حالیہ مہینے میں بھارت اور پاکستان کے کارنامے

پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے ایک مہینے کے اندر دو بڑے کارنامے انجام دیے گئے اور یہ کارنامے پوری دنیا کے ایک ایک کونے تک دیکھے گئے۔
پہلا بھارت کا چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک جب کہ چاند پر پہنچنے والا دوسرا ایشیائی ملک کا اعزاز حاصل ہوا اور دوسرا بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں والے 20 ممالک کی تنظیم جی۔ 20 کا سربراہی اجلاس اپنے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد کر کے میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
واضح رہے کہ ان ممالک میں ہمارے برادر اسلامی ممالک بھی شامل تھے جنہیں ہم اپنا برادر اسلامی ملک سمجھتے سمجھتے جوان ہوئے تھے جن میں ترکی، انڈونیشیا، سعودیہ عرب، بنگلہ دیش وغیرہ شامل ہیں۔
اس ایک مہینے کے دوران جب ہمارا پڑوسی ملک بھارت چھوٹے چھوٹے کام انجام دے رہا تھا تب ہم اپنے ملک میں بسنے والی مسیحی برادری کے گھروں اور ان کے عبادت گاہوں پر توڑ پھوڑ مچا کر ان کے گھروں سے قیمتی سامان کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے کے بعد جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے لبیک کے نعروں کے ساتھ اپنا اسلام زندہ کر رہے تھے اور دنیا کو دکھا رہے تھے کہ ہم ہی اس جہاں میں واحد اور درست معنوں میں حقیقی مسلمان قوم باقی ہیں۔
اس ہی ایک مہینہ کے دوران پھر ہم نے کراچی کی جانب رخ کیا جہاں پر احمدی برادری کی عبادت گاہ پر چڑھ دوڑے اور نعرے لگاتے ہوئے ان کی عبادت گاہ پر توڑ پھوڑ مچانا کردی۔ جس کے بعد اس ہی دورانیہ میں ہم نے لاہور کی جانب بھی رخ کیا اور وہاں بھی ایک احمدی عبادت گاہ پر توڑ پھوڑ مچا کر اپنا مذہبی فریضہ انجام دیا۔
اس ایک مہینہ کے دوران پاکستان کے کارنامے اور بھارت کے کارنامے دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ ہماری ریاست نے ستر سال سے زیادہ صرف اس بات پر محنت برباد کی ہم پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں، بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، سعودیہ اور تمام اسلامی ممالک ہمارے برادر اسلامی ممالک ہیں جو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔ مگر پھر ہم نے اپنے برادر اسلامی ممالک کو مودی جی کے ساتھ جی۔ 20 میں ہنستے کھیلتے ہوئے دیکھا اور اب ہماری قوم اپنے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کب وہ ہمیں نیا منجن بیچیں گے۔

