ڈاکٹر خالد سہیل اور گرین زون نفسیات


ہماری زندگی میں کچھ لوگوں کی خاص اہمیت اور ہماری بہتری میں ان کا کردار تو ضرور ہوتا ہے لیکن اکثر ہم دیر کر جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم انھیں ان کے کردار کی اہمیت کا احساس دلا سکیں یا تو کہیں ہم باقی نہیں رہتے یا وہ دور ہو جاتے ہیں۔ میں نے اب شعوری طور پر یہ کوشش جاری رکھنے کا سوچا ہے کہ جن لوگوں سے میں نے کچھ اچھا سیکھا اور پایا میں اس سیکھ کا وقت پر اظہار کروں گی اور تہہ دل سے شکریہ ادا کروں گی۔

شکریہ ادا کرنے کی عادت بھی میں نے انھی شخصیت کے گرین زون فلسفے سے سیکھی ہے جن کے متعلق یہ تحریر ہے۔

میں ٹین ایج سے ہی کسی نہ کسی پیلٹ فارم سمیت فیس بک پر لکھتی آ رہی ہوں۔ 2020 میں جب ہم سب پر لکھنا شروع ہوئی تو ڈاکٹر سہیل کی تحریروں کو منتخب کردہ اور زیادہ پڑھی جانے والی تحریروں میں پایا۔ انسانی نفسیات سے میرا لگاؤ پرانا ہے۔ ڈگری سوشیالوجی کی ہے مگر انسانی نفسیات کی باریکیوں کو اپنے طور پر کبھی کتابوں سے تو کبھی انسانوں کے رویوں سے پڑھتی رہتی ہوں۔ اس لیے نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی طرف جلدی متوجہ ہو جاتی ہوں۔

ماضی میں کئی مرتبہ جلدی متوجہ ہو جانے نے مجھے مایوس بھی کیا۔ جب نفسیات کے گریجوایٹس کو پریکٹیکل زندگی میں ایسی تھیوری فٹ کرتے دیکھا جو بالکل بھی پریکٹیکل نہیں تھی۔ کہیں ”ماہرین نفسیات“ کو اپنے پاس آنے والوں کو بری طرح ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے تنقید کرتے ہوئے بھی دیکھا تو کہیں ایک ہی فارمولا ہر مریض پر تھوپنے والوں کو دیکھا۔

ڈاکٹر سہیل میں جو پہلی متاثر کن بات مجھے لگی وہ ان کا ایک غیر روایتی ماہر نفسیات ہونا تھی۔ وہ میڈیکل ڈاکٹر بھی ہیں مگر نفسیاتی علاج میں ادویات بہت کم اور شفقت اور دانائی کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ہر مریض ایک ادھورا ناول ہے۔

2020 میں میں نے ڈاکٹر سہیل کی کتاب Creative Minority کو پڑھ کر اس پر تحریر لکھی۔ اس کے بعد میرا ڈاکٹر سہیل سے رابطہ شروع ہوا۔ میں باقاعدگی سے ان کے کالم پڑھتی اور کوئی نکتہ سمجھنا چاہتی تو انھیں ای۔ میل کر دیتی۔ وہ سوال کو ویلکم کرتے اور جواب بھی دیتے۔ پھر ایک مرتبہ میں نے ان سے اپنا ایک خواب شیئر کیا کہ میں اپنی گریجوایشن سے پہلے ایک کتاب لکھنا چاہتی ہوں جو نوجوانوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا احاطہ کرتی ہو۔

مجھے اس بات کی امید نہیں تھی کہ ایک اتنے سینئر اور زبردست لکھاری میرے جیسی ایک کم تجربہ کار لکھاری کو یہ موقع دیں گے کہ میری مرضی کے موضوع پر ہم مل کر ایک تحریری مکالمہ کریں گے پھر اسے کتاب کی شکل دیں گے۔ 2021 میں ہم نے تیس خطوط پر مبنی یہ مکالمہ مکمل کیا۔ صرف ایک مہینے میں ہم یہ کتاب لکھ سکے تھے۔ مجھے ڈاکٹر سہیل کے ہر خط کا انتظار رہتا تھا۔ وہ اپنے جوابات سے مجھے لاجواب کر دیتے تھے۔

میری پہلی کتاب ’نئے خواب نیا نصاب‘ نے مجھے بہت سے پلیٹ فارمز پر ایک کم عمری میں کتاب لکھنے والی لکھاری کی شناخت بخشی۔ سب سے بڑھ کر تو میرا ٹین ایج کا اہم خواب پورا ہوا۔ بطور لکھاری میرے اعتماد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔

یہ سب کن کی وجہ سے ممکن ہوا؟ تو میرے نزدیک پہلا کریڈٹ ڈاکٹر سہیل کو جاتا ہے۔ جو دوسرے انسانوں، ان کے خیالات اور خوابوں کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں۔

’نئے خواب نیا نصاب‘ ہمیشہ میری زندگی میں ایک بڑی اہمیت کی حامل رہے گی کیونکہ یہ میری پہلی کتاب ہے اور ایک لیجنڈ رائٹر کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب ہے۔

ڈاکٹر سہیل کی گرین زون تھراپی سے میں پہلے بھی واقف تھی مگر جب گرین زون ورکشاپس کا حصہ بنی تو اپنے اندر چھپی ہوئی اس مقدس سے ملاقات ہوئی جو بچپن میں کہیں گم ہو گئی تھی۔

2021 سے اب تک ایسے لگتا ہے جیسے میں ایک ہی وقت میں زندگی کے دو فیز گزار رہی ہوں۔ کہیں پہلے سے بہتر انداز میں اپنے معاملات سنجیدگی سے سلجھا پاتی ہوں دوسری طرف اپنے اندر کے child سے ایک پیارا سا تعلق بھی بنا پا رہی ہوں۔ ایسے جیسے میں The Art of Creating Happiness میں بہتر ہوتی جا رہی ہوں۔ یہ تحفہ گرین زون فلاسفی کا دیا ہوا ہے۔

2020 سے 2023 تک میں اور ڈاکٹر سہیل ایک کتاب لکھ چکے ہیں، میں ان کے کتاب Sharing the Secret کا ترجمہ کر چکی ہوں اور اب ان کی ایک اور کتاب کا ترجمہ کر رہی ہوں۔ اس دوران ہم ایک مرتبہ بھی نہیں ملے لیکن ان کی ادبی دوست بننے اور ان کے ساتھ کام کرنے سے میری ذات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میں پہلے سے زیادہ پرسکون اور خوش رہتی ہوں۔

میں نے بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں سمندر کی لہریں ساحل کنارے قیمتی موتی لایا کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ڈاکٹر سہیل علم، دانائی اور شفقت کا ایک سمندر ہیں۔ ایسا سمندر جس میں الجھا سا کسی سوال کا کنکر پھینکیں تو اس کی لہریں قیمتی جوابات کے موتیوں سے نوازتی ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ میں پچھلے چند سالوں سے یہ موتی چن چن کر اپنے پاس رکھتی آ رہی ہوں۔ ان موتیوں نے میری ذات اور بطور لکھاری میرے کام کو نکھارنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ میں نے ڈاکٹر سہیل سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان جیسے چند لوگوں نے مجھے انسان ہونے کے خوبصورت ترین پہلوؤں سے روشناس کرایا ہے۔

ڈاکٹر سہیل، میرے ادبی ساتھی اور مسیحا بننے کا بہت بہت شکریہ۔

Facebook Comments HS