شبمین گل کو اس کے باپ نے کیسے بڑا کرکٹر بنایا
لکھویندر سنگھ گل ہندوستان اور پاکستان کے بارڈر کے بالکل قریب مشرقی پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے فاضلکا کا رہنے والا تھا۔ بچپن ہی سے اس کے سر پہ ایک کرکٹر بننے کا بھوت سوار ہو گیا تھا۔ وہ منہ اندھیرے جاگ جاتا اور باپ کے ساتھ مل کھیتوں کو روانہ ہو جاتا، سہ پہر تک کاشتکاری میں باپ کا ساتھ دیتا۔ لیکن جیسے ہی سورج ذرا سا ڈھلتا وہ تمام کاموں سے بیگانہ ہوجاتا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گاؤں کے اکلوتے گراؤنڈ میں چلا جاتا۔ لڑکوں، بالوں کے ساتھ مل کر تب تک کرکٹ کھیلتا رہتا جب تک اندھیرا نہ چھا جاتا اور گیند نظر آنا بند نہ ہوجاتی۔ تمام دن کی بھاگم بھاگ سے جب وہ تھک کر چور ہوجاتا تو شام کا کھانا کھاتا اور ایک بڑا کرکٹر بننے کے سپنے بنتا ہوا نیند کی آغوش میں کھو جاتا۔
کرکٹ کے افق پر اس وقت عمران خان، میلکم مارشل، کپل دیو، ایلن بارڈر جیسے کھلاڑی چھائے ہوئے تھے اور وہ ان ہی جیسا کوئی کوئی سپر سٹار بننا چاہتا تھا۔ اردگرد کے بیسیوں گاؤں میں اس کی برق رفتار بیٹنگ کا چرچا تھا مگر وہ تو اپنے ملک ہندوستان کے لیے کھیلنا چاہتا تھا اور اپنا اور اپنے وطن کا نام پوری دنیا میں روشن کرنا چاہتا تھا۔ منزل بہت دور تھی سفر بڑا طویل تھا مگر وہ چلنا چاہتا تھا کہیں پہنچنا چاہتا تھا۔
لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ رفتہ رفتہ وہ لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہا تھا مگر اب تک کسی بڑی قابل ذکر کرکٹ ٹیم میں اس کی سیلیکشن نہیں ہو پائی تھی۔ عمر کا گھوڑا سر پٹ دوڑے جا رہا تھا اور اس کی خواہش اس کے سینے میں سانپ بن کر لوٹ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ امیدوں کے چراغ دھندلانے لگ گئے اور اسے سمجھ آنے لگ گئی کہ اب اس پر کرکٹر بننے کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹی وی کی سکرین پر کرکٹ کے مقابلے دیکھتا تو کرکٹر نہ بن سکنے کا ارمان پوری طرح جاگ جاتا اور اس کا جگر مزید سوختہ ہوجاتا۔ لیکن خدا نے اسے ایک خوبی سے نوازا تھا۔ وہ یہ کہ وہ محنتی اور جفا کش ہونے کے ساتھ انتہائی مثبت سوچ کا حامل شخص تھا۔ برے سے برے حالات میں بھی وہ امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ گھور اندھیرے میں بھی اسے کہیں نا کہیں سے روشنی کی ہلکی سی لکیر ضرور نظر آ جاتی تھی۔
پچیس سال کی عمر میں لکھویندر سنگھ گل کی شادی ہو گئی اور کچھ عرصہ بعد مالک کائنات نے اسے ایک نہایت خوبصورت، حسین و جمیل بیٹا عطا کیا۔ اکلوتے بیٹے کی تیسری سالگرہ پر لکھویندر نے اسے ایک چھوٹا سا کرکٹ بیٹ تحفے میں دیا۔ وہ اپنے بیٹے کو سکول سے واپس لاتا، اس کے ہاتھ میں بیٹ تھماتا اور خود اس کی طرف بال اچھالتا، بیٹا زور سے ہٹ لگاتا اور باپ بال اٹھا کر لاتا اور پھر اس کی طرف بال پھینکتا، بیٹا پہلے سے زیادہ زور سے ہٹ لگاتا، باپ، بیٹا کھلکھلا کر ہنستے۔ یہ مشق کرتے کرتے لکھویندر بھانپ گیا کہ اس کے بیٹے میں کرکٹر بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔
لکھویندر نے اپنے بیٹے کی اٹھان دیکھی تو اپنے گاؤں فاضلکا میں موجود اپنی زمین کا ایک قطعہ کرکٹ گراؤنڈ کے لیے مختص کر دیا۔ وہ اپنے گاؤں کے لڑکوں سے کہتا کہ اس کے بیٹے کو بالنگ کرو، جو اس کے بیٹے کو آؤٹ کرتا اس کو وہ 100 روپے انعام دیتا۔ انعام کے لالچ میں اردگرد کے گاؤں سے اچھے اچھے بالرز اکٹھے ہو جاتے اور خوب جی جان سے بالنگ کرتے۔ بالرز انعامی رقم جیتنے کی کوشش میں عمدہ سے عمدہ بالنگ کا مظاہرہ کرتے جبکہ بیٹا باپ کو اپنی پرفارمینس دکھانے اور اس کی رقم بچانے کے لیے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتا۔
لکھویندر سنگھ گل نے جب دیکھا کہ اس کا بیٹا ایک شاندار بیٹسمین کے روپ میں ڈھلتا چلا جا رہا ہے تو اس نے اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑا، بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور 300 کلومیٹر دور موہالی آ گیا۔ موہالی میں اس نے ایک مکان کرائے پہ لے لیا اور اپنے بیٹے کو پنجاب کرکٹ اکیڈمی موہالی میں داخلہ لے دیا۔
لکھویندر سنگھ گل اپنے بیٹے کو ”پرنس شبھا“ کہہ کر پکارا کرتا تھا۔ پرنس شبھا کو بخوبی علم تھا کہ وہ باپ کی امیدوں کا محور و مرکز ہے۔ اسی لیے وہ اکیڈمی میں جی جان سے محنت کیا کرتا تھا۔ آخر کار لکھویندر سنگھ گل کے بیٹے پرنس شبھا کو 2017 کی رانجی ٹرافی کے مقابلوں میں انڈین فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اس کی طویل و عریض محنت کا صلہ ملنے کا وقت اب بہت قریب آن پہنچا تھا۔ اس نے اپنے دوسرے ہی فرسٹ کلاس میچ میں سنچری بنائی تو سلیکٹرز اس کی طرف سے اپنی آنکھیں بند نہ رکھ سکے۔
2018 میں اسے انڈین سی ٹیم کے لیے چن لیا اور اس نے انڈین اے ٹیم کے خلاف سنچری بنا کر سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ 2018 ہی میں اسے رانجی ٹرافی کھیلنے والے آٹھ بہترین کھلاڑیوں میں شامل کر لیا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا کہ پرنس شبھا نے 2019 کی رانجی ٹرافی میں تامل ناڈو کے خلاف ڈبل سنچری سکور کر ڈالی۔ 2018 کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں پرنس شبھا کو ٹیم کا نائب کپتان بنا دیا گیا۔
جنوری 2019 میں پرنس شبھا کو نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والی انڈین کرکٹ سکواڈ میں جگہ مل گئی۔ 18 جنوری 2023 کو اس نے انڈین کرکٹ ہسٹری کا ایک عظیم کارنامہ سر انجام دے ڈالا۔ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈبل سنچری سکور کرنے والا پانچواں ہندوستانی بن گیا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد پرنس شبھا نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹونٹی میچ میں سنچری سکور کر کے کسی ایک ٹی ٹونٹی میچ میں انڈیا کی طرف سے سب سے بڑا انفرادی سکور کرنے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ اس نے 63 گیندوں پر 126 رنز سکور کر ڈالے۔
6فٹ اور ایک انچ لمبے شبمین گل عرف پرنس شبھا کی عمر ابھی محض 24 سال ہے اور اسے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ابھی صرف چوتھا سال ہے، مگر وہ اس قلیل عرصے میں کامیابی کے بے شمار جھنڈے گاڑ چکا ہے۔ اگر اس کا باپ اسی طرح اس کا ہر میچ دیکھتا رہا اور اس کی پیٹھ تھپتھپاتا رہا تو یہ لڑکا دنیائے کرکٹ کا عظیم ترین کھلاڑی ثابت ہو گا۔ لکھویندر سنگھ گل! تمہارا بیٹا ایک شاندار کھلاڑی ہے لیکن تم ایک عظیم الشان باپ ہو کہ تم نے اپنے خواب کو مرنے نہیں دیا اور دنیائے کرکٹ کو ایک بہترین کھلاڑی عطا کیا۔
لکھویندر سنگھ گِل تسی گریٹ ہو


