رانجھے کی ہیر سے لیلیٰ کے کتے تک
یو ٹیوبر کے وی لاگ کا عنوان کچھ اس طرح کا تھا کہ فلاں سیاستدان نے فلاں ٹی وی کے پروگرام میں فلاں اینکر سے کتوں والی کر چھوڑی۔ تو گویا بات اب جئی تئی پھیرنے سے کتوں والی کرنے تک آ گئی۔ پاکستان میں کتوں والی کرنے یا ہونے والی کہانیاں چودہ طبق روشن کرنے لگیں۔ اور اب کینیڈا میں رہتے یہ کتے والی سوچتے سہیل وڑائچ کا جملہ ”کیا یہ کھلا تضاد نہیں“ سامنے گھوم رہا تھا۔
ہندوستانی پنجاب سے وزٹ ویزا پہ آئے ایک صاحب نے یہاں کے صحت و علاج کے نظام کی شکایت کرتے سوشل میڈیا پہ لکھا کہ وہ کہیں پھسل یا گر کے ٹانگ کی ہڈی تڑوا بیٹھے اور ہسپتال کی ایمرجنسی میں گئے تو ان کو ابتدائی معائنہ کے بعد چھ گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ تب متعلقہ وارڈ میں لے جا ضروری ایکسرے ٹیسٹ وغیرہ کے بعد ان کی ٹانگ پر پلستر لگایا گیا اور صرف ایک گھنٹہ سے کم والے کام کا ایک ہزار ڈالر کا بل تھما دیا۔ میں نے تو صرف یہ جواب دیا کہ یہاں ایمرجنسی میں جاتے ہی ابتدائی معائنہ میں میں مرض کی شدت کے لحاظ سے ترجیح کا تعین کیا جاتا ہے اس لئے قابل برداشت مرض میں مریض کو متعلقہ ڈاکٹر اور عملہ کی فراغت کے مطابق باری لگائی جاتی ہے جو واقعی بعض اوقات گھنٹوں کا انتظار کراتی ہے۔ اور بغیر انشورنس کرائے آئے تو بل تو بنے گا۔ ساتھ ہی ایک اور قاری کا جواب تھا۔ کہنے لگے آپ تو خوش قسمت ہیں کہ ایک ہزار کا بل بنا۔ میرے تو کتے کی ٹانگ پچھلے ہفتہ ٹوٹی تو بہت رعائت کرتے ڈاکٹر نے بس پلستر ہی لگانے کا تین ہزار ڈالر چارج کیا تھا۔ ہاں بس جانوروں کے ڈاکٹر نے صرف ایک گھنٹہ میں فارغ کر دیا تھا۔ ظاہر ہے شکایت کنندہ چپ رہے ہوں گے اور ہنس دیے ہوں گے کہ یہاں انسانوں کا علاج (دانتوں آنکھوں کی چند امراض کے علاوہ) مفت ہے اور جانوروں کا مول میں۔
سنی بروک ہسپتال سے ملحق اسی کے نام پہ ہی معنون ٹورنٹو کے مشہور سنی بروک پارک کے باہر گاڑی سے اترتے ہی سامنے ایک وسیع و عرض خوبصورت پارک کے باہر پالتو جانوروں والوں کے لئے مخصوص کی تختی لگے نظر پڑا۔ کتوں کو سیر کرانے آنے والوں کے لئے ہدایات اور پابندیوں کی فہرست ساتھ تھی۔ سامنے سے ایک مضبوط جسم جوان آٹھ دس چھوٹے بڑے کتوں کی رسیاں ہاتھ میں لئے آتا نظر پڑا۔ اب وہ بڑے پیار سے ساتھ کھڑی پک اپ کے پچھلے حصہ میں لاد کر پوری احتیاط سے سوراخوں والی ترپال اوپر باندھ گاڑی سٹارٹ کر ہی رہا تھا کہ دوسری پک اپ آ رکی اور اس میں سے بھی ایک کڑیل خاتون نکلی اور چھ سات کتوں کی رسیاں پکڑ بھگاتے باغ میں لے گئی۔ اکؔا دکا مرد و خواتین اپنے کتے بلیاں لے جاتی اور باہر لا گھر کو جاتی نظر آ رہی تھیں۔ مگر یہ کیا کہ چھ سات سے دس دس بارہ بارہ کتوں کے غول۔ چند منٹ میں تین چار مزید غول کتوں کے اپنے نگہبانوں کے ہمراہ پارک میں جاتے یا واپس نکلتے نظر آئے۔ سمجھ آیا کہ ہمارے رانجھے کے بھینسیں چرانے والے پیشے کی طرح یہ بھی ملازمت یا کام پہ چلے جانے والے افراد کے لئے غیر حاضری کے دوران بے بی سٹنگ والوں کی طرح ان کتوں کے پیشہ ور رکھوالے تھے۔ جو وقت مقررہ پہ جانور لے آتے اور چھوڑ آتے۔ جانور کو کار یا پک اپ سے نکالنے اور واپس بٹھانے میں جس محبت پیار تھپتھپاہٹ، لاڈ اور آرام کا خیال کرتے انگلی تک نہ چبھنے دینے کا انداز دیکھا وہ تو ہمارے زمانے کی محبوب کی وارننگ یاد دلا گئی۔ ”ستؔاں بھرواں دی بھین میں لگدی، پھل وی نہ ماریں وے ماہیا“ (سات بھائیوں کی بہن ہوں مجھے پھول تک بھی مارنے سے پہلے سوچ لینا)۔ اوہ تو یہاں کے رانجھوں کو ہر کتے کو لیلیٰ کے کتے جیسا احترام دینا پڑتا ہے۔ یہ نظارہ کرتے مجھے پاکستان میں ٹرکوں اور پک اپس میں بھیڑ بکریاں اٹھا اٹھا کے پھینک لادنا یاد آیا۔ گدھے اور بھینس کو بس کی چھت پر سوار کرانے اور باندھنے اور بقرعید کے دنوں موٹر سائیکل پہ بندھے، رکشہ میں لدے۔ ٹرکوں میں رسے کی چھتیں بنا تہوں کی صورت پھنسائے۔ گدھا گاڑیوں اور کار کی ڈگی میں گھسائے بھیڑ بکرے، دنبے گائے بیل بلکہ اونٹ تک کو گھر لانے کے جگاڑ پھرنے لگے۔
یاد آیا کہ ہمارے تو تخت ہزارے کے رانجھے کو جھنگ کے سیالوں نے اپنی بھینسیں پھرانے، چرانے پہ مامور فرمایا تو ہیر رانجھا جیسی لازوال داستان محبت ظہور پذیر ہوئی اور وارث شاہ نے اپنی بھاگ بھری کے بہانے ہیر وارث شاہ تخلیق کر ڈالی۔
تو یہاں بھی بھینسوں کی بجائے کتوں کی رکھوالی کرنے والوں یا والیوں کو بھی اکثر ہیروں یا رانجھوں کی محبتیں مل جاتی ہوں گی کہ یہاں تو ”جٹی ہیر کے چوبارے“ تک رسائی ہوتی ہی ہے۔ چند دن بعد یہ نظارہ بھی فلک نے ہمیں دکھا دیا۔ کہ یہاں تو محبت پہلی نظر کے تیر کی بجائے اکثر شروع ہی کتے یا کتیا کی تعریف کے نتیجے میں مالک یا مالکہ کے تعارف سے ہوتی ہے۔ شام سیر کو نکلے تو فٹ پاتھ پہ ایک خوبصورت سی مہیلا اپنے بہت ہی خوبصورت جھالر دار بال والے چھوٹے سے کتے کو گھمانے نکلی نظر آئی۔ ادھر سے ایک جوان رعنا اپنے بھاری بھرکم کتے کو لئے آ رہا تھا۔ دونوں کھڑے ہو ایک دوسرے کے کتوں کے حسن کی تعریف کر رہے تھے اور حسب و نسب عادات اور خوراک کا پوچھ رہے تھے۔ دو روز بعد سے دونوں ساتھ اپنے کتے لئے اکٹھے گھوم رہے ہوتے یا درختوں کے جھنڈ میں پڑے بنچ پہ بیٹھے راز و نیاز میں بلکہ کچھ زیادہ ہی مصروف نظر آنے لگے۔ تھے بھی اپنے انڈین پنجاب کے لہذا ہم بھی مسکراتے ”لگے رہو منؔا بھائی“ کہہ کے ان کی جوابی مسکراہٹ پہ خوش ہوتے گزر جاتے۔ پھر دو تین مرتبہ اپنے رانجھا جی اکیلے سر جھکائے کچھ افسردہ جاتے دیکھے تو پوچھ بیٹھے کہ بیٹا وہ ہیر کہیں کھیڑوں کی ڈولی میں تو نہیں بیٹھ گئی تو آہوں بھری دکھ کی داستان کا لب لباب یہ تھا کہ کسی نئی بی ایم ڈبلیو پہ سوار سونے کی چین پہنے گبھرو جوان نے گاڑی روک اتر کر اس کے کتے کی اس جوان سے بہت زیادہ تعریف کر دی تھی۔ اور پھر ”سانوں وی لے چل نال وے باؤ سوہنی گڈی والیا“ کا میوزک چالو ہو گیا تھا۔ کئی مرتبہ کتے کا حسب نسب پوچھتے بزرگ حضرات اور خواتین کی دوستیاں ہوتیں، پارک کے بنچوں پہ بیٹھ ایک دوسرے کی بلکہ کتوں کی بیماریاں اور ان کے علاج کی کہانیوں تک بھی پہنچ جاتیں ہیں۔
مغربی دنیا میں پالتو جانوروں کے لئے بھی ایک الگ ہی دنیا ہے۔ ہر بڑے گروسری سٹور یا شاپنگ سنٹر میں ایک الگ شعبہ جانوروں کتوں بلیوں کی خوراک اور ضروریات کا ہے یا ان کے لباس بستر اور میک اپ و تزئین کے سامان کا ہے۔ علیحدہ خصوصی سٹور بھی ہر چیز کے لئے ہیں بیوٹی سیلون ہیں جہاں بالوں کی تراش خراش سے لے میک اپ اور پیڈی کیئر مینی کیئر اور ناخنوں کی تزئین تک ہوتی ہے۔ بلکہ آسان الفاظ میں ایک انسان یا اس کا بچہ پالنے سے کتا ( بلکہ کوئی بھی پالتو لے پالک ) پالنا بہت مہنگا اور مشکل بھی ہے۔ لائسنس چاہیے اور اس کے ساتھ ان کی حفاظت، دیکھ بھال، سلوک کھانے پینے، صحت، اور آرام کا خیال رکھنے اور باہر گھمانے پھرنے کے قوانین کی لمبی فہرست ہے جس کی خلاف ورزی یا لاپروائی پہ سزا زیادہ سخت ہے۔ سب سے مہنگا تو جانوروں کا علاج ہے۔ کینیڈا کے مستقل رہائشی باسیوں کا علاج زیادہ تر فری ہے (دانتوں آنکھوں اور چند مخصوص قسم کے علاج کے سوا) کہ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور حکومتیں سہولتیں مہیا کرتی ہیں۔ مگر جانوروں کا علاج اور خرچہ کا بل ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر۔
پاکستان میں گیٹ کے اوپر محرابی شکل میں لگے شفا خانۂ حیوانات کے بورڈ نے پہلی مرتبہ ہماری توجہ انیس سو تریپن میں سیالکوٹ کے گورنمنٹ ہائی سکول میں آٹھویں جماعت میں داخل ہوتے کھینچی۔ سکول کے کھیل کے میدان سے گزرتے گھر آتے مرؔے کالج سے کچھ فاصلے پر کبھی کبھی بڑے سے صحن والی اس بورڈ لگی عمارت کے گیٹ کے ساتھ والی پوری دیوار پر بیٹھے بستوں کے ساتھ سکول کے طالبعلم اور دیوار سے اندر جھانکتے راہ گیروں کے چسکے دار نعروں کے تجسس پر راز کھلا کہ یہ اس ہسپتال کے اس حصے میں ہوتی گائے بھینس گھوڑی گدھی وغیرہ کی افزائش نسل کی کارروائی کے لائیو مناظر سے لطف اندوز ہونے والوں کا مجمع ہوتا ہے۔ اور جانوروں کے امراض کی علاج گاہ تو ہے ہی۔ فیصل آباد منتقل ہوئے تو زرعی یونیورسٹی (اس وقت تک کالج ) میں ”ڈنگر ڈاکٹر“ بنانے کے شعبہ کا بھی علم ہوا۔ اور ڈنگر ڈاکٹر کی اصطلاح عام بول چال میں خصوصی طعن کے معنوں میں استعمال ہوتی ملی۔ اور پھر کتے بلی پالنے کی رو بھی بائیس سال قبل ملک چھوڑنے کے وقت خاصی چل پڑی تھی۔ اور ڈنگر ڈاکٹر ویٹرنری ڈاکٹر کے معزز پیشے میں بدل چکا تھا۔
کینیڈا آتے ہی شہر سے باہر ویرانے میں اپنے گیس سٹیشن پر ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اور بیگم چائے لا ساتھ کھڑی تھیں۔ ایک مستقل گاہک ادائیگی کرنے آیا تو آنسو ڈھلک رہے تھے ابھی پوچھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ دھاڑیں مار رونے لگ گیا۔ اور بتایا کہ اس کا محبوب کتا شدید بیمار ڈاکٹر کے کلینک میں ہے اور ڈاکٹر نے علاج کے لئے فوری طور کم از کم تین ہزار ڈالر لانے کا کہا ہے۔ ”میں کہاں سے لاؤں، چلا ہوں احباب سے قرض مانگنے“ ساتھ ہی فون کی گھنٹی بجی اور اسے اطلاع ملی کہ کتا مر چکا۔ اور اب اس کے رونے بین کرنے کی آوازوں میں تدفین کے لئے بھی اتنی رقم درکار ہونے کی چیخیں شامل تھیں یہ کینیڈا میں جانوروں کے علاج کے متعلق پہلی معلومات تھیں۔ شہر منتقل ہونے پہ ویٹرنری کلینک اور ہسپتالوں کی شاندار عمارتیں بھی نظر آنے لگیں۔
چند ہفتے قبل ایک فیملی ڈنر پہ ریسٹورنٹ پہ اکٹھے ہوئے تو میرے سامنے والی نشست پہ میرے پرائمری جماعت سے کلاس فیلو اور بہترین دوست کے صاحبزادہ زرعی یونیورسٹی سے ویٹرنری ڈاکٹر کی ڈگری کے باوجود کئی سال پڑھتے اب یہاں کے بھی لائسنس یافتہ ڈاکٹر احسان آ بیٹھے۔ جب ذکر اس پری وش یعنی کتے کے علاج کا چھڑ گیا تو بیگم کو اس بین کرتے بندے کا کتا اور علاج کے خرچے کی کہانی یاد آ گئی۔ اور پھر کھانا ختم ہونے تک پالتو جانور، خصوصاً کتے کے علاج کی فیسوں، مراحل اور پالنے کے شوق کے مول تک کی کہانیاں سننے کو مل گئیں۔ ملخص کچھ یوں نکلا۔
کتے کے مالک کو ٹیکا تو ہسپتال سے مفت لگتا ہے مگر اسے اپنے کتے کو وٹرینری کلینک لانا پڑ جائے تو تین سو سے تین ہزار تک کا ٹیکا لگنا معمولی بات ہے۔ لاعلاج کتے کو مارنا اور اس کے جسم کو ٹھکانے لگانے کی فیس بھی تین ہزار سے شروع ہو کر کتے کے مالک کی اس سے محبت اور معیار کے اور شوق کے مطابق سات آٹھ ہزار تک پہنچتی ہے۔
جھینگر کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
قیصر کا یہ پیارا ہے اسے توپ پہ کھینچو
(پتہ نہیں کسی نے انگریزی دور کا یہ طغرہ سنا ہوا ہے یا نہیں)
انسانی بیماریوں کے سپیشلسٹ کی طرح پالتو جانوروں کے بلکہ ہر جانور کی بیماری کے علیحدہ سپیشلسٹ بھی ہیں۔ جن کی معائنہ اور تشخیص فیس ہی چار پانچ سو ڈالر تک پہنچتی ہے۔ (بتاتا جاؤں انسانی سپیشلسٹ ڈاکٹر کو حکومت غالباً فی معائنہ سو ڈالر سے کم دیتی ہے اور عام ڈاکٹر کو چالیس کے لگ بھگ ملتے ہیں۔ ) دل کی سرجری، پیس میکر وغیرہ آٹھ دس ہزار ڈالر، اور کچھ دن قبل ہی ان کا ایک گاہک اپنے کتے کی آنکھ کی سرجری دس ہزار ڈالر میں کرا کے آیا تھا۔ تاہم ایسے شوقین عموماً ”اپنے پالتو کی انشورنس لئے رکھتے ہیں۔
یاد رکھیں بیگم کی خدمت اور اسے راضی رکھنے کی نسبت کتے کی خدمت اور اور اس کا ”رانجھا راضی رکھنا“ بدرجہا مشکل ہے۔ اس کا زیادہ ادراک چند سال قبل کرسمس کی چھٹیاں بیٹی کے پاس ونی پیگ ( مینی ٹوبہ صوبہ ) مناتے ہوا۔ صبح اٹھے تو درجۂ حرارت منفی چالیس سنٹی گریڈ سے بھی کم تھا اور ہوا تیز۔ اور اس یخ کرتے ماحول میں بھی بوڑھے جوان مرد و زن کمر پہ سلطان راہی کی کمر پر بندھے پستول گولیوں کے میگزین کی طرح کے بندھے پٹہ کے ساتھ بندھی کتے کی رسی سنبھالتے پچھواڑے کے جنگل میں گزرتی پگڈنڈی پہ کئی فٹ برف میں لے سیر کرانے پر مجبور تھے۔ کتے کو گرم رکھنے کے انتظام بھی ان کے اپنے لباس سے زیادہ تھے۔ بیگمات کا ایسا مطالبہ تو نہیں ہوتا نا۔
اصحاب کہف کے کتے سے وفاداری کا تمغہ حاصل کرتے دنیا بھر میں چوکیداری کے لئے معروف ہو جانے والے اس جانور میں بھی محبت کے ساتھ نفرت اور رقابت کے جذبات کم نہیں ہوتے۔ نزدیک ہی ایک بڑے رقبہ پہ مگر کچھ ویران علاقے میں بنے بنگلہ کی مکین فیصل آبادی بچی اپنے بہت ہی محبوب اور پیار کرتے کراتے قدموں میں لوٹتے فرض شناسی سے چوکیداری کرتے کتے کے ساتھ ہی ایک دوسرے کتے کو بھی لے پالک بنا لائی۔ دوپہر جب گھر پہ اکیلی تھی اچانک کتے نے نووارد رقیب سے پیار دیکھ کر چھلانگ لگائی اور اسے بھنبھوڑنا شروع کر دیا۔ پتہ نہیں کس طرح اسے دھکا دے کر وہ کمرے میں گھسی اور دروازہ بند کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کا فون باہر گر چکا تھا اور کتا خوب زخمی کر کے بازو کی بوٹی اتار لے جا چکا تھا۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد اتفاقاً ہمسایہ گھر کا کوئی فرد ادھر آ نکلا۔ گڑبڑ محسوس کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی اور یوں اس کی جان بچی۔
جی ہاں چوکیدار دیانت سے اپنا فرض نبھاتا ہی اچھا ہوتا ہے۔ جب اس کا کوئی رقیب آ جائے یا اس کی عملداری میں رخنہ ڈالے یا کوئی اور اسے لذیذ گوشت ہڈیاں ڈال کر اپنا دیوانہ بنا لے تو وہ اصل مالک کی بوٹی بھنبھوڑ کر کمرے میں بند کرنے کے جذبات اور طاقت بھی رکھتا ہے۔ یہی دستور دنیا ہے۔ انسانوں میں بھی اور جانوروں میں بھی۔ خواہ وہ وفادار ترین کہلانے والا کتا ہی ہو۔


