”برک“ نام تجویز کیا تھا تو اس کے ذہن میں ان ممالک کی معاشی قوت کا خیال تھا۔ دو ہزار گیارہ میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد برک دنیا میں BRICS کے نام سے جانا جانے لگا ہے۔ روس۔ یوکرین کی جنگ تک، اس ”جنوبی“ تنظیم کا، نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے برعکس، ایک غیر متاثر کن رول تھا۔ لیکن جنگ کی وجہ سے یہ تنظیم سیاسی اہمیت کی حامل ہو چکی ہے۔ دنیا کی آبادی کا اکتالیس فیصد حصہ، ان ممالک کے باشندے ہیں جو دنیا کی کل جی ڈی پی کے، چوتھائی حصے کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے شہر، جوہانسبرگ میں ہونے والے پندرہویں سمٹ ( 22۔ 24 اگست ) میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم میں مزید ملکوں کو شامل کیا جائے۔ یکم جنوری دو ہزار چوبیس سے، چھ مزید ملکوں ؛ ایران، سعودیہ، یو۔ اے۔ ای، مصر، ارجنٹائن اور ایتھوپیا، کو شامل کیا جائے گا۔ جن ممالک نے اس بلاک میں شمولیت کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ ان میں الجزائر، بنگلا دیش، بحرین، بیلا روس، بولیویا، ہانڈیورس، انڈونیشیا، قازقستان، کیوبا، کویت، نائیجیریا، پاکستان، فلسطین، سینیگال، تھائی لینڈ، وینزویلا اور ویت نام شامل ہیں۔
کچھ ذرائع ابلاغ کی طرف سے پاکستان کا نام نہیں لکھا ہوا۔ لیکن جرمنی کے ایک فوکس نامی جریدے کے مطابق پاکستان بھی، اس تنظیم میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ اگرچہ اس جنوبی تنظیم کے اراکین ممالک کے آپس میں بہت سے اختلافات ہیں لیکن مشترکہ ایجنڈا، نیٹو ممالک کی اجارہ داری کو ختم کرنا، امیریکن ڈالر کی انحصاری کو کم سے کم کرنا اور تنظیم کے ممالک کی خود انحصاری کو فروغ دینا ہے۔ مغربی جی سیون ممالک کا، عالمی معاشی کارکردگی میں حصہ مسلسل گر رہا ہے جبکہ برکس کا انڈکس بڑھوتری کی طرف جا رہا ہے۔
اس تنظیم میں چین ایک طاقتور رکن کی حیثیت سے، سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ چین کا ہدف بیرونی سرمایہ کاری اور زیادہ سے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ دو ہزار پندرہ سے قائم، چین کے شہر شنگھائی میں واقع، نیو ڈویلپمنٹ بنک، عالمی بنک کی طرز پر، برکس ممالک کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے، فنانسنگ کرتا ہے۔ نیو ڈویلپمنٹ بنک کی ہیڈ، برازیل کی سابقہ حکمران، مسز دلماروسیف ہے۔ برکس کے پانچ اراکین کے علاوہ، مصر، یو۔ اے۔ ای، بنگلہ دیش اور۔ مستقبل قریب میں یوراگوئے، اس نیو ڈویلپمنٹ بنک کے ممبران ہیں۔ یہ بنک، اب تک تقریباً ایک سو منصوبوں کے لئے تینتیس بلین یو۔ ایس ڈالر کی مدد کر چکا ہے۔
روس کے صدر پیوٹن کی، بین الاقوامی کریمنل کورٹ کی طرف سے وارنٹ گرفتاری کی وجہ سے روسی وزیر خارجہ نے جنوبی افریقہ میں، ان کی نمائندگی کی تھی۔

