قبائلی اضلاع کے مسائل کا ملکی سلامتی پر اثر
قدرت کا ایک اٹل قانون ہے کہ جہاں امن نہ ہو وہاں انسانی زندگی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے۔
امن ہی انسانیت اور خلق خدا کی خوشحالی کی اخری ضمانت ہے۔ کراہ ارض کے جس خطے پر امن کے سائے غالب نہ ہوں، وہاں دوسرے شعبہ ہائے زندگی کی بر بادی کے ساتھ ساتھ اقتصادیات اور معاشیات تباہی سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ لہذا ثابت ہوا کہ سماج کی پہلی اور لازمی ضرورت امن ہے۔ امن ہو تو خوشحالی آ سکتی ہے۔
امن کے بغیر زندگی کے تمام تر شعبے بے سود و ثمر ہوا کرتے ہیں۔ انسانی زندگی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے۔ سماج میں غیریقینی صورتحال اور بے چینی پھیل جاتی ہے۔ مسائل سر اٹھاتے ہیں۔ خلفشار پیدا ہوتی ہیں۔ وطن عزیز کی خوشحالی، ترقی اور پائیدار امن کے قیام کے لئے جہاں کئی جہتیں ایسی ہیں جن کی طرف کامل توجہ اور مضبوط منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں پاکستانی کی خوشحالی اور پائیدار امن کے قیام کا ایک رستہ قبائلی اضلاع سے ہو کر نکلتا ہے۔ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کی مجموعی صورت حال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ آ سکی۔
سوال یہ ہے کہ قبائلی اضلاع میں مسلسل بد امنی کی لہریں کیوں اٹھتی ہیں؟ آج کل تو بد امنی کے مہیب سائے مزید پھیلتے جا رہے ہیں۔ عموماً ملک کے دوسروں حصوں میں بد امنی کے بعد مغربی سرحد کی جانب انگلیاں کیوں اٹھتی ہیں؟ کیا آسمان نے یہ منظر نہیں دیکھا؟ کہ پورے ایک ضلع ( شمالی وزیرستان ) میں ہزاروں افراد نے وطن عزیز کے یوم آزادی کو بطور ”سیاہ دن“ کے منایا؟ مقبوضہ کشمیر کے عوام ہندوستان کے یوم آزادی پر یوم سیاہ مناتے سنا تھا، لیکن وطن عزیز کے بارے میں یہ کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ کیا ایسے امراض کی تشخیص اور پھر علاج معالجہ اولین ترجیح نہیں ہونا چاہیے تھا؟ نہ معلوم ہمارے ارباب اختیار کو اس بات پر کامل یکسوئی سے غور فرمانے کی کب توفیق ملتی ہے۔
سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کی جان، مال اور ابرو کی حفاظت ریاست کے فرائض میں سے اہم ترین اور پہلا فریضہ ہے۔ جہاں شہری آزاد فضاؤں میں سانس لے سکے، جہاں شہریوں کو معاشرت، معیشت اور سیاست کی آئینی آزادی دستیاب ہو۔ شہریوں کے بھی جہاں حقوق ہوا کرتے ہیں وہیں فرائض بھی ہیں۔ لیکن امن قائم کیسے کیا جائے؟ یہ سب کچھ کیسے ممکن بنایا جائے؟ ہمارے خیال میں اس کے طویل المدتی اور کثیر المدتی حل موجود ہیں۔ ان میں ایسے ایشوز اور معاملات ہیں کہ جن کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی پیراڈیم شفٹ کا انتظار کرنا پڑے گا۔ مسائل نہایت بڑے ہیں، نتائج بھی اس کے خطرناک سکتے ہیں لیکن ان کا حل نہایت آسان اور کم خرچ ہے۔
مسائل کی نشاندہی ہم سب باآسانی کر سکتے ہیں لیکن حل کی طرف یا تو ہم بڑھتے نہیں! یا ریاست اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامل طور پر بظاہر فیل ہے۔ اگرچہ بظاہر ریاست کوشش کرتی نظر آتی ہے لیکن نتائج و ثمرات مثبت مرتب نہیں ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا۔ عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔
یاد رہے کہ قیام امن کے لئے طاقت کا استعمال نہایت آخری اپشن ہوا کرتی ہے۔ اس سے پہلے کئی پہلوؤں پر کام کرنا ہو گا۔
سماج کے اجتماعی شعور کو یہ عملی احساس دلانا ریاستی ذمہ داری ہے کہ سماج میں قیام امن کے لئے ریاست درست سمت پر کام کر رہی ہے۔ حالات کو نارمل کر کے برقرار رکھنا اصل چیلنج ہے۔ اگر ریاست اور شہری اس بات پر سر جوڑ کر نہ بیٹھے کہ قیام امن میں ہم سے کون سی غلطیاں تسلسل کے ساتھ سرزد ہو رہی ہیں تو ہمارے خیال میں خاطر خواہ اور مثبت نتائج کے امکانات بہت کم ہیں۔ قبائلی اضلاع میں قیام امن کیونکر ناممکن ہے؟ اور کیسے امن قائم کیا جا سکتا ہے اصل سوال یہی ہے۔ قیام امن کے لئے کئی جہتیں ہیں، کئی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔
چند بنیادی اقدامات اٹھانے سے عوام کے کچھ بنیادی حقوق ان کے سپرد کرنے ہوں گے ۔ صحت، تعلیم، انصاف اور کچھ دیگر حقوق ہیں جو ریاست نے بہر صورت عوام کو مہیا کروانے ہیں۔
پاکستان بھر کے حالات کا نمونہ ہم ضم شدہ اضلاع میں سے ایک ضلع کے حالات سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں وزیرستان کے حالات کا آنکھوں حال پیش خدمت ہے، تاکہ ہم اچھی طرح جان سکیں کہ ہم نے ٹھوکر کہاں کھائی ہے۔
نظام عدل و انصاف سے جڑے چند مسائل کے آسان حل
آج کے دن تک ضلع اپر وزیرستان اور ضلع لوئر وزیرستان انضمام کے بعد کوئی عدالت ہے اور نہ کوئی جج دستیاب ہیں۔ عدالتی ضروریات کے لئے اپر و لوئر وزیرستان کے غریب اور سہمے ہوئے لوگ 130 کلو میٹر دور کسی اور ضلع جاتے ہیں۔ دونوں اضلاع کے جوڈیشل کمپلیکس ضلع ٹانک میں ہیں۔ کیوں نہیں عدالتی عملہ اور دفاتر متعلقہ اضلاع منتقل کیے جاتے۔ اس کام کے لئے کسی قانون سازی کی ضرورت ہے نہ کسی خاص مغز ماری کی۔ ایک ہی نوٹیفیکشن سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور عوام کو ایک بہت بڑا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
تعلیم اور صحت کے حل طلب مسائل
تعلیم کے سلسلے میں ہماری سنجیدگی کا یہ عالم ہے، کہ ( بطور مثال ) تحصیل برمل کا ایک علاقہ ہے جس کو زیڑ غوژ/کالوتائی کہا جاتا ہے، تقریباً 15 ہزار انسانوں کے لئے تعلیم اور صحت کے بنیادی مراکز کا وجود ہی نہیں۔ مشاہدے کی بات ہے سینکڑوں نوجوان منشیات کی بدترین بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے مقامی ذمہ دار کے مطابق 18 ہزار نفوس پر مشتمل علاقہ کو تائی اور درگے کوت تک میل اور فی میل کے لئے ایک بھی تعلیمی ادارہ موجود نہیں۔ صرف وانا سب ڈویژن میں درجنوں ایسے علاقے ہیں جہاں ہزاروں افراد تعلیم اور صحت جیسے حقوق سے محروم ہیں۔ اپر وزیرستان جہاں محسود اور برکی قبائل آباد ہیں، یہاں بھی ایسی حکومتی غفلتیں جاری ہیں۔
لوئر اور اپر وزیرستان کے تقریباً ایک ملین، ( 10 لاکھ کے قریب ) انسانوں کے لئے کوئی ایک بھی سائیکارٹرسٹ ( نفسیاتی و دماغی امراض ) کا اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں۔ محکمہ صحت وزیرستان کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمارے ہاں دماغی امراض کے لئے کوئی اسپیشلیسٹ ڈاکٹر دستیاب نہیں، حالانکہ وزیرستانی لوگ اننگزائٹی اور ڈپریشن کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں نفسیاتی امراض میں اضافہ تشویش ناک حد تک بڑھ رہی ہے۔
کم و بیش 10 دس لاکھ انسانوں کے لئے کوئی ایک بھی نیورو سرجن یا نیورو فزیشن موجود ہی نہیں۔ اس ذریعہ کا مزید کہنا تھا کہ سکین اسپیشلسٹ یا جلدی امراض، ای این ٹی، ناک کان گلے کی اسپیشلسٹ ڈاکٹر، اینڈو کرائنولوجسٹ ( ماہر غدود) /ڈایا بیٹالوجسٹ ( ماہر ذیابیطس) دستیاب نہیں، نیفرولوجسٹ، ہمٹالوجسٹ اور ریڈیالوجسٹ اسپیشلسٹ ( گردوں کے ماہر) خون کے ماہرین اور ایکسرے ماہرین) دستیاب نہیں۔
10 لاکھ انسانوں کے لئے کوئی ایم آر آئی مشین نہیں، انجیو گرافی، ای ای جی اور انجیو پلاسٹی جیسے سہولیات موجود نہیں، لاکھوں انسانوں کے لئے کوئی ٹراما سنٹر نہیں۔ وزیرستان میں منشیات کا استعمال وبائی شکل اختیار کر چکی ہے لیکن حکومت نے کوئی بحالی سنٹر نہیں بنا رکھا ہے۔ ان سہولیات کو بہم پہنچانے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ 10 لاکھ انسانوں کے لئے امراض قلب کی سرجری کا کوئی ڈاکٹر ( کارڈیک سرجن ) دستیاب نہیں۔ ایک ملین انسانوں کے لئے ایک بھی وینٹی لیٹر دستیاب نہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ ذہنی مرض ڈپریشن کے شکار ہیں۔ ہزاروں مریض نشہ آور ادویات الپرازولیم اور ڈیازیپام جیبوں میں لئے پھیرتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد کے حالات واقعات سے ڈپریشن، مالیخولیا، شیزوفرینیا جیسے امراض کے شکار مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن حکومت کی طرف سے ان کے لئے کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں۔ چرس، ہیروئن اور شیشہ کے عادی لوگ ہزاروں میں ہیں۔ کیسی کیسی جوانیاں جل رہی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے مسئلہ حل کیا۔ معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر فرید اسلم منہاس پہلے ہی تجویز پیش کر چکے ہیں، کہ قبائلی اضلاع کے لئے حکومت ماہانہ ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کرنے کے انتظامات کرتے تو کافی بہتری آجاتی۔
زراعت اور باغبانی و جنگلات کے گمبھیر مسائل
وزیرستان خاص کر وانا و گرد و نواح میں واٹر ٹیبل جس تیزی سے گر رہی ہے یہ پریشان کن صورت حال ہے۔ وانا میں 90 ٪ لوگ زراعت و باغبانی سے وابستہ ہیں۔ بارانی پانی سمال ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے جبکہ 5000 ہزار سے زائد سولر سسٹم کے ذریعے ٹیوب 24 / 7 چلتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے واٹر ٹیبل روز بروز نیچے جا رہی ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق سمال ڈیمز کے لئے صوبائی حکومت نے پچھلے سال دو قبل 55 کروڑ کی رقم مختص کی گئی تھی۔ لیکن کہاں گئے معلوم نہیں۔
دو درجن سے زائد اسمال ڈیمز کی نشاندہی بھی ماہرین کر چکے ہیں۔ قدرتی جنگلات جن میں چلغوزہ شامل ہیں کی کٹائی بے دریغ ہو رہی ہے۔ وزیرستان میں چلغوزے کی قدرتی مقدار پورے ایشاء میں ایک بڑی رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ قدرتی پہاڑی زیتون کی بہترین کوالٹی وزیرستان میں موجود ہے اس کے لئے حکومت وسائل مہیا کریں تو پورے ملک کے لئے مفید نتائج ہوسکتے ہیں۔ پٹوار سسٹم کو لانے میں کون سی مشکل حائل ہے؟ مبصرین کے مطابق مستقبل میں اہالیان وانا کے سروں پر بڑی قدرتی آفت آ سکتی ہے کیونکہ واٹر ٹیبل مسلسل گر رہی ہے تاریخ میں ایک بار اسی وانا سے نقل مکانی ہو چکی ہے۔ ارباب اختیار با آسانی اس مسلے کو حل کر سکتے ہیں۔ قیمتی اور قدرتی جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ آج بھی زور و شور سے جا ری ہے۔
یہ چند مسائل بطور مشت نمونہ خر وار کے ہم نے ذکر کیے ۔
ارباب اختیار اگر چاہیں تو ان بنیادی مسائل کو نہایت کم وقت میں کم اخراجات سے حل کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ جب ریاست مسائل کی حل اور ترجیحات میں درست سمت کا تعین نہیں کرتی تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جب ارباب اقتدار و اختیار، صحت کے سہولیات صحیح معنوں میں مہیا نہ کریں۔ جب مقامی آبادی کو تعلیم کے مواقع فراہم نہ ہو۔ جب ان کے معاشی بہتری کے لئے
ان کے جینوئن مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کریں تب تک امن یہاں قائم نہیں ہو سکتا۔ وزیرستان میں کوئی ایک بھی یوٹیلٹی اسٹور موجود نہیں۔ قیام امن کے لئے
صرف فوجی آپریشن ہی واحد رستہ نہیں۔ وہ مسائل جو آسانی سے کم لاگت سے یا ایک نوٹیفکیشن سے حل ہو سکتے ہیں تو اخر وجہ کیا ہوئی؟ ہاں ریاستی ادارے اور حکومتیں مختلف اوقات میں اقدامات تو اٹھاتے رہتے ہیں لیکن درست سمت کا انتخاب نہیں کرتے۔ طویل المدتی منصوبوں کی ازد ضرورت ہے۔
ان مسائل کو حل کیے بغیر قیام امن بڑی مشکل بات ہو گی۔ نگران حکومتیں بھی بعض گمبھیر مسائل کو کم خرچ اور کم وقت میں حل کرا سکتے ہیں۔ قبائلی عوام کے پاس حکومت کے بڑے جا کر انہیں اپنائیت کا احساس دلا دیں۔ انضمام کے وقت این ایف سی ایوارڈ سے سالانہ ایک بڑی رقم دلوانی تھی لیکن کہاں گئے وہ پیسے؟ حکومت قبائلی اضلاع کے باشندوں کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ اگر سابقہ قبائلی اضلاع میں امن و خوشحالی ہو تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کے مثبت اثرات پورے ملک پر ہوں گے ۔ بصورت دیگر اگر ہماری غفلت یہی رہی تو خاکم بدہن حالات کچھ اور طرف جا سکتے ہیں۔

