انگریزی کی غیر انسانی سزا شیطانی ہوا کیا تھی

جب انگریز ہندوستان میں جہاز سے اترے تو ہندوستان ایک امیر ملک تھا جس کی جی ڈی پی پورے کرہ ارض کا تقریباً 25 فیصد تھی۔ جہاں کہیں بھی انگریزوں نے ہندوستان کے علاقے پر قبضہ کیا، انہوں نے سخت پیداواری ٹیکس لگائے، مقامی صنعت کو تباہ کیا، اور برطانیہ کو بھارت کے قدرتی وسائل برآمد کیے۔ اس عمل میں وہ لاکھوں لوگوں کو غربت کی طرف دھکیلتے رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انگریز مقامی آبادی کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کے طور پر بھی برتاؤ کر رہے تھے۔
مظلوم مقامی آبادی کو آخری چنگاری اس وقت لگی جب انگریز فوج کے بھارتی سپاہیوں کو نئی قسم کی رائفلیں فراہم کی گئیں۔ یہ رائفلیں فائرنگ کے لئے پہلے کے مقابلے میں بہتر تھیں، مگر اس کے این فیلڈ کارتوس کو استعمال سے پہلے منہ کے ذریعے اس پہ لگے ہوئے چکنے کاغذ کو اتارنا ضروری تھا۔ ان کارتوسوں پر استعمال ہونے والی چکنائی کے بارے میں کئی افواہیں پھیل گئی تھیں ؛ مثلاً یہ چکنائی گائے کی چربی سے حاصل کی گئی جو ہندوؤں کے لئے قابل اعتراض بات تھی، اور یا کہ اس چکنائی کو سؤر کی چربی سے حاصل کیا گیا تھا، مسلمانوں کے لئے اس چکنے کاغذ کو منہ سے کاٹنا قابل قبول نہیں تھا۔
انگریزوں کی مسلط کردہ غربت کے باعث ہندوستانی بڑی تعداد میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ بغاوت سے ٹھیک پہلے فوج میں 300،000 سے زیادہ بھارتی سپاہی تھے جبکہ تقریباً 50،000 برطانوی بھی تھے۔
مارچ 1857 میں بنگال آرمی کے ہندوستانی فوجی اپنے نوآبادیاتی آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ جلد ہی ہزاروں ناخوش شہری بھی شامل ہو گئے جو برطانوی سلطنت کی تاریخ کی سب سے زیادہ خونریز بغاوت بن گئی۔ مگر بنگال کی بغاوت کو تھوڑے ہی عرصے میں کچل دیا گیا۔
اس دوران منگل پانڈے نامی ایک سپاہی، جسے آج کے ہندوستان میں قومی ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے، نے بیرک پور، بنگال میں فوجی چھاؤنی میں برطانوی افسروں پر حملہ کیا۔ انہیں اپریل کے اوائل میں انگریزوں نے گرفتار کیا گیا اور پھر پھانسی دے دی گئی۔
اپریل میں میرٹھ چھاؤنی میں سپاہیوں نے این فیلڈ کارتوس کو استعمال کے لئے منہ سے کاٹنے سے انکار کر دیا تو انہیں لمبی قید کی سزائیں سنائی گئیں، زنجیریں پہنا دی گئیں، اور جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ان سزاؤں نے ان کے ساتھیوں کو غصے سے دیوانہ کر دیا اور وہ 10 مئی کو اٹھ کھڑے ہوئے، اپنے برطانوی افسران کو گولی مار دی، اور دہلی کی طرف مارچ کر دیا جہاں کوئی یورپی فوجی نہیں تھا۔
بہت سے ہندوستانی انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، تاہم بہت سے ہندوستانیوں نے انگریزوں کے لئے لڑائی لڑی، اور اکثریت بظاہر برطانوی حکمرانوں کے تابع رہی۔ برطانوی افسروں اور شہریوں بشمول خواتین اور بچوں پر باغیوں کی طرف سے غیر معمولی تشدد کیا گیا؛ باغیوں اور ان کے حامیوں، بشمول کبھی کبھی پورے گاؤں سے، برطانوی حکؔام نے انتہائی دہشتگردی سے انتقام لیا۔ دہلی اور لکھنؤ کے شہروں کو لڑائی اور انگریزوں کی جوابی کارروائی میں برباد کر دیا گیا۔ یہ بغاوت، جسے ہندوستان میں برطانوی حکمرانی کے خلاف آزادی کی جنگ کہنا چاہیے، نومبر 1958 تک جاری رہی۔
برطانیہ میں یورپیوں پر بھارتیوں کے تشدد اور انتقامی کارروائیوں کی تصاویر کونے کونے پہ گردش کر رہی تھیں۔ اخبارات نے ”ہندوستانی وحشیوں“ کو کامیابی سے دبانے اور سزا دینے کے بارے میں مثالیں اور اپنی آرائیں دیں۔ برطانوی پریس نے کامیابی کے ساتھ قومی جذبات کو بھڑکایا کیا اور انتقام کی برطانوی ضرورت کو بھی اتنا ہی موثر طریقے سے پیش کیا۔
یہاں شائع ہونے والے ایک خط کا ایک اقتباس ہے :
”میں اسٹریمر کے ذریعے گیا۔ دیہاتوں کو جلانے کے لئے۔ ہم اپنے ساتھ 12 پاؤنڈ کی ہووٹزر گاڑی لے گئے اور بہت سارے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ ملک آہستہ آہستہ خاموش ہو رہا ہے، کیونکہ ہر مقامی کو کتے کی طرح گولی مار دی جاتی ہے۔
(حوالہ: 5 ستمبر 1857، السٹریٹیڈ لندن ٹائمز۔ خط)
”شیطانی ہوا“ کیا تھی؟ بغاوت کرنے والوں کی گرفتاری اور سزا برطانوی ردعمل کا ایک حصہ تھی، لیکن اس سے زیادہ اہم پہلو سزا کی نوعیت تھی۔ اس سزا کو اخبارات نے ”انتقام کی پیاس“ قرار دیا تھا۔ انگریزوں کے لیے اس سے زیادہ اطمینان بخش کوئی سزا نہیں تھی کہ بغاوت کرنے والوں کو توپ کے بیرلوں سے باندھ دیا جائے تاکہ بارود سے ان کے پرخچے کر دیے جائیں۔ ان توپوں کو صرف بارود کے کارتوس کو جلا کر اور توپ کے گولے کے استعمال کے بغیر فائر کیا جاتا تھا۔
اس کے نتیجے میں توپ کے بور میں پیدا ہونے والی ہوا کے شدید دباؤ کی وجہ سے توپ کے منہ سے باندھے گئے شخص کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے تھے۔ یہ سزا اس قدر بدنام تھی کہ 1880 کی دہائی میں عظیم روسی مصور واسیلی ویسیلیوچ ویریشچاگن ( 1842۔ 1904 ) نے اپنی مصوری کے ذریعے شیطان کی ہوا کا تاثر پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ درج ذیل اسی برطانوی اخبار کا ایک اور اقتباس ہے :
”اس سے زیادہ خوفناک سزا کا تصور شاید ہی کیا جا سکتا ہے، اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ فوری سزا ہے، اور انگریزوں کی ساکھ کے لئے اسے با عزت سمجھا جاتا ہے۔“
(حوالہ: 22 اگست، السٹریٹیڈ لندن ٹائمز)
تاہم اس انتہائی جبر پہ فرانسیسی اور امریکی پریس نے انگریزوں کو ہندوستان میں ان کے ظلم و ستم پر تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ برطانوی اخبارات کا جواب یہ تھا کہ فوری طور پر برطانوی افواج کی جانب سے اس طرح کی کسی بھی انتقامی کارروائی کی تردید کی جائے۔ مثلاً ایک اخبار نے، جس نے ان انتقامی کارروائیوں کی حمایت کی تھی اور آزادی کے مجاہدین پہ ان بھیانک جرائم کے اطلاق کے لئے زور دیا تھا، لکھا:
”ہم امتیازی قتل عام کے تصور کو یکسر مسترد کرتے ہیں : ہم نہیں مانتے کہ کوئی ایسا چاہتا ہے، یا یہ کہ یہ ہمارے دور حکومت میں کبھی ایسا کیا گیا ہے۔“
( 21 نومبر، لندن ٹائمز)
برطانوی انتظامیہ کے ریکارڈ کے مطابق 1957۔ 58 کی جنگ آزادی میں تقریباً 6000 برطانوی مارے گئے تھے۔ اس کے برعکس ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد آٹھ لاکھ ہے۔ اس میں ان لوگوں کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں جو جنگ آزادی اور اس کے بعد کی جدوجہد کے دوران یا پھر اس کے نتیجے میں قحط اور وبائی امراض میں مارے گئے تھے۔
انگریزوں کی پالیسیوں کے ذریعے ہندوستانی آبادی کی نسل کشی اس کے بعد بھی جاری رہی۔ ہندوستان میں اموات کی شرح کے بارے میں قابل اعتماد اعداد و شمار صرف 1880 کی دہائی سے موجود ہیں۔ اگر ہم اسے ”عام“ اموات کی بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 1891 سے 1920 کے عرصے کے دوران برطانوی استعمار کے زیر اثر تقریباً 50 ملین اضافی اموات ہوئیں۔
پچاس ملین اموات ایک حیران کن اعداد و شمار ہیں، حالانکہ یہ ایک بہت احتیاطی تخمینہ ہے۔ حقیقی اجرتوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 1880 تک نوآبادیاتی ہندوستان میں معیار زندگی پہلے ہی اپنی پچھلی سطح سے ڈرامائی طور پر گر چکا تھا۔ کچھ محققین کا اندازہ ہے کہ 1881 سے 1920 کی مدت کے دوران ہندوستان میں 165 ملین اضافی اموات ہوئیں۔
شیطانی ہوا صرف آزادی کے جنگجوؤں اور ان کے حامیوں کے لئے ایک سزا نہیں تھی۔ درحقیقت برطانوی راج کا ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کا پورا دور ہندوستانی آبادی کے لئے شیطانی ہوا تھی جس میں انگریزوں نے مقامی عوام پر صنعت کی تباہی، غربت، قحط، طاعون، دہشت گردی، قید با مشقت اور قتل عام کے حربے بلا دریغ استعمال کیے ۔
حوالہ جات:
1۔ کتاب: شیطان کی ہوا: ہندوستانی بغاوت کی شروعات۔ ساؤل داؤد۔ اینڈیور پریس لمیٹڈ۔ 2013
2۔ مضمون: شیطان کی ہوا: برطانوی انتقام۔ انوج کوشل۔ 2018 ;
3۔ مضمون: 1857 ء کی بھارتی بغاوت۔ ویکیپیڈیا
https://en.wikipedia.org/wiki/Indian_Rebellion_of_1857
4۔ مضمون: کس طرح برطانوی استعمار نے 40 سالوں میں 100 ملین ہندوستانیوں کو ہلاک کیا۔ ڈیلن سلیون اور جیسن ہیکل۔ دسمبر 2022۔
https://www.aljazeera.com/opinions/2022/12/2/how-british-colonial-policy-killed-100-million-indians

