ذرا اس طرف بھی نگاہ فرمائیے


آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت پانچ دسمبر کو تاجروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس ہوا، ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اجلاس میں 50 سے زائد تاجران شریک تھے اسی اجلاس کے تناظر میں کراچی میں کور کمانڈر 5 کے ساتھ فالو اپ اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔

تاجران کے ساتھ اجلاس میں زیر بحث امور۔

تاجروں کے ساتھ اجلاس کا لب لباب، ہچکولیاں لیتی ملکی معیشت کو سدھارنا تھا۔

اجلاس میں ملکی معیشت کو دیمک کی طرح کھانے والے کرپشن پر بات چیت ہوئی اور ملک کو نقصان پہنچانے والے برآمدات پر غور کیا گیا۔ تاجروں کی جانب سے اس بات پر زیادہ زور دیا گیا کہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کے اسمگلنگ کے روک تھام ہو، بلوچستان سے ملحق ایرانی بارڈرز سے اسمگلنگ ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل نہ صرف بلوچستان بلکہ کراچی، اندرون سندھ اور پنجاب تک پہنچایا جاتا ہے ۔ بلوچستان کے حد تک اگر چشم پوشی کی جائے تو یہ قابل فہم ہے۔

کہ یہاں نہ کاروباری مواقع ہے اور نہ ہی روزگار، اس لیے یہاں کے باشندوں کا گزر بسر اور ذریعہ معاش ایرانی تیل پر منحصر ہے۔ ان کے محدود پیمانے پر کاروبار سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا کہ ان کی آڑ میں بڑے بڑے اسمگلرز اور مافیاز کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ مافیا جو کرپشن سے لے کر ٹیکس چوری، ایس او ایز کی نجکاری، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے میں ملوث ہیں وہ اپنی دولت کو مزید بڑھانے کے لیے سمگلنگ جیسے دھندے کو سر انجام دے رہیں۔

غریب بلوچ تو صرف حصول نان شبینہ کے واسطے اس کاروبار سے منسلک ہیں۔ جو محدود پیمانے پر بلوچستان کے ہی ایک علاقہ سے دوسرے علاقے یا ایک ضلع سے دوسرے اضلاع میں لے جاتے ہیں، یہ طبقہ وہ ہیں کہ جو ایرانی چھوٹی گاڑیوں میں چار ہزار کے قریب لیٹرز لے جاتے ہیں جو اسی علاقہ میں فروخت ہوتے ہیں۔ دوسرا طبقہ اسمگلرز مافیا ہیں ان کے پاس بڑی دس ویلر گاڑیاں اسی دھندا کے لیے تیار کئی ہوئی ہیں جن میں 65 ہزار سے 70 ہزار تک لیٹرز آتی ہیں، یہ گاڑیاں دو راستوں سے جاتی ہیں ایک بولان سے ہو کر سندھ اور پنجاب اور دوسرا راستہ پنجگور سے ہوتا ہوا نال خضدار سے ہو کر پھر ایم 8 شاہراہ استعمال کرتے ہوئے ہیں سندھ پہنچ جاتی ہیں، یہ مافیا انتہائی مضبوط ہیں، اور ان اسمگلنگ کرنے والوں کی پشت پناہی سیاسی شخصیات اور کچھ طاقت ور سمجھے جانے والے لوگ کر رہے ہیں۔

صرف خضدار میں ہر ایک سے گاڑی روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار تک وصول ہوتے ہیں۔ جو بیوروکریسی سمیت سیاستدانوں اور طاقت ور عناصر کی جیبوں جاتے ہیں۔ آرمی چیف کے احکامات کے باوجود ایرانی تیل بڑی گاڑیوں میں اب بھی خضدار سے اسمگلنگ ہو رہا ہے، یہ کوئی کوئی پوشیدہ نہیں بلکہ سرعام اور دن دیہاڑے ہو رہا ہے۔ محسوس یوں ہو رہا ہے کہ خضدار کے اسمگلرز کچھ زیادہ طاقت ور ہیں کہ اب تک ان کے خلاف کارروائی ہو سکی ہیں اور نہ ہی سمگلنگ کو روکا گیا ہے ۔

کیونکہ اس سے قبل بھی ان اسمگلرز کے خلاف کارروائی کی کوشش ہوئی لیکن ان کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکا۔ چار ماہ قبل یعنی 28 / 29 اپریل کی درمیانی شب ایف سی، قلات سکاؤٹس اور کسٹمز انٹیلی جنس نے خضدار میں ایک مشترکہ آپریشن میں یوریا کھاد اور چینی کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے حجر اسود ہوٹل کے قریب ایک گودام میں موجود تقریباً 600 ٹن چینی اور یوریا کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔

اس کے علاوہ ارباب کمپلیکس کے قریب نئی تعمیر شدہ مارکیٹ میں 34 دکانوں سے بھی چینی اور یوریا کی تقریباً 14000 بوریاں برآمد کر کے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ اسی طرح ایک ہفتہ بعد دو مختلف کارروائیوں میں پانچ ہزار کے قریب چینی کی بوریاں برآمد ہوئی تھیں لیکن حیرت انگیز طور پر اس دھندے میں ملوث شخصیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی دو ماہ کی خاموشی کے بعد پھر سے انہی شخصیات نے اسمگلنگ کا دھندا شروع کیا ہے۔ جو اب تک جاری ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خضدار کے اسمگلرز نہ صرف خضدار سے اسمگلنگ کر رہے ہیں بلکہ پورے بلوچستان میں اسمگلرز کو ہر ضلع کے انتظامیہ کے ساتھ لائن کر کے سہولت کاری بھی کر رہے ہیں جس کی مد میں روزانہ انہیں کروڑوں روپے مل رہے ہیں۔ جب تک خضدار سے براستہ ایم 8 شاہراہ سندھ سمگلنگ ہونے والے ایرانی تیل کے روک تھام نہیں ہوتا اس وقت یہ آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا ۔

گزشتہ دونوں انٹیلی جنس بیورو نے اسمگلنگ کے حوالے سے ایک رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس میں جمع کروا دی ہے، اس رپورٹ میں ایرانی تیل اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار کی تفصیلات ذکر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ 205 حوالہ ہنڈی ڈیلر پنجاب میں ہیں، کے پی میں 183 اور سندھ میں 176 ڈیلر حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرتے ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 104 اور آزاد کشمیر میں 37 ڈیلر حوالہ ہنڈی میں ملوث ہیں، وفاقی دارالحکومت میں 17 ڈیلر حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران سے پاکستان کو سالانہ 2 ارب 81 کروڑ لیٹر سے زیادہ تیل اسمگل ہوتا ہے، ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے سالانہ 60 ارب روپے سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں 76 ڈیلرز تیل اسمگلنگ میں ملوث ہیں جبکہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں 90 سرکاری حکام بشمول 29 سیاستدانوں کے ملوث ہیں۔ کراچی میں ایک نیوز کانفرنس میں بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی کنے اقرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی تیل سے 5 ارب مالیت کا بزنس بن گیا ہے۔ جبکہ کنسی اور ایرانی تیل کے حوالے سے کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حوالہ اور ہنڈی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، کوئٹہ کے ایک علاقے سے 1 کروڑ ڈالرز سے زیادہ ریکور کیے۔ نگراں وزیر اطلاعات بلوچستان نے مزید کہا کہ بارڈر مینجمنٹ پر کام کر رہے ہیں، ایرانی تیل 5 ارب مالیت کا بزنس بن گیا ہے،

لہذا اب اس بات کی اب اشد ضرورت ہے کہ سپہ سالار صاحب ایم 8 شاہراہ پر ہونے والے سمگلنگ کو بند کرنے کے احکامات صادر کریں اور ان طاقت سمجھنے جانے والے عناصر کو نشان عبرت بنائیں کہ جو عرصہ دراز سے اس دھندے میں ملوث ہو کر ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا چکے ہیں۔

Facebook Comments HS