فیک نیوز: ملک اور میڈیا کے لیے بڑا چیلنج


میڈیا ہم سب کو انفارمیشن فراہم کرنے کا ذریعہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کیا نہیں ہو رہا ہے۔ یہ بات میڈیا ہی بتاتا ہے کہ کیا اہم ہے اور کیا کم اہم ہے۔ کس بات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے اور کس انفارمیشن کے بارے میں عوام کو آگاہ نہیں کرنا ہے۔ میڈیا میں اس عمل کو ایجنڈا سیٹنگ کہتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیلنے والی فیک نیوز یعنی غلط خبر نے ایجنڈا سیٹنگ کے عمل کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے جہاں گیٹ کیپر یعنی ایڈیٹر کے خبر کی فوری تصدیق کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔

میڈیا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو نہ صرف ہم کو دنیا کے بارے میں آگاہی فراہم کرتا ہے جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا شامل ہے۔ میڈیا میں ایسے عمل کے دوران کیا مراحل درپیش ہوتے ہیں۔ ایجنڈا سیٹنگ کا مقصد ہے عوام کو اہم معاملات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے اور ایجنڈا سیٹنگ کے عمل کی مدد سے لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور لوگوں کو ایک دائرے کے اندر سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں میڈیا ایجنڈا سیٹنگ کے عمل سے ہی پبلک اوپینین یعنی مقبول بیانیے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔

بنیادی طور پر انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر اب انسان اپنی مرضی سے سوچ نہیں سکتا بلکہ ٹیکنالوجی اور میڈیا نے انسان کے سوچنے کے عمل کو بھی محدود کر دیا ہے۔ اب دنیا میں میڈیا اور ٹیکنالوجی سے جڑا انسان وہ ہی سوچے گا جو اسے کہا جائے گا۔ اس عمل سے میڈیا کے بڑھتی ہوئی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے لوگوں کی میڈیا کی مدد سے ہی ذہن سازی کرتے ہیں اور میڈیا سے آنے والی انفارمیشن کی مدد سے شہری اپنی رائے کا تعین کرتے ہیں۔

اگر آپ ٹیکنالوجی اور میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں تو آپ کی رائے کو آزادانہ رائے نہیں کہا جا سکتا مگر یہ بھی اس جدید دور میں ممکن نہیں کہ کے میڈیا سے جڑے بغیر آپ کوئی رائے قائم کر سکیں۔

میڈیا وہ آلہ ہے جو آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کی زندگی کے ہر عمل کو متاثر کرتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی مدد سے اب لوگوں تک رسائی آسان ہو گئی ہے جس کے باعث اب لوگوں کی ذہن سازی اپنے مقاصد حاصل کرنے لیے انتہائی آسان ہو گئی۔ میڈیا میں آنے والی خبروں اور کہانیوں سے عوام میں انفارمیشن کی بھوک پیدا کی جاتی ہے اور سنسنی خیزی کی عمل کی مدد سے انسان کو میڈیا بھرپور انداز سے متوجہ کرتی ہے۔ ایسے وقت میں میڈیا کا اثر کئی گنا بڑھ گیا ہے جس سے دنیا کے کسی ملک کی عوام میں اس ملک کی قیادت کے لیے نفرت پیدا کی جا سکتی ہے اور حکومتوں کو سبوتاژ کیا جا سکتا ہے۔ اب میڈیا کی مدد سے جنگیں جیتی اور ہاری جا سکتی ہے۔

ایجنڈا سیٹنگ کے عمل سے ہی میڈیا میں موجود کیٹ کیپر جن میں رپورٹر اور ایڈیٹر شامل ہوتے ہیں وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کور کرنا ہے اور کیا نہیں۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا چھاپا یا نشر کیا جا جائے اور کیا نہیں اور آخر میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا زیادہ اہم اور کیا کم اہم ہے۔

حقیقت میں میڈیا کے نیوز روم میں ہر روز بے تحاشا انفارمیشن پہنچتی ہے جس میں صرف چند فیصد خبریں نشر کی جاتی ہے اور باقی مواد کہیں رپورٹ نہیں ہوتا ہے۔ کم جگہ کے باعث تمام انفارمیشن کو چھاپنا یا نشر کرنا ممکن نہیں۔ اس وجہ سے ایجنڈا سیٹنگ کے عمل سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا چھاپا یا نشر کیا جائے اور کیا نہ چھاپا جائے یا نہ نشر کیا جائے۔

پہلے کے مقابلے میں ایجنڈا سیٹنگ کا عمل کافی مشکل ہو گیا ہے جس کی وجہ بے تحاشا انفارمیشن کا فلو ہے جو انٹرنیٹ کی مدد سے میڈیا تک پہنچ رہا ہے اور ایسے حالات میں ہر میڈیا کا ادارہ اپنی پالیسی وضع کرتا ہے اور اس پالیسی کے دائرے میں ایجنڈا سیٹنگ کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ ایجنڈا سیٹنگ کے عمل کے عمل کو سب سے زیادہ فیک نیوز یعنی غلط یا غیر تصدیق شدہ خبریں متاثر کرتی ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہو جاتی ہیں اور عوام میں ایک تاثر قائم کرتی ہیں۔

موجود انفارمیشن کے دور میں ایسی خبریں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں جس نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ نالج گیپ تھیوری کے مطابق پہلے انفارمیشن تک رسائی صرف ان لوگوں کو حاصل تھی جو پیسے والے یا امیر تھے اور جو انفارمیشن کے آلات یا وسائل یعنی کتب، ٹی وی یا ریڈیو خرید کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس وجہ سے وہ لوگ زیادہ باشعور کہلاتے تھے جب کے غریب لوگوں کو انفارمیشن تک رسائی نہیں تھی جس کے باعث وہ دنیا کے بارے میں کم جانتے تھے۔

اب ڈجیٹل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ سوشل میڈیا کی مدد سے دنیا کے ساتھ جڑ چکا ہے جسے ہر قسم کی انفارمیشن تک رسائی حاصل ہے جن میں امیر اور غریب بھی شامل ہیں۔ اب پاکستان میں لوگوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آگاہی حاصل کیونکہ اب وہ دنیا سے سوشل میڈیا کی مدد سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنے مسائل، روایات، نا انصافی اور حکومتی اداروں کی کوتاہی کو اجاگر کر رہے ہے۔ ایسے حالات میں جہاں پاکستان کی 67 آبادی نوجوان آبادی پر مشتمل ہے کو کیسے قومی ادارے میں لاکر ملک کے لیے اثاثہ بنایا جا سکتا اور ان کی ذہن سازی حب الوطنی اور قومی بیانیے سے کی جا سکتی ہے۔

آج کا نوجوان انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا سے جڑا ہوا ہے اور کم علمی کی وجہ سے بعض اوقات ملک دشمن عناصر کی پروپیگنڈا کا شکار ہو رہا۔ ایسے حالات میں ملک کی بہتری کے کے لیے سب سے اہم کام فیک نیوز کو بے اثر کرنا ہے جسے صرف اور صرف فوری طور پر ردعمل کی مدد سے حقیقت کو اجاگر کر کے بے اثر اور تیزی سے پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔

بدقسمتی سے فیک نیوز ہماری نیشنل میڈیا کو بھی متاثر کرتی ہے جس کی وجہ غلط خبریں میڈیا پر بھی نشر ہو جاتی ہے جس کے باعث ایسی غلط خبروں کا پھیلاء تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں میڈیا میں فیک نیوز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور شہریوں کو بھی فیک نیوز تصدیق کر کے آگے بڑھانے کے بارے میں مشورہ دیا جا سکتا ہے مگر بات یہ ہے کہ اگر کوئی فیک نیوز تیزی سے پھیلنے لگے تو عوام یا میڈیا اس خبر کی فوری تصدیق کیسے اور کہاں سے کرے کیوں کہ پاکستان میں ایسا کوئی موثر ادارہ یا ڈجیٹل پلیٹ فارم موجود نہیں ہے جو بروقت فیک نیوز کی گردش کو بے اثر کرنے کے لیے فوری طور پر حقائق کو اجاگر کرے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے فیک نیوز کو بروقت بے اثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے فیک نیوز کی گردش کم ہو جاتی ہے اور جب فیک نیوز کی بروقت حقیقت اجاگر نہیں ہوتی تو ایسی خبریں تیزی لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی جن میں بڑی تعداد میں ملک کی نوجوان آبادی شامل ہوتی ہے۔

دنیا میں ترقی یافتہ ممالک فیک نیوز کے لیے ایسے پلیٹ فارم بنانے میں لگے ہوئے جو تیزی کے ساتھ فیک نیوز کو غلط ثابت کرے اور اس خبر کے اصل اور صحیح کانٹینٹ کو اجاگر کرے تاکہ تیزی سے پھیلتی غلط خبر کو روکا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بعد عام آدمی اور نیوز اداروں کے لیے کسی خبر، تصویر یا وڈیو کی حقیقت معلوم کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی شخص کے آواز سے لے کر وڈیو کو ایسے بنایا جاسکتا ہے جو حقیقت کے انتہائی قریب لگتی ہے۔

ایسے حالات میں سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وڈیو سے ممالک کے درمیان تنازعہ اور کشیدگی کو جنم دیا جا سکتا ہے جسے روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فیک نیوز کو بنانے اور اسے تیزی سے پھیلانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے بوٹ کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں جب دنیا کی بڑی آبادی انٹرنیٹ اور میڈیا کے ذریعے جڑی ہوئی ہو وہیں فیک نیوز کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان فیک نیوز کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے کیونکہ فیک نیوز کی مدد سے شہریوں میں تشویش، غیر یقینی اور غصے کو پر واں چڑھا کر ملک کے وقار کو نقصان پہنچایا گیا۔

ایسے حالات میں حکومت کو فیک نیوز کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ایسا پلیٹ فارم جوڑنا چاہیے جس کی مدد سے غلط خبروں کی بروقت تصدیق ممکن ہو۔ ڈجیٹل یا سوشل میڈیا پر نگرانی کی مدد سے ہر اس خبر پر نظر رکھنی ہوگی جس کا بنیاد فیک نیوز یعنی غلط خبر ہو اور ایسی خبر کے بارے فوری اصل حقائق کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے اور اس غلط خبر کے بارے میں حقائق سوشل میڈیا پر جاری کیے جائیں۔ اس عمل سے تیزی سے پھیلتی خبر کو روکا جا سکتا ہے۔

عوام کو بھی ہر غیر تصدیق شدہ خبر کی تصدیق کے باری میں اس پلیٹ فارم پر جاکر حقائق معلوم کرنے کی ترغیب دی سکتی ہے اور بغیر تصدیق غلط خبر کو پھیلانے سے روکا جا سکتا ہے۔ آج کے جدید دور میں نالج گیپ تھیوری کا رول کافی کم ہو گیا ہے جہاں دنیا کی زیادہ آبادی انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے وہیں انفارمیشن تک رسائی ہر اس انسان کی ہے جو انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے۔

فیک نیوز کو اس وقت پر لگ جاتے ہیں جب حکومتی سطح پر اس خبر کی فوری تصدیق نہیں ہوتی اور اس دیر کا فائدہ ان عناصر کو ہوتا ہے جو فیک نیوز کی مدد سے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اداروں اور پولیس کے سوشل پلیٹ فارم زیادہ تر اپنے اداروں کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہیں جو اچھا عمل ہے تاہم انہیں بھی فیک نیوز کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فیک نیوز آج کے دور کا بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط انتظامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میڈیا کے ادارے ایجنڈا سیٹنگ کے عمل میں صرف ان خبروں کو ترجیح دیں جو حقیقت پر مبنی ہو۔ اگر سوشل میڈیا پر غلط خبر پھیلانے کی کوئی کوشش کرے تو اس کی اصل حقیقت کے بارے میں میڈیا عوام کو حقائق پر مبنی آگاہی فراہم کر کے اپنا مثبت اور پیشہ ورانہ کردار ادا کر سکتا اور اس طرح ہی فیک نیوز کے اثر کو بے اثر کرنا ممکن ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments