سانحہ جڑوانوالہ کے بعد نفسیاتی مسائل
جوزفین نے روتے ہوئے کہا ”میں چاہتی تھی اس وقت اپنے بچوں کو دوبارہ اپنے پیٹ میں چھپا لوں، اس نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا“ مجھے کچھ بھی ہو جائے لیکن میرے بچوں کو کچھ نہ ہو ”۔ وہ جڑانوالہ میں گورنمنٹ ٹیچر تھی اس نے اپنے شہر کے بچوں کو پڑھایا تھا اس نے کہا مجھے لگا شاید وہ لوگ مجھے اس بات پر ہی معاف کر دیں کہ میں اس شہر کے بچوں کو بولنا سکھایا ہے۔ اس نے آہ بھری اور کہا میرے وطن میں کچھ بھی میرا نہیں۔ وہ بتاتے ہوئے پھر رونے لگی۔ جوزفین نے کہا“ دکھ زیادہ اس بات کا تھا کہ ہم میں انسانیت نہیں رہی، گھر ایک مکان ہے پھر بن جائے گا چیزیں جو جل گئیں پھر بن جائیں گی لیکن وہ وہ چیز جو اندر سے ٹوٹ گئی ان کو جڑنے میں وقت لگے گا۔ وہ بھروسا کہاں سے لائیں۔ وہ محبت اور احترام کہاں سے لائیں ’‘ ۔
ایک اور عورت جس کا گھر ابھی تک جلا ہوا تھا اور دیواروں پر ستم ظریفی کے آنسو صاف نظر آرہے تھے نے روتے ہوئے کہا ”میرے بچے اب یہاں نہیں رہنا چاہتے حالانکہ یہ گھر ان کے باپ کا ہے ان کے دادا ہے۔ اس نے کہا میرے بچوں کو یہاں نیند نہیں آتی وہ سانحہ کے دن سے آج تک ٹھیک سے سوئے نہیں۔ میں اپنے بچوں کو بہت سمجھاتی ہوں کہ بیٹا سو جاؤ لیکن بچے کہتے ماما وہ پھر ہمارا گھر جلا دیں گے۔
پھر دوسرے علاقے میں جب ایک خاتون سے بات ہوئی تو اس نے کہا میرے بچے سکول نہیں جاتے وہ ڈرے ہوئے ہیں۔ اس کے چھٹی جماعت کے بچے نے کہا ہمیں سکول میں ڈر لگتا ہے سکول میں ہمارے ساتھ برا سلوک ہوتا۔ وہاں بچے ہمیں کافر کہتے ہیں۔
ہم جب شہر کے بیرونی علاقوں میں ایک علاقہ میں گئے تو وہاں کچھ لوگوں نے کہا ”ہمارے ہمسائے ہمارے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ لوگوں نے خود ہی ڈرامہ کیا ہے تاکہ حکومت کی ہمددردیاں لے سکیں“ آپ لوگوں نے امداد لینے کی خاطر ایسا کیا ہے۔ مزید کہا ہمارے لوگوں کو نوکریوں سے نکال دیا ہے اور ہمیں تنگ کرتے ہیں۔ وہ کہتے جاؤ انہی سے لو جو ٹرک بھر بھر کر سامان لا رہے ہیں۔
سانحہ جڑانوالہ کے بعد ایک عجیب خوف و ہراس کا ماحول ہے لوگ سہمے اور ڈرے ہوئے ہیں لوگوں کو اب انتہاپسندوں کے ساتھ اپنے ہمسائیوں سے بھی ڈر لگتا ہے یہی وجہ ہے جڑانوالہ واقعہ کے بعد اور بھی بہت سے علاقوں سے لوگوں کے گھر چھوڑ کر بھاگ جانے کی خبریں ملی ہے۔ فیس بک پر اگر کوئی ایک جھوٹی سچی خبر سن لیتے ہیں تو گھربار چھوڑنے کا سوچتے ہیں۔ جڑانوالہ کے مسیحی خود کو بے بس، لاچار اور بالکل غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو انصاف ملنے کی بجائے ان کے لوگ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ وہ پہلے صدمے سے ہی نہیں نکلے اب ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔
ہم جب لوگوں کو مل رہے تھے تو وہ چہروں سے کوئی نفسیاتی مریض جیسے لگ رہے تھے، ان کو کہنا تھا کہ اب ہمیں اپنے گھروں اور علاقوں سے خوف آتا ہے مسجد سے اذان ہوتی ہے تو خوف محسوس ہوتا ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا۔ دکاندار ہمیں روز مرہ کی چیزیں نہیں دیتے، سبزی والا سبزی نہیں دیتا۔ وہ ہمارے پیسوں کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ جس دیس میں ہمارے پرکھوں نے ساتھ زندگیاں گزاریں تھی اب وہی اپنی بیگانے دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں شاید ہم نے اسائلم کے لیے ایسا کیا ہے ہمیں تو اس لفظ کا بھی پتا نہیں۔ بہت سے کہانیاں تو ہمیں دوسرے لوگوں سے پتا چلتی ہیں۔ اگر ہم اپنے رشتہ داروں کے پاس جائیں تو وہ ہمیں دو دن سے زیادہ اپنے پاس مہمان نہیں رکھتا ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں۔ کیونکہ جو بیمار تھے وہ مزید بیمار ہو گئے ہیں اور خوشی اور ہنسی جیسے صدیوں سے ہمارے چہروں سے روٹھ چکی ہے۔
ایک خاتون نے کہا۔ ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے شاید خدا ہم سے ناراض ہے جو ہم ایسے ذہنی تکلیف کا شکار ہو گئے ہیں۔ اے خدا ہمیں معاف کردے۔ یا ہماری جان لے لے کیونکہ ذلت اٹھاتے اٹھاتے ہم تنگ آ گئے ہیں۔


