ہم جو تاریک راہداریوں میں ما رے گئے
یہ سن 2000 کے ابتدائی مہینہ کی بات ہے، میری گاڑی موٹروے پر لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں اقتدار کے سنگھا سن پر جنرل پرویز مشرف اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ سری لنکا سے آئے ہوئے ہمارے بزنس پارٹنر میرے ہمسفر تھے۔ یہ سری لنکا کے ایک بڑے تجارتی ادارے کے چیئرمین تھے۔ ان کے گروپ کے بہت سے کاروبار تھے۔ ان کی ایک کمپنی برٹش سرکار کے زمانے سے سری لنکا میں مرسیڈیز گاڑ یوں کی واحد تقسیم کنندہ تھی۔
اس کے علاوہ یہ ہندوستان کے سب سے بڑے بسوں کے تیار کرنے والے ادارے ”اشوک لیلنیڈ“ کے بھی سری لنکا میں واحد ایجنٹ تھے۔ اب وہ آٹو رکشا کا بزنس بھی شروع کرنا چاہتے تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ دنیا کی سب سے بڑی آٹو رکشا بنانے والی کمپنی بھارت کی ”بجاج آٹوز“ نے پہلے ہی سے سری لنکا میں اپنی ڈیلر شپ ایک دوسرے تجارتی گروپ کو دے رکھی تھی۔ پاکستان میں ہماری کمپنی آٹو رکشا بناتی تھی۔ میں نے ان کو قائل کیا کہ وہ ہمارا آٹو رکشا سری لنکا میں متعارف کرائیں۔
ان کا تجارتی دورہ اس سلسلے کی ہی ایک کڑی تھا۔ جب ہمارا سفر لاہور۔ اسلام آباد موٹروے پر شروع ہوا تو وہ موٹر وے دیکھ کر حیران رہ گئے ان کے منہ سے بے اختیار انگریزی کا لفظ امیزنگ (Amazing) ادا ہوا۔ میں نے کہا کہ آپ تو پوری دنیا گھومے ہوئے ہیں اور آپ ہمارے موٹروے کو دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں فرمانے لگے بے شک دنیا کے بہت سے ممالک میں اس طرح کے موٹرویز کے جال بچھے ہوئے ہیں۔ لیکن ہماری سب سے زیادہ تجارت ہندوستان کے ساتھ ہے اور وہاں میں مختلف شہروں میں اکثر آتا جاتا رہتا ہوں ہندوستان میں آج تک ایک بھی ایسی سڑک نہیں ہے اور نہ اس قسم کے فلائی اوورز اور انڈر پاس ہیں جو میں پہلے لاہور شہر میں دیکھ چکا ہوں۔ یہ وہ وقت تھا جب ان تمام منصوبوں کا خالق پاکستان کا سابق وزیر اعظم جیل کے سلاخوں کے پیچھے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ جس کے جرائم کی فہرست میں یہ موٹر وے تعمیر کروانا بھی شامل تھا۔
وقت کا دھارا بہتا رہا۔ پاکستان کے ”اصل برزجمہر“ ملک کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کو ایک نعمت غیر مترقبہ جانتے ہوئے کھلواڑ کرتے رہے۔ بلیک واٹر کے ہر کارے اسلام آباد میں دندناتے پھرتے تھے، جیکب آباد کا ہوائی اڈہ امریکیوں کے زیر تسلط تھا۔ کراچی کی بندرگاہ نیٹو افواج کی چراگاہ بنی ہوئی تھی، کوئٹہ، اسلام آباد اور پشاور طالبان رہنماؤں کے لیے محفوظ جنتیں سمجھی جاتی تھیں اور پاکستان کے حکمران طبقے کے بھانت بھانت کے سرخیل ڈالر سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے۔
اسی اثناء میں 2 مئی 2011 کی صبح ایبٹ آباد کے علاقے کاکول میں ملٹری اکیڈمی کے صدر دروازے سے تھوڑے فاصلے پر ایک چھوٹے سے میدان میں چند امریکی ہیلی کاپٹر زمین پر اترے اور صرف 40 منٹ کے آپریشن کے نتیجے میں امریکہ کو ”سب سے زیادہ مطلوب“ آدمی اسامہ بن لادن کو لاش کی صورت میں اپنے ساتھ لے کر روانہ ہو گئے۔ ساتھ ہی امریکہ نے بہ آہنگ بلند اس بات کا اعلان کر دیا کہ ”ہم خطہ میں ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔“
اس واقعہ کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر ہی نواز شریف نے پھر پاکستان کے وزیراعظم کی کرسی سنبھال لی۔ اس دفعہ بھی ان کی ٹیم نے ملک کی معاشی منصوبہ بندی کا ہوم ورک مکمل کیا ہوا تھا۔ جس کے نتیجہ میں چین کے ساتھ مل کر سی پیک ”منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ جس کو اس خطے کے لئے ایک گیم چینجر کا نام دیا گیا۔ یہ ایک ایسی معاشی راہداری کی تعمیر کا منصوبہ تھا۔ جو پاکستان کو نئے ہمہ جہتی معاشی انقلاب کی نوید سنا رہا تھا۔ اس منصوبے کی بنیاد بھی پاکستان کا “مخصوص جغرافیائی محل وقوع” ہی تھا۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس سے امریکہ اور بھارت جیسے ممالک بھی خائف ہو گئے ان کو یقین ہو گیا کہ اب پوری دنیا میں چین کو چوہدری بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اور پاکستان اس کا جونیئر لیکن اہم ترین پارٹنر ہو گا۔ وائے بدقسمتی! پاکستان کے ”اصلی برزجمہروں“ کو اس منصوبے میں اپنا کوئی قابل ذکر کردار نظر نہیں آیا اور نہ ہی ان کو اس میں اپنے مالی فوائد نظر آ رہے تھے لہذا انہوں نے پھر ایک دفعہ بازی الٹ دی، نواز شریف پھر پابند سلا سل ہو گئے اور سی پیک راہداری منصوبہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔ اس دفعہ ”برزجمہر“ بڑا سجا بنا کر ایک نیا مہرہ سامنے لائے اور خود اپنے تئیس ”ففتھ جنریشن وار“ لڑنے میں مصروف ہو گئے اور آج بھی اس نادیدہ جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ حسب روایت ہمیشہ کی طرح اس ملک کے 25 کروڑ عوام ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم بنے ہوئے ہیں۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ حال ہی میں ہندوستان، مشرق وسطی اور یورپ کے درمیان ایک نئی اقتصادی راہداری کی تعمیر کے لیے دہلی میں جی۔ 20 کے سربراہی اجلاس میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس کو کیا کہیے کہ یہ بھی ایک راہداری کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ جیسے نواز شریف نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک لانچ کیا تھا۔ اس منصوبے میں بجلی اور ہائیڈروجن کی پائپ لائنیں بھی شامل ہوں گی اس یادداشت پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کے ساتھ ہندوستان، متحدہ عرب امارات، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے سربراہوں نے بھی دستخط کیے ہیں۔
یہ منصوبہ ہندوستان، مشرقی وسطی اور یورپ کو اقتصادی طور پر آپس میں جوڑ دے گا۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی ہندوستان کو دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل کے لئے زیر سمندر سرنگ کی تعمیر کا منصوبہ پیش کرچکا ہے۔ یہ سرنگ انتہائی تیز رفتار ریل گاڑیوں کے لیے مختص کی جائے گی جس سے دونوں ممالک کو جوڑنا، ممکن ہو جائے گا اور جہاں اب تک صرف بین الاقوامی پروازوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ریل گاڑی کے ذریعے پہنچنا ممکن ہو جائے گا۔
اس سرنگ کے ساتھ ایک تازہ پینے کے پانی کی پائپ لائن بھی بچھائی جائے گی جو امارات میں پینے کے پانی کی قلت دور کر دے گی دوسری طرف تیل کی پائپ لائن بھارت میں توانائی کی کمی کو پورا کر دے گی۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے فروری 2023 میں دہلی۔ بمبئی ایکسپریس وے کے ایک حصے کا بھی افتتاح کر دیا ہے جو ابھی صرف 246 کلومیٹر طویل ہے اور صرف جے پور تک مکمل ہوا ہے۔ جس کی بدولت دہلی جے پور کے درمیان سفر کا دورانیہ پانچ گھنٹے سے کم ہو کر تین گھنٹے رہ گیا ہے۔
جب 1386 کلومیٹر لمبا یہ ایکسپریس وے مکمل ہو جائے گا تو دہلی اور بمبئی کے درمیان سفر کا دورانیہ 24 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 12 گھنٹے رہ جائے گا۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے بھارت کے تمام بڑے شہر ایکسپریس وے کے ذریعے جوڑے جا رہے ہیں جو بھارت میں سڑک کے ذریعے سفر کو ایک نئی انقلابی شکل دے دیں گی۔ ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے دیس میں ایک مرتبہ پھر ایک نئے نام نہاد نجات دہندہ کا بت تراشنے کی لاحاصل کوششیں کی جا رہی ہیں۔




