ایم ایس سی پاس خطیب انحراف

چند روز پہلے ایک 31 سالہ اکبر علی نامی (فرضی نام ہے ) لڑکے نے رابطہ کیا جس نے بتایا کہ اس نے پنجاب یونیورسٹی سے طبیعات میں ایم ایس سی کی ہے۔ اس نے اپنا تعارف بڑے مرعوب اور پراثر انداز میں کروایا اور ساتھ ہی میسنجر پر اپنی یونیورسٹی کی ڈگری بھیج دی۔ اس لڑکے کی گفتگو بڑی مدلل اور عالمانہ لگ رہی تھی۔ وہ لڑکا اتنا چالاک تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ مجھے وٹس ایپ پر لے آیا۔ میں اس وقت انتہائی مصروف تھا۔ اس کے باوجود اس نے کم و بیش مجھے پندرہ بیس منٹ تک اپنے ساتھ جوڑے رکھا۔
لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ”مجلس“ پڑھتا ہے، ”چلے“ لگاتا ہے، ”دم درود“ کرتا ہے، ”کل“ اور ”چالیسویں“ وغیرہ پر جاتا ہے اور بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتا ہے۔ یہ میرے لئے ایک حیران کن انکشاف تھا! اس کے ثبوت میں اس نے مجھے اپنی تقریروں کے اشتہارات اور ویڈیوز وغیرہ بھی بھیجیں۔ اس کی تقاریر روایتی قسم کی جذباتی تقاریر تھیں جس پر اجتماع میں موجود لوگ عموماً عش عش کر اٹھتے ہیں۔ آپ گوگل کریں تو آپ کو ”مولوی ٹوکا“ اور اس انداز کے دوسرے بہت سے جذباتی قسم کے مقررین مل جائیں گے جو ایسی جگہوں پر مجمع لوٹنے کا فن جانتے ہیں۔
حالانکہ وہ عموماً مدرسوں کے پڑھے ہوتے ہیں یا وہ سرے سے ان پڑھ ہوتے ہیں۔ یہ ساری واردات ڈالنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا، ”گزشتہ برس میرے والد گرامی انتقال کر گئے تھے ایک ماہ بعد ان کی برسی ہے جس پر وہ ایک بڑا مذہبی اجتماع کروانا چاہتے ہیں۔“ اس نے مجھے بتایا کہ اس اجتماع پر 4 لاکھ سے 5 لاکھ روپے خرچ آئے گا جبکہ اس کے پاس تین لاکھ روپے ہیں۔ تب اس نے مجھ سے دو لاکھ روپے اس نیک کام میں حصہ ڈالنے کے لئے مانگ لیے۔
اب یہ معلوم نہیں کہ وہ لڑکا واقعی فزکس میں ایم ایس سی ہے یا نہیں۔ تاہم ہمارے درمیان بہت سے ایسے طلباء ہیں جو اپنی تعلیم اور قدرتی صلاحیتوں کے برعکس پیشوں میں کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اصل تعلیم اور پوٹینشل سے ”انحراف“ کرتے ہیں! ہمارے ہاں ”کنڈر گارٹن“ سکولوں کا کوئی تصور نہیں جہاں ماہرین نفسیات بچوں کی تربیت اور مستقبل کی منصوبہ بندی ان کی بنیادی ذہانت کے مطابق کر سکیں۔ اگرچہ یہ بات میرے لئے اتنی نئی اور حیرت انگیز نہیں جتنی میرے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ ایک طالب علم نے فزکس میں ایم ایس سی پاس کی اور اس نے سائنس دان بننے، نئی تھیوریز تخلیق کرنے یا محض پروفیسر بن کر رزق حلال کمانے کی بجائے اسلام کے کسی ایک مسلک یا فرقے کا روایتی پرچارک بننے کو ترجیح دی اور اسی کو اپنا پیشہ بنا لیا!
اکبر علی بلا کا ذہین تھا، وہ موقع کی مناسبت سے گفتگو کرتا رہا۔ میں نے جب ”مذہب“ ، ”سائنس“ اور ”مسلم احیاء“ کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا، ”مذہب کی تجدید نہ ہوئی تو اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے“ وہ مذہبی دھونس، دھاندلی اور انتہاء پسندی سے نالاں نظر آیا۔ اس نے کہا مذہبی معاشرے دنیا بھر میں غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ہمارے ہاں گھٹن کا ماحول ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مذہب کی تشکیل نو کریں۔
اس کے یہ خیالات بہت سنجیدہ تھے جن سے میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے سوچا وہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود آخر اس کام میں کیوں آیا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ مہینے کے کتنے روپے کما لیتا ہے تو اس نے بتایا کہ وہ ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے تک آسانی سے کما لیتا ہے۔ آغاز میں ایک فزکس کا لیکچرر سرکاری کالج یا یونیورسٹی میں بھرتی ہو کر کتنی تنخواہ لیتا ہو گا؟ شاید زیادہ سے زیادہ ساٹھ ہزار سے نوے ہزار ہو گی۔
اگر اس طرح تقریریں اور وعظ کرنے، جلسے اور مجلسیں پڑھنے سے اسے ہر ماہ چار سے پانچ لاکھ روپے ملتے ہوں تو بھلا وہ ”لیکچرر شپ“ میں کیوں جان مارے گا چاہے اس سے مذہبی منافرت اور فرقہ واریت ہی کیوں نہ پھیلتی ہو۔ میری اکبر علی سے دو روز قبل بات ہوئی تھی۔ آج میں اتفاقا اس موضوع پر یہ کالم لکھ رہا تھا کہ اس نے مجھے دوبارہ میسج کیا اور اپنے اگلے پروگرام کا اشتہار وٹس وٹس ایپ کر دیا جس میں تاریخ اور وقت درج تھا۔ اس نے مجھے بڑے خلوص سے دعوت دی کہ میں بھی اس کے پروگرام میں شرکت کرنے آؤں۔ وہ ایم ایس سی پاس کا ناٹک کر رہا تھا یا وہ واقعی یہ ڈگری رکھتا تھا؟ وہ جس ”کنفیوزڈ سوسائٹی“ میں رہتا ہے شاید اپنے اس پیشے کی حقیقت وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

