برینڈا، لاہور اور گرین کارڈ
آج کا انسان اس کمپیوٹر کے دور میں اپنی زندگی کے تمام امور، یادداشتیں، روز مرہ کے دوسرے معاملات سب کچھ کمپیوٹر اور موبائل کے سپرد کر کے خود کو ہر طرح کی بندشوں سے آزاد کرنے کے درپے ہے۔ اب تو کاریں بھی خودکار ڈرائیونگ کی بنیاد پر مارکیٹ میں موجود۔ محو حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔
1983 کی گرمیوں کی بات ہے میں شکاگو میں مقیم تھا۔ روزویلٹ یونیورسٹی کی دس منزلہ عمارت جھیل مشی گن کے عین سامنے، اور درمیان میں بہت خوبصورت تفریحی پارک جس میں مختلف اقسام کے درخت اور رنگ برنگے پھول اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہوئے، اور پارک کے وسط میں ایک بہت انچائی تک بلند ہوتی پانی کی دھار، رنگ برنگے قمقموں سے مزین، رومانوی ماحول پیدا کرتا ہے۔ گرمیوں میں سرے شام خوب چہل پہل ہوتی ہے۔
میرا گرمیوں کا سمیسٹر شروع ہو چکا تھا۔ اور کلاسز شام میں ہوا کرتی تھیں۔ میری کمپیوٹر کلاس منگل اور جمعرات کو ہوتی تھی۔ اس کلاس میں چند لڑکے اور دو لڑکیاں بھی تھیں۔ ایک لڑکی شکل و صورت سے دو تہذیبوں کا امتزاج لگ رہی تھی۔ دوسرے ہفتے میں میں کمپیوٹر پر اپنی اسائنمنٹ کر رہا تھا کے اچانک ایک نسوانی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ”کیا آپ میری اسائنمنٹ میں کچھ مدد کر سکتے ہیں“ ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
اس نے اپنا تعارف جولی سے کرایا اور میں نے بھی اپنا نام بتا دیا۔ وہ برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اور کمپیوٹر کی پہلی مشق اسے سمجھا دی۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ ایک دن کے بعد پھر کلاس شروع ہوئی تو جولی میرے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ ہم نے اپنی اسائنمنٹ مکمل کی، اسی دوران جولی نے مجھ سے پوچھا ”کیا تم لاہور سے ہو“ ؟ میں لاہور کا نام سن کر چونک گیا۔ میں نے بتایا کہ لاہور سے تو نہیں البتہ لاہور میرے شہر سے زیادہ دور بھی نہیں۔
پھر میں نے تھوڑے سے توقف کے بعد پوچھا کہ تم لاہور کے بارے میں کیا اور کیسے جانتی ہو۔ اس کے چہرے پر ایک عجب سی اداسی نمودار ہوئی۔ میں نے فوراً معذرت کی اور میرے سوال سے کچھ دکھ پہنچا ہو تو دلی معذرت۔ کہنے لگی، ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں“ ۔ میں نے خاموشی اختیار کی کہ ابھی زیادہ جان پہچان بھی تو نہیں تھی۔ کلاس ختم ہونے پر ایک دوسرے کو اچھی خواہشات کے ساتھ الوداع کہا۔
اگلے ہفتے پھر کلاس میں ملاقات ہوئی اور اس بار کلاس کے بعد ریلوے سٹیشن تک ساتھ چلتے رہے، اور راستے میں اس نے اتنا بتایا کہ اس کے باپ کا تعلق لاہور سے ہے۔ مجھے تو جیسے 220 وولٹ کا کرنٹ لگ گیا۔ میرے منہ سے بے اختیار ”کیا“ نکلا۔
اسی دوران ہم ٹرین سٹیشن تک پہنچ چکے تھے۔ اپنی اپنی ٹرین میں سوار ہو کر رخصت ہوئے۔ اگلی کلاس میں پھر سے ملاقات ہوئی تو کہنی لگی کہ میں نے اپنی امی سے تمہارا ذکر کیا اور میری امی تم سے ملنے کی متمنی ہے۔ میں نے اس کی دعوت کو خوش دلی سے قبول کرنے سے پہلے اسے بتایا کہ مجھے تمہارے چہرے میں نہ جانے کیوں پاکستان کی چمک نظر آئی لیکن پوچھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ اس کے چہرے پر خوشی کی جھلک، مسکراہٹ میں لاہور کی روایتی مسکراہٹ کا عنصر اور امریکا کی خوبصورتی کا اچھوتا امتزاج شامل تھا۔
دو دن بعد ویک end تھا اور ہفتے کی دوپہر دیے ہوئے پتہ پر اس کے گھر پہنچ گیا۔ دروازے پر لگی اطلاعی گھنٹی بجائی، اور جولی نے میرا خوش دلی سے استقبال کیا۔ برینڈا، جولی کی امی بھی ساتھ ہی موجود تھی۔ گھر میں داخل ہوا اور مہمانوں کے بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھنے کے لیے کہا، برینڈا کے چہرے پر خوشی کے ساتھ کچھ اداسی کے تاثرات بھی تھے جو شاہد اس کے ماضی کی یادوں کی غمازی کر رہے تھے۔
رسمی سلام دعا کے بعد ہم کھانے کی میز پر بیٹھ گئے۔ جولی نے تازہ گرم کافی اور کچھ دوسرے لوازمات کا انتظام کر رکھا تھا۔ راج، جولی کا چھوٹا بھائی بھی شریک گفتگو ہو چکا تھا۔ میں نے مختصراً اپنا تعارف کرایا اور حصول علم کی خاطر سفر امریکا کے بارے میں بتایا۔ برینڈا نے بھی بہت اختصار سے رمیش دت کے بارے میں بتایا۔ چوں کہ پہلی ملاقات تھی، تو میں نے زیادہ تفصیل پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اور ایک اور ملاقات کے وعدے کے ساتھ رخصت چاہی۔
چند ہفتوں کے بعد ویک end پر پھر سے جولی کے گھر ملنے گیا اور اس بار تکلف بھی نہیں رہا تھا۔ رسمی سلام دعا کے بعد ہم ملاقاتی کمرے میں بیٹھ گئے۔ جولی نے کافی سے تواضع کی۔ اور مزید کسی جھجک کے میں نے برینڈا سے رمیش دت سے ملاقات کی داستان سنانے کی درخواست کی۔ برینڈا نے خلا میں دیکھا اور پھر گویا ہوئی۔
یہ 1960 کی دہائی کی بات ہے میں ہائی اسکول ختم کر چکی تھی، روشن مستقل کے سپنے لئے کالج میں داخلہ لیا۔ برینڈا ٹھہر ٹھہر کر بڑے سکوں سے اپنی داستان سنا رہی تھی، کبھی کبھی چہرے پر ایک کرب ایک دکھ ایک اداسی کی لہر ابھرتی تھی جسے صرف محسوس کیا جاسکتا تھا۔ ساتھ ساتھ گرم گرم کافی کی چسکیاں بھی جاری رہیں۔
برینڈا نے بات کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ کالج میں اس کی ملاقات رمیش دت سے ہو گئی۔ بہت خوبصورت جوان تھا، بائیس تئیس سال کی عمر تھی۔ اور پھر رفتہ رفتہ ہم ایک دو سسرے کے بہت قریب آ گئے۔ سچ تو یہ کہ میں اپنا دل اس پر نچھاور کر بیٹھی۔ بہت خوبصورت شکل و صورت، خوش اخلاق اور بہت اچھی عادات کا مالک تھا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہماری دوستی محبت میں ڈھل گئی اور ہم نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک سنڈے ہم چرچ میں چلے گئے اور شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ رمیش دت اکثر لاہور کے قصے بھی سناتا تھا۔ وقت پنکھ لگا کر اڑتا رہا، ہم دونوں نے اپنی اپنی تعلیم بھی مکمل کرلی۔ رمیش کو اچھی نوکری بھی مل گئی۔ اسی دوران جولی ہماری زندگی میں شامل ہو گئی۔ دو سال بعد راج کی آمد سے ایک مکمل گھرانا بن چکا تھا۔
پھر خوشگوار زندگی میں ایک تلاطم نے سر ابھارنا شروع کر دیا۔ رمیش مجھ سے اکثر تکرار کرنے لگا، شراب بھی حد سے تجاوز کر کے پینے لگا، نشہ میں مجھ سے الجھنے لگا۔ اور پھر ایک دن رمیش ہمیں چھوڑ کر کہیں غائب ہو گیا، بہت کوشش کی، لیکن اس کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ برینڈا کی آنکھوں سے ساون بھادوں کی جھڑی پھوٹ رہی تھی۔ میں بھی بہت افسردہ ہو چکا تھا۔ ماحول میں افسردگی تھی۔ برینڈا کی باتوں میں اتنا مگن تھا کہ باہر کے موسم کا بھی اندازہ نہیں ہوا۔
کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو چھم چھما چھم بارش ہو رہی تھی، شاہد اسمان بھی اپنے آنسو برینڈا کے آنسوؤں میں شامل کر چکا تھا۔ برینڈا نے بتایا کہ رمیش کے رویہ میں تبدیلی اسے امریکی شہریت ملنے کے بعد ہوئی۔ شاہد اسے نہ مجھ سے محبت تھی نہ اپنے بچوں سے، بلکہ صرف امریکی شہریت سے۔ برینڈا کی آواز بھرا چکی تھی۔ اس کے چہرے کا کرب اور درد دیکھنے کی مزید سکت مجھ میں بھی نہیں تھی کہ میری آنکھیں بھی نم تھیں۔
جولی کی زبانی پھر تینوں پر جس طرح مشکلات آئیں اور مل کر سامنا کیا سن کر دکھ ہوا۔ جولی نے ہندو دھرم چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لی تھی۔ اور اپنا نام جوہی دت سے جولی رکھ لیا تھا۔ کچھ وقت کے بعد جولی نے بتایا کہ امی نے ایک اطالوی باشندے سے شادی کر لی تھی۔
میں سوچتا رہا کہ ہم انسان بھی کتنے خود غرض ہوتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی دنیاوی خواہشات کی خاطر انسانوں کے دلوں اور زندگیوں سے بھی کھیلنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ایک گرین کارڈ کی خاطر کسی کی امنگوں کا خوں کر دیتے ہیں۔ بچوں کا روشن مستقبل اندھے کنویں کی نظر کر دیتے ہیں۔ اہ یہ انسانی فطرت میں حیوانی جبلت۔
کیا واقعی ہم انسان ہیں؟


