ایک کہانی سو روپ


amjad mumtaz khawaja
ایک کہانی کے سو ہی روپ کیوں ہو سکتے ہیں، اس کا پتہ ایک سو صفحات پر مشتمل نبیل احمد کی روپ کہانی پڑھ کر ہو سکتا ہے۔ پہلے ورق سے لے کر آخری جملے تک جو چیز قاری کو اپنے سحر میں جکڑ کے رکھتی ہے وہ محبت کی ایسی پھوار ہے جس میں بھیگا رہنا ہر کسی کو اچھا لگتا ہے۔ ہر دوسرے صفحے کے نیچے لکھی تاریخ اور مقام سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ محبت کی بیاض کو بہت محنت سے ترتیب بھی دیا جا رہا ہے اور اس فسانے کو خلقت شہر تک پہچانے کی مکمل تیاری کی جا رہی ہے تاکہ محبت کا یہ سفر زبان زد عام ہو جائے اور نہ صرف یہ کہ ہر کسی کی زبان پر ہو پہ کتابی شکل میں بھی موجود ہو۔

گویا یہ کردار نہ صرف محبت کی آبیاری کر رہے ہیں بلکہ فن تحریر کی پرورش کا ذمہ بھی لے رہے ہیں۔ پرورش لوح و قلم کا ارادہ ہر سچا فنکار کرتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ محبت کے تجربے سے بھی گزر رہا ہو تو بات کچھ انوکھا اثر رکھتی ہے۔ آج سے نصف صدی پہلے کے عشق ناکامی اور نامرادی کے بعد مشق تحریر کچھ یوں شروع کرتے تھے کہ۔ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

لیکن ہماری پاکیزہ، روحی، صبوحی، روپا، گڑیا، سوہنی، نوخیز، بانو، زندگی، آشا، ماہ رخ، خوشبو، خزینہ، مدھورانی، درصدف، دلآویز، آرزو، نرجس، ثوبیہ، ابتہاج حمنہ، مدحت، ملیحہ، ردا، کرن، زیبا اور ثوبیہ کو بہرحال داد دینی پڑے گی کہ وہ محبت کرنے اور اظہار عشق کے معاملے میں کسی جھجک کا شکار نہیں ہیں یعنی۔ جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔

اتنے سارے نام پڑھ کر آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ یہ کسی کلاس روم کی حاضری ہرگز نہیں بلکہ ہر کہانی کا عنوان ہے۔ انہی کہانیوں کے بیچ ایک کردار محترم کا بھی نظر آتا ہے جنہیں کسی جانب سے محبت کا جوابی خط بھی موصول ہوا ہے۔ اب یہ کس نے لکھا ہے معلوم نہیں، کیونکہ کسی خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ سب نام کوئی ایک کردار بھی ہو سکتا ہے جس کی درجنوں شکلیں ہوں۔ کم ازکم پاکیزہ، روحی اور ملیحہ سے جو روپ ذہن پہ بنتے ہیں ان سے ایسے ہی لگتا ہے۔ یہ تمام محبت کے خطوط یا کہانیاں دو برس کے دوران مکمل ہوئیں اور ان کے تبادلے کے دوران ہی ان کے کتابی شکل میں آنے کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ مصنف کو داد دینا ہو گی کہ انہوں نے یہ سب باتیں کرتے ہوئے بھی محبت کی عادت ترک نہیں کی بلکہ کتاب کی اشاعت کو بھی کردار کے پیار کی تکمیل ہی سمجھا۔

محبت یوں تو خود کو گردوپیش سے بے خبر کرنے کی ایک عارضی کیفیت کا نام ہے لیکن ان کہانیوں کے کردار اپنے خطوط میں آج کے دور کی سماجی ناہمواریوں، اخلاق باختگی، لاقانونیت اور جنسی بے راہ روی کا تذکرہ بھی کرتے ہیں اور شمال ( جس میں آزاد کشمیر کے کئی شہر بھی شامل ہیں ) کے کئی خوبصورت مقامات کا نقشہ بھی کھینچنے ہیں۔

یوں اس کتاب میں رحیم گل کی جنت کی تلاش کا عکس بھی نظر آتا ہے اور راجہ انور کے جھوٹے روپ کے درشن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔

نبیل احمد کی زبان ادبی، رومانوی اور شاعرانہ ہے اور قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ درجنوں مقامات پر کہانیوں کے کرداروں کو محنت، دیانت، مستقبل اور عملی زندگی کے حقائق کے بارے میں بہت کچھ بتایا گیا ہے جس سے کلاس روم کا تاثر ملتا ہے۔ بانو قدسیہ کی راجہ گدھ سے لے کر اے حمید کے زرد گلاب جیسا یہ ماحول میری عمر کے قاری کو ماضی کے خواب دکھا تا ہے جو ایک خوبصورت مشق ہے۔

Facebook Comments HS