تار تار پیرہن


کشور ناہید کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خواتین کی تحریک اور ضیا الحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد میں وہ 1983 میں لاہور میں مال روڈ سے نکلنے والے اس جلوس میں شامل تھیں جس میں پولیس نے عورتوں پر لاٹھیاں برسائی تھیں۔ وہ شروع سے ایک باغی عورت اور ایک بہادر فیمنسٹ رہی ہیں۔ کبھی انہوں نے سیمون ڈی بوائر کی کتاب کا ترجمہ اور کبھی ’بری عورت کی کتھا‘ لکھ کر تہلکہ مچایا۔ ان کی نظم ”ہم گنہگار عورتیں“ تو تحریک نسواں کی کارکنوں کا ترانہ بن چکی ہے۔

حال ہی میں ان کی نظموں اور غزلوں کا نیا مجموعہ ”تار تار پیرہن“ شائع ہوا ہے۔ جس کا انتساب ”ڈالر کی تاج پوشی، روپے کی بدنصیبی“ ظاہر کرتا ہے کہ لکھنے والی پاکستان کے عوام کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن وہ صرف پاکستان کے مسائل ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہیں۔ جب ایران کی مہسہ امینی کو سر پر ڈوپٹہ نہ اوڑھنے پر مار دیا گیا تو کشور نے ”عقیدوں کی غلام گردشوں میں عورت کو مقید کرنے والوں“ کو یاد دلاتی ہیں ”جب قبر سے اٹھائے جائیں گے، ماں کے نام سے پکارے جائیں گے“ ۔

اس وقت پاکستان میں آئی ایم ایف کے قرضوں کے نتیجے میں ہونے وال مہنگائی پر ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ کشور اپنی نظم آئی ایم ایف کا تحفہ میں کہتی ہیں ”میں نے اس سے کچھ کھانے کو مانگا۔ اس نے بھوک پلیٹ میں لا کر رکھ دی“ ۔ اپنی نظم ”میرا پیارا وطن“ میں بھی انہوں نے موجودہ صورتحال کی عکاسی کی ہے ”آج کے زمانے میں۔ ہمارے ملک میں زندہ رہنے کو۔ چائے کا ایک کپ اور سوکھی روٹی مل جائے۔ کافی ہے“ جب کہ ”ذلتوں کا نوحہ کب تک“ میں وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے المیوں کو سامنے لاتی ہیں۔

کلائمیٹ چینج اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ کشور نے اپنی نظم ’موسمیاتی زبوں حالی‘ میں اس مسئلے کو وسیع تر تناظر میں دیکھا ہے۔ ایک اور نظم ”لکنت زدہ لہجے“ میں وہ کہتی ہیں ”خدا اب ہمارا مذاق اڑانے کے لئے۔ گرمیوں میں برف اور سردیوں میں ریت کا طوفان نازل کر دیتا ہے“ ۔ اسی مسئلے کو انہوں نے ’قدرت ہمارا مذاق اڑا رہی ہے‘ کے عنوان سے بین الاقوامی تناظر میں دیکھا ہے۔ ”ساری دنیا کے سربراہ آج بھی۔

مہلک ہتھیاروں کے معاہدے کر رہے ہیں! اور ماحولیات والے سوچ رہے ہیں۔ سیلاب نما طوفانوں سے۔ اپنے بچوں اور بوڑھوں کو کیسے بچائیں؟ 2022 کا سیلاب بھی اسی موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ تھا۔ جس کی نقشہ کشی انہوں نے“ پاکستان کھپے، سیلاب زدوں کی دعا ”میں کی ہے۔ وہ سیلاب جس کے قیامت خیز مناظر کو دیکھ کر انجلینا جولی رو پڑی تھی۔ اسی طرح جرمن ماہر ماحولیات ہیلگا پر بھی انہوں نے نظم لکھی ہے جو پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ مل کر اس ملک کی ہواؤں کو آلودگی سے بچانے کے لئے آئی تھی۔

پاکستانی عورتوں کے دکھوں اور ان پر رسموں اور رواجوں کے نام پر ہونے والے مظالم کے بارے میں وہ ہمیشہ سے لکھتی چلی آئی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ دل کو چھو لینے والی نظمیں اس کتاب میں بھی آپ کو ملیں گی۔“ جیسے روایت اب تک سانس لیتی ہے ”۔ جس میں اس کم سن بیٹی کا دکھ بیان کیا گیا ہے جسے کسی بوڑھے امیر شخص کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ بیچنے والا بھی مرد اور خریدنے والا بھی مرد۔ اسی طرح جب افغانستان میں طالبان نے عورتوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے تو انہوں نے“ مفتیان طالبان سے شکوہ ”کے عنوان سے لکھی جانے والی نظم کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

کشور نے اپنی آپ بیتی اپنی نظم“ جنم کہانی ”میں سنائی ہے لیکن وہ ان جیسی اور ان کی ماں جیسی بہت سی عورتوں کی کہانی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے“ ساری بیٹیوں اور نور مقدم کا نوحہ بھی لکھا ہے۔ اسی طرح جب ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے بدن کو کپڑوں سے آزاد کرنے کے لئے چار سو مردوں نے ہاتھ بٹایا اور کوئی بچانے آگے نہ آیا تو کشور نے اپنی نظم ”مینار پاکستان تلے“ میں

قائد اعظم کو اس کی روداد سنائی۔ غرض یہ کہ پاکستان کی لڑکیوں اور عورتوں کے دکھ ہوں یا ماضی میں چھپی ہوئی عورتوں کے، یا یو کریں کی بوڑھی عورت کے، کشور سب کے لئے تڑپتی ہیں۔ کتاب کی آخری نظم ”ایک بدن، دو جسم اور ایک کتاب“ ٹرانس جینڈرز کی زندگی کے بارے میں ہے۔ جب کہ بیچ میں صفحہ 103 سے لے کر صفحہ 114 تک عشق سے سر کشیدہ غزلیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ یہ کتاب سنگ میل پبلیکیشنز نے شائع کی ہے۔

Facebook Comments HS