کابل کے بازاروں پر ایک نظر


کابل کے تاریخی ورثے کا ذکر تو ہو گیا اس کے بازاروں اور عام زندگی کا بیان ابھی باقی ہے۔ وہ تمام افراتفری، انتشار اور بے ترتیبی جو پہلی چار دہائیوں میں اس شہر میں رہی، اس کے اثرات جابجا نظر آتے ہیں۔ شہر اس خلفشار سے نکلنے کی کوششوں میں ہے لیکن عالمی پابندیاں اور معاشی دشواریاں راہ میں حائل ہیں۔ افغانستان کو صرف امداد مل رہی ہے۔ چین اور روس کی دلچسپی اور سرمایہ کاری موجود ہے لیکن غربت کے مسائل، جنگ کی تباہ حالی اور اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے کے لئے بے حد ناکافی۔ طالبان کے آنے کے بعد حکومتی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور کرپشن کم ہوuی ہے۔ جب تک کہ معاشی سرگرمیاں پوری طرح بحال نہیں ہوتیں یہ ملک ایسے ہی لڑکھڑاتا رہے گا۔

افغان لوگوں سے افغانستان میں جا کر ملنے سے اس قومی تفاخر کی جھلکیاں نظر آئیں جو بحیثیت قوم ان کے خون کا حصہ ہے۔ تباہ حال حالت میں بھی اپنے افغان ہونے پر ناز اور تمام بیرونی حملہ آوروں کو شکست دینے کا فخر ان کی گفتگو میں صاف نظر آتا ہے۔

پندرہ اگست کو ، کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کی دوسری سالگرہ تھی، یہ افواہ عام تھی کہ اس روز خواتین کی تعلیم پر عاید پابندی اٹھا لی جائے گی۔ اور ہمارے میزبان اس خبر کو سننے کے منتظر تھے اور امید کر رہے تھے کہ اس سے شاید عالمی سطح پر افغانوں کے لئے راہیں ہموار ہوں گی۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ سارا دن افغان طالبان، جن میں نابالغ بچے بھی شامل تھے، ہتھیار اٹھائے ہوئے گاڑیوں پر طالبان کے جھنڈے آویزaں کیے شہر میں فلیگ مارچ کرتے رہے۔

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ طالبان حکومت نے ہمارے ادارے کو ایک بدھ مت کی عبادت گاہ کی بحالی کی اجازت دی ہے۔ اس سائیٹ کے پہلو میں چین کی ایک کمپنی مائننگ کر رہی ہے اور یہ تاریخی ورثہ بھی اس مائننگ پلان کا حصہ ہے۔ جینیوا میں قائم ایک عالمی ڈونر نے اس بدھ مت کے ورثے کے تحفظ کے لئے امداد دینے کا اعلان کیا اور طالبان نے اس کی اجازت دے دی ہے۔ پراجیکٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ اس علاقے میں مائننگ آپریشن کو محدود کیا جائے اور اس ورثے کو اس کی اصل شکل میں بحال کر دیا جائے۔ تو یہ ہیں 2023 ء کے طالبان۔ جنھوں نے بامیان میں بیس سال پہلے بدھا کے مجسمے بم سے اڑا دیے تھے۔

بات پھر تاریخی ورثے کی جانب مڑ گئی۔ ہمیں تو کابل کی عام زندگی اور بازاروں کا ذکر کرنا ہے۔

ایک دکان پر ’بازیچۂ اطفال‘ کا بورڈ دیکھ کر ہم چونک پڑے اور چچا غالب کو یاد کیا۔ اندر جھانک کر دیکھا تو بچوں کے کھلونوں کی عام سی دکان تھی۔ ہمیں خیال آیا کہ فارسی صرف شعر و ادب کی زبان نہیں ہے۔ اسے تو گلیوں بازاروں میں بھی لوگ بولتے ہیں۔ گو کہ افغانی اسے دری کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ ہمارے میزبان کابل کی مشہور آئس کریم کھلانے لے گئے، جو کہ بہت ذائقہ دار اور تازہ تھی۔ تجسس کے لئے ایک نسبتاً جدید شاپنگ مال میں گئے۔ ہندوستان، بنگلہ دیش اور خاص طور پر ایران کی مصنوعات جاب جا نظر آئیں۔ پاکستانی اشیا بھی بہت تھیں۔ خاص طور پر تعمیراتی کام کے لئے درکار اشیاء۔

بوتیک بہت سے ہیں مگر ان میں ماڈلز کے چہروں کو یا تو مسخ کر دیا گیا ہے یا ان کو کسی بیگ یا کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ لباس خالصتاً افغانی ڈیزائن کے، لیکن چہرے ڈھانپے ہوئے۔ غیر ملکیوں کی آمدورفت کی وجہ سے پرانی اشیا کی بھرمار ہے۔ ہم نے بھی کچھ دکانوں میں مول تول کیا اور اکا دکا اشیاء خرید لیں۔ بھاؤ تاؤ کے وہی انداز تھے جو سڑک پر قالین بیچنے والا کرتا ہے یعنی آخری دام کم و بیش ایک تہائی۔

صدارتی محل کے مرکز میں ایک چوک کے سامنے یوں نظر آیا جیسے یہ کوئی عام سی عمارت ہو۔ اس کے سامنے کوئی رکاوٹیں یا سیکیورٹی نظر نہیں آئی۔ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے اب شہر کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے پہاڑوں پر بستیاں تعمیر ہو رہی ہیں لیکن ہر گلی اور محلے تک سڑک نہیں جاتی۔ بیچ میں تنگ سڑکیں اور گلیاں ہیں جن سے گزر کر اپنے گھر تک پہنچا جا سکتا ہے۔

سچ پوچھیں تو شہر کی کوئی خاص شکل و صورت ہے ہی نہیں۔ عمارتوں اور لوگوں کا ایک ہجوم ہے جس کے بیچوں اچھی اور بری سڑکوں کا ایک نظام ہے جس پر سارا دن زندگی رواں رہتی ہے۔ شہر کے بعض علاقے نسبتاً پرسکون ہیں لیکن کسی موڑ پر کوئی ایسی کجی نظر آئے گی کہ بے ترتیبی کا شدید احساس ہوتا ہے۔

ہمارے میزبانوں نے بتایا کہ یہ چند نعمتیں بھی کابل شہر تک ہی محدود ہیں۔ ذرا سے شہر سے باہر نکلیں تو کچی سڑکیں اور غربت آپ کو گھیر لے گی۔ ہر ملک کی طرح فیصلہ سازی ایک مخصوص اقلیت کے ہاتھوں میں ہے اور باقی عوام اللہ کے حوالے۔

لینا دینا اگر نہ ہو کچھ تو
بازار بھی ایک راستہ ہے
(ظفرؔ اقبال)

Facebook Comments HS