فیصلوں کا مرکز و منبع


ہاسٹل میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو جاننے ’جانچنے‘ پرکھنے ’کھوجنے‘ بوجھنے کے خوب مواقع ملتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں ’خوبیوں‘ اچھائیوں ’برائیوں‘ خامیوں ’کجیوں‘ کوتاہیوں کا ادراک بھی ہوتا رہتا ہے۔ مختلف علاقوں سے منفرد نفسیات ’منفرد سوچ کے حامل اور منفرد اہداف و مقاصد لئے ہم جنسوں کے درمیاں رہنا اپنے آپ میں ایک منفرد اور اچھوتا تجربہ ہے۔ بات کرنے‘ بات سمجھانے اور بات پہنچانے کا فن سیکھنے کا آغاز بھی یہیں سے ہوتا ہے۔ درسی اور نصابی سرگرمیوں کے ساتھ اگر مثبت اور صحتمندانہ غیر نصابی سرگرمیوں کا بھی موقع مل جائے تو شخصیت کے نہاں پہلو بہتر طریقے سے اجاگر ہو سکتے ہیں۔

جامعہ (یونیورسٹی) میں کئی تنظیمیں طلباء کی فلاح اور فائدے کے لئے کام کرتی ہیں۔ ان سب کا مقصد طلباء کی توانائی اور صلاحیتوں کو مثبت سمت دینا اور انہیں معاشرے کے لئے مفید شہری بنانا ہے۔ طلباء میں قربانی ’ایثار اور دوسروں کی مدد جیسے جذبے کو ابھارنے کے لئے بھی خاطر خواہ اہتمام کیا جاتا ہے اور سب سے اہم کردار ہماری دینی جماعتیں ادا کرتی ہیں جو اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ طلباء اپنی دنیاوی تعلیم اور دنیاوی نقطہ نظر کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصل اخروی اور زندگی کے دینوی پہلو سے اس قدر بے بہرہ نہ ہو جائیں کہ فیصلوں کی قدرت اور اختیار رکھنے والے کے ہاں ان کی‘ پھٹی ہی پوچ ’دی جائے۔

قریباً دو دہائی قبل کی بات ہے کہ گرمیوں کی واپسی کا موسم تھا ’جمعرات کا دن تھا۔ جیسے جلتی لاٹ بجھنے سے پہلے پوری قوت سے پھڑپھڑاتی ہے‘ بجھنے سے قبل شعلہ ایک دفعہ بھرپور روشنی دینے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ گرمی بھی شاید اسی لاٹ کی نقل کرتی ہے ’جانے سے پہلے ایک دفعہ پورا زور لگاتی ہے کہ کوئی ذی روح اس کے فیض سے رہ تو نہیں گیا۔ اس حبس والے موسم میں ایک جگہ سے دوسری جگہ‘ ایک بندے سے دوسرے بندے تک کی تگ و دو جاری تھی۔ کبھی بات بنتی تھی تو کہیں بگڑتی تھی۔ گفتگو کچھ پائیدار ہونے لگتی تو کبھی کوئی اور لچ فرائی ہو جاتا یا کہیں اور سے کوئی اور امید افزا پیغام مل جاتا۔

اسی بھاگ دوڑ میں ایک فرشتہ صورت مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا۔ نظر بھی کیا آیا بلکہ وہ صاحب لپکتے جھپکتے جیسے میری ہی تلاش میں تھے۔ ایک لمحے کو لگا کہ اللہ کی طرف سے غیبی مدد آن پہنچی ہے۔ بہت سوچا لیکن علامہ کا وہ شعر یاد نہیں آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج بھی فرشتے اتر سکتے ہیں۔ نا تب یاد آیا تھا اور نہ ہی اب یاد آ رہا ہے۔ خیر اب اپنی یادداشت کو کیا کہنا۔ ان صاحب کو لگا کہ ہم اپنی سوچوں میں غلطاں نہیں بلکہ وہاں سے فوراً رفوچکر ہونے کا کوئی بہانہ سوچ رہے ہیں تو انہوں نے دور ہی سے آواز دے کے پاؤں میں بیڑی پہنانی ضروری خیال کی۔

چونکہ بیڑی ڈل چکی تھی ’لہذا قدم کہیں اور اٹھنے سے قبل ہی ڈھل گئے تھے۔ نہایت گرمجوشی سے مصافحہ اور معانقہ ہوا اور بڑی لجاجت سے انہوں نے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت مانگا۔ چھوٹتے ہی کہا کہ حضرت جی! آج تو بہت اہم مصروفیت ہے‘ مہربانی فرمائیں تو آج کے دن کی رخصت دے دیں۔ پوچھنے لگے ایسا کیوں۔ تو لہجے کو گلوگیر بناتے ہوئے بتایا کہ حضرت جی! آپ کے امتحانی معاملات ہوں ’ہاسٹل کے کمروں کا مسئلہ ہو‘ روپوں پیسوں کا لین دین ہو ’نوکری کا کوئی اندیشہ ہو ایسے سب ملتے جلتے مسائل کے فیصلے اوپر (اللہ) کی طرف سے ہوتے ہیں۔ کہنے لگے تو آپ کے کہاں سے ہوتے ہیں۔ برجستہ جواب نکلا کہ ہم جیسوں گناہ گاروں کے فیصلے زمین پہ ہوتے ہیں کہ سب بھاگ دوڑ خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ اللہ جانے جواب سے مطمئن ہوئے یا اپنی تعریف پہ۔ مسکراتے ہوئے رخصت قبول کر لی۔

فیصلے سب کے آسمان والا (اللہ) ہی کرتا ہے ’بس کچھ لوگوں کو سمجھ عطا فرما دی جاتی ہے کہ فیصلوں کی مرضی و منشا‘ حکمت اور فیصلہ سازی کے عمل کو جان سکیں۔ وہ اپنی ساری قابلیت ’ساری اہلیت‘ اپنا سارا زور لگانے کے باوجود بھی اس رحمان کی رحمت اور اس کریم کے کرم کے متمنی رہتے ہیں۔ اس کے برعکس بعضوں کو چکی (مشقت) کے پاٹ میں ڈال دیا جاتا ہے تا کہ اپنے زور بازو کی داد و تحسین اور اپنی دانست کے زعم میں ہی خوش رہیں اور فیصلوں کے اصل مرکز و منبع کو بھول جائیں۔ ایسے بھولنے والوں ہی کی پھر آخرکار ’پھٹی پوچ‘ دی جاتی ہے

Facebook Comments HS