پنچم کا فراق


جنوں پریوں کا گانا (2)

 ’ خاں صاحب آپ میرے گھر میں رہیں‘

استاد نزاکت علی خاں صاحب ایک دو ہفتے کے بعد مجھے لاہور سے اسلام آباد ملنے آ جاتے، کہتے لاہور میں ان کا دل نہیں لگتا، میرا دو بیڈ روم کا گھر کوئی اتنا بڑا تو نہیں تھا کہ میں کسی کو اپنے گھر رہنے کی دعوت دے سکتا لیکن جب خاں صاحب تیسری بار مجھ سے ملنے آئے تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ان کو اپنے گھر ٹھہرنے کی دعوت دے دی

ہمارے گھر میں ایک بیسمنٹ تھی جس میں چھوٹی سی لائبریری اور پڑھنے لکھنے کے لیے ایک میز تھی۔ میں نے اپنی بیوی سارہ سے بات کی تو اس نے کہا میں میز اٹھوا کر لاونج کے ایک کونے میں رکھوا دیتی ہوں اور خاں صاحب کے رہنے کے لیے بیسمنٹ میں ان کا بستر لگوا دیتی ہوں۔ اگلے ہفتے خاں صاحب اپنے نہایت مختصر سے سامان کے ساتھ میرے گھر شفٹ ہو گئے۔ ان کے سامان میں سب سے قیمتی چیز ان کا ہارمونیم تھا۔

دوسرے دن صبح صبح مجھے باورچی خانے سے برتنوں کے کھنکنے کی آواز آئی، میں نے اٹھ کر دیکھا تو خاں صاحب اپنا ناشتہ بنا رہے تھے۔ میں نے کہا خاں صاحب آپ یہ کر رہے ہیں، گھر میں ملازم موجود ہے،

 ’سرمد صاحب ہم اپنا کھانا خود پکاتے ہیں۔‘ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، اس پر میں انہیں کچھ نہ کہہ سکا اور اپنے لئے چائے کی ایک پیالی بنا کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ خاں صاحب کا ناشتہ دو توس، ہلکا سا مکھن اور ایک چائے کی پیالی تھی۔ ناشتے کے دوران انہوں کہا، ’سرمد صاحب اگر کوئی غیر شخص ہماری ہانڈی سے ڈھکن اٹھا کر ہمارے کھانے کو دیکھ لے تو ہم وہ کھانا نہیں کھاتے‘

 ’کیوں خاں صاحب؟‘ میں نے پوچھا

 ’ سرمد صاحب کھانے کو نظر لگ جاتی ہے‘ خاں صاحب نے ہنس کر کہا۔

اب خان صاحب کے ساتھ میرا دن رات کا ساتھ تھا، میں صبح ان کے ساتھ ناشتہ کرتا، پھر دفتر چلا جاتا اور شام کو جب گھر آتا تو ہم دونوں باہر چہل قدمی کے لیے نکل جاتے، راستے میں باتیں کرتے، کسی کھوکھے پر رک کر کوئی بوتل لے کر وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتے اور گپ شپ کرتے۔ خاں صاحب اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے، ’سرمد صاحب بچپن میں ہمارے والد ہمیں صبح صبح اٹھا دیتے، ہم انکھیں ملتے ہوئے اپنے سے بڑے اور بھاری تان پورے لے کر بیٹھ جاتے اور کئی گھنٹے ریاض کرتے۔ ‘ کبھی وہ لتا منگیشکر سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے اور کبھی بڑے غلام علی خاں صاحب کے قصے سناتے ’بڑے غلام علی خاں صاحب کے سامنے کسی کو گانے کی جرات نہیں ہوتی تھی لیکن ہم نے اپنی جوانی میں ان کے سامنے گانا گایا اور ان سے باقاعدہ داد لی۔‘

ہم گھر واپس آتے اور اگر خاں صاحب موڈ میں ہوتے تو اپنے ہارمونیم پر کچھ گانے لگتے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ وہ بڑی محویت سے گاتے، ایسی ایسی استھائیاں کہ میں دنگ رہ جاتا، ’ساریاں سکھیاں جھولا جھولیں،‘ سرمد صاحب دیکھیں جھولے کے لفظ کو کیسے ادا کیا گیا ہے ’وہ تلک کمود گاتے ہوئے جھولے کے لفظ پر‘ سا رے ما پا ’کے سروں کو مینڈھ کے انداز میں چھیڑتے ہوئے کہتے اور مجھے جھولا جھولتا ہوا دکھائی دینے لگتا۔ میں کہتا،

 ’واہ خاں صاحب، کیا خوبصورت راگ ہے، ‘

 ’سرمد صاحب آپ بھی کہیں ناں‘ وہ دھیمی آواز میں اس قدر پیار سے کہتے کہ میں بے اختیار ان کے ساتھ شامل ہو جاتا۔ ’ساریاں سکھیاں جھولا جھولیں۔ سا رے ما پا۔ ‘ وہ مجھے گاتے ہوئے کبھی نہ ٹوکتے بلکہ سروں کو بار بار دہراتے اور میرے معصومانہ گانے کا چلن سنوارتے، مجھے محسوس بھی نہ ہوتا اور میرے گانے کی کیفیت اور سے کچھ اور ہو جاتی۔

خاں صاحب نے نہ تو مجھے گنڈا باندھا اور نہ ہی کوئی شاگردی کی رسم ادا کی، لیکن میری روح ان کی شخصیت سے بندھ چکی تھی، خاں کی صحبت میں مجھ پر روز بہ روز موسیقی کا حسن بے نقاب ہو رہا تھا۔ مجھے یک دم اپنے تہذیبی حافظے سے بیگانگی کا احساس ہوا۔ میں ایک ایسی نعمت سے محروم تھا جس کا دنیا میں کوئی بدل نہیں تھا۔ مجھ پر ظاہر ہوا کہ موسیقی ہی ام الفنون ہے، سارے فنون نے اسی کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ایک آہنگ جو پوری کائنات کو ایک اضطراب سے مترنم کیے ہوئے ہے۔ تخلیق کا کرب ہو یا سرخوشی کی ترنگ، تنہائی ہو یا اداسی، ہجر ہو یا وصال، موسیقی ہی ہم کو ان کیفیات سے ہم آغوش کرتی ہے، میرا پہلا عشق موسیقی ہے، میرے لیے میرا ڈرامہ، شاعری، فلم سب اسی محبوب کی گلی میں دن رات گزارنے کے بہانے ہیں، بالکل مصحفی کی طرح جو کہتا ہے،

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا،

کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا

میں اسی زمانے میں واپس ٹی وی آ چکا تھا۔ صوفی کرم دین صاحب جو لوک ورثہ میں مجھے بے تال کر دیتے تھے، ریٹائر ہو چکے تھے۔ ایک دن وہ میرے گھر مجھ سے ملنے آئے تو میں نے انہیں اپنے دو بیٹوں یاسر اور صہیب جنہیں ہم پیار سے یاسو اور ٹیپو کہتے ہیں، طبلہ سکھانے کی درخواست کی جو انہوں نے خوشی سے قبول کر لی۔ صوفی صاحب چھٹی کے دن صبح آ جاتے اور میرے بیٹوں کو طبلہ سکھاتے۔ وہ اصل میں پکھاوجی تھے اور انہیں اس بات پر بڑا فخر تھا۔ جب صوفی صاحب سے میرا پیار بڑھا تو میں ان سے ایک دن کہا، ’یاد ہے آپ مجھے بے تال کر دیتے تھے‘ ، ہنس کر کہنے لگے ’اس لیے کہ آپ کو کوئی اور طبلے والا بے تال کرنے کی کوشش نہ کرے۔ آپ جان جائیں کہ یہ آپ سے دھوکا کر رہا ہے‘ ۔

صوفی صاحب کو ملائی بہت پسند تھی، وہ دس بجے آ کر ملائی سے ناشتہ کرتے اور جب کبھی خان صاحب کے سامنے میں گانا شروع کرتا تو میرے ساتھ طبلہ بجاتے اور ہرگز بے تال نہ کرتے۔ صوفی صاحب خاں صاحب کو بہت پرانا جانتے تھے، کبھی کبھار ان دونوں کے درمیان بھولی بسری یادوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ مختلف گویوں کے قصے کہانیاں، جھگڑے اور مقابلے۔ ان کی گفتگو سننے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔

خان صاحب نے مجھے کبھی کوئی بات زور دے کر یا کسی استاد کی طرح لیکچر دے کر نہیں کہی اور نہ ہی انہوں نے کبھی مجھے کسی غلطی سے روکا، بلکہ غلطی کرنے دی اور بڑے پیار سے اشاروں میں اسے درست کر دیا، مگر پھر کچھ ایسی جگہیں تھیں جہاں انہوں نے مجھے غلطی کرنے سے پہلے ہی روک دیا۔

لفظ تھا ’بالماں‘ جو ’دھا نی نی سا‘ کے سروں میں ایک خاص چلن کے ساتھ چار ماتروں میں ادا ہونا تھا۔ میں ہارمونیم پر ان سروں کو ایک ایک کر کے میکینکلی لگانے کی کوشش کر رہا تھا، ’با با ل ل ل م م اں اں‘ ، ’سرمد صاحب آپ نے یہ ہرگز نہیں کرنا۔‘ خاں صاحب نے خلاف معمول مجھے فوراً روک دیا، میں نے کہا ’خان صاحب میں ہارمونیم پر پہلے سر تو صحیح کرلوں‘ ، انہوں نے کہا ’ہارمونیم چھوڑ دیں اور ویسے ہی کہیں جیسے میں کہہ رہا ہوں‘، میرے لیے یہ بڑی اچنبھے کی بات تھی لیکن میں نے کچھ نہ کہا اور خاں صاحب کی بات پر عمل کرتا رہا۔ وہ اس وقت تک میرے ساتھ اس بندش کو دہراتے رہے جب تک میری ادائیگی صحیح نہ ہوئی۔ بعد میں جب میں نے خاں صاحب سے پوچھا کہ آپ نے مجھے ہارمونیم پر اس بندش کے سروں کو لگانے سے کیوں روکا تو انہوں نے کہا،

 ’سرمد صاحب ہارمونیم پر جب آپ سروں کو توڑ توڑ کر الگ الگ لگائیں گے تو وہ آپ کی یادداشت میں رہ جائے گا، آپ کے گانے میں کہیں نہ کہیں اس کا اثر نظر آئے گا۔ اس کی بے ساختگی میں بھی ایک ساختہ پن کی جھلک ہو گی یعنی جب آپ اسے بالکل صحیح بھی گائیں گے تو کہیں نہ کہیں اس کا ہنگال سا نظر آئے گا‘

میرا بیٹا ٹیپو میرے ساتھ بیٹھا ہماری بات سن رہا تھا کہنے لگا، ’ابو، خاں صاحب کہہ رہے ہیں  ’Don‘t collect the crap! ’

یعنی کوڑ سر کو کانوں میں مت داخل ہونے دیں۔

خاں صاحب نے مجھے بہت لطیف اور گہری بات سمجھا دی تھی۔ ہمارے حافظے جو کچھ بھی چلا جاتا ہے کبھی معدوم نہیں ہوتا، جن باتوں کو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بھول جاتے ہیں وہ بھولتی نہیں وہ کوئی اور روپ اختیار کر لیتی ہیں۔ میرا خیال تھا میرے میکینکل گانے کی یادداشت میری صحیح خوانی سے معدوم ہو جائے گی لیکن ایسا نہیں ہونا تھا، وہ میری صحیح خوانی کے انداز میں کہیں نہ کہیں موجود رہنا تھی۔

اسی طرح ایک دن جب میں ایک استھائی کو کاغذ پر لکھنے لگا تو منع کر دیا، ’کیوں خاں صاحب، ‘ میں نے پوچھا۔

 ’سرمد صاحب استھائی کو کاغذ پر نہیں، سینے پر لکھیں۔ کاغذ پر سے پڑھنے سے توجہ اور محویت میں خلل آتا ہے جسے ہم محسوس نہیں کرتے لیکن وہ ہمارے گانے کو کہیں نہ کہیں متاثر کرتا ہے۔‘

سینہ بہ سینہ گھرانوں کی گائیکی کے سلسلوں میں یہی قاعدہ تھا کہ جو بھی لکھنا ہے، سینے پر لکھا جائے، محض دھیان میں نہ لایا جائے بلکہ حواس میں رچایا جائے۔ یعنی گویے کا مجسم سنگیت ہو جانا، ۔ جسم اور روح میں سر اور تال کا دھڑکتے رہنا، ایک ایسے مقام پر ٓانا جہاں سروں کی حسیاتی ریاضت گویے کی فطرت بن جائے۔ اسے ہی میوزکنگ اف دی باڈی (Musicking of the body) کہتے ہیں

ایک دن میں لوک ورثے کے میوزک روم میں گانے کی مشق کر رہا تھا۔ وہاں طفیل نیازی صاحب کا بیٹا بابر نیازی آ گیا اور اس نے بھی میرے ساتھ گانا شروع کر دیا، اس وقت اس کی عمر آٹھ نو سال تھی۔ میں طبلے کے ماترے گن گن کر سم پر آنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا لیکن بابر بغیر کچھ سوچے سمجھے ٹھیک سم پر آ گیا، ’اوئے بابر تم کیسے سم پر آ گئے؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا، ‘ بھائی جان اندازہ ہے ”اندازہ؟ ’یہ اندازہ کیا ہے؟ تال کی حسیاتی ریاضت، میوزکینگ اف دی باڈی۔

مجھے خاں صاحب نے کئی اچھوپ (نایاب) راگ سنائے تھے۔ ان میں سے ان کا یاد کرایا ہوا ایک راگ مجھے بہت پسند تھا، میں اسے اکثر گاتا رہتا، ایک دن شام کو میرے ٹی وی کے کچھ دوست میرے گھر آئے، انہوں نے مجھے گانا سنانے کو کہا تو میں نے شوخی میں آ کر وہی اچھوپ راگ الاپنا شروع کر دیا، خاں صاحب بھی ہمارے ساتھ بیٹھے تھے، انہوں نے اس وقت تو مجھے کچھ نہ کہا لیکن جب میرے وہ دوست چلے گئے تو انہوں نے آہستہ سے کہا، ’سرمد صاحب، اپ یہ راگ لوگوں کے سامنے نہ گایا کریں ’، ‘ کیوں خاں صاحب’، میں حیران ہوا۔ ‘یہ فلم ٹی وی کے پروڈیوسر اور قوال ایسی بندشوں کو چرا کر اپنے گانے میں بگاڑ کر گاتے ہیں۔ ’مجھے افسوس ہوا، مجھے خاں صاحب سے اجازت لینی چاہیے تھی۔ اس کے بعد میں نے کبھی کسی کو یہ راگ نہیں سنایا۔ مجھے اچھوپ راگ کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا

موسیقی کے بارے میں بہت کچھ پڑھتا رہتا تھا، اور میں نے کئی باتیں موسیقی کے عالموں سے بھی پوچھیں تھیں لیکن مجھے وادی سموادی کے سروں کی منطق سمجھ نہیں اتی تھی، وادی سموادی کی اہمیت پکڑ تان اور راگ کے چلن کے حوالے سے تو سمجھ میں اتی تھی لیکن سوال کا یہ جواب کہ وادی سر سے دو یا تین سر چھوڑ کر کسی سر کو سموادی بنا لیا جاتا ہے سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ایک دن میں خاں صاحب کے ساتھ مالکونس کا ریاض کر رہا تھا، وہ مجھے مدہم سر کو ایک خاص طریقے سے لگانے کو کہہ رہے تھے، اس پر میں نے پوچھ لیا، ’خاں صاحب مدہم مالکونس کا سموادی سر کیوں ہے؟ ان کے چہرے پر ایک خوبصورت سی اداسی چھا گئی۔

 ’سا گا ما دھا نی سا۔‘ سرمد صاحب مالکونس پانچ سروں کا راگ بھیرویں ٹھاٹھ سے ہے۔ سارے سر کومل ہیں۔ اس ٹھاٹھ کی سرگم میں سا، پا اور اوپر کا سا قائم یا اٹل سر ہیں۔ سمجھیں کہ یہ تین ستون ہیں جن پر یہ ٹھاٹھ ٹھہرا ہوا ہے یعنی ان ستونوں نے اس سرگم کو سنبھالا دیا ہوا ہے، مالکونس میں پنچم ورجت ہے یعنی نکال دیا گیا ہے، پنچم سرگم کا درمیانہ ستون ہے اور جب مالکونس سے یہ ستون کھینچ لیا گیا ہے تو سارا بوجھ مدھم پر اگیا ہے۔ پنچم، مدھم کے بالکل سامنے ہے اور اس کے لیے دوسرے قدم پر ہے لیکن موجود نہیں۔ مدھم باری باری لگتا ہے کہ پنچم کو چھو لے لیکن چھو نہیں سکتا، وہ پنچم بننا چاہتا ہے لیکن بن نہیں سکتا۔ سرمد صاحب مالکونس پنچم کا فراق ہے۔’

خاں صاحب نے مجھ پر سنگیت کا ایک اور دروازہ وا کر دیا تھا۔ میرے لیے پنچم کا فراق ’ایک کائناتی استعارہ بن گیا تھا۔

خان صاحب بہت وضع دار اور دھیمی طبیعت کے مالک تھے۔ کسی قسم کو کوئی شکایت زبان پر نہ لاتے اور نہ ہی مجھ سے کوئی مطالبہ کرتے۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ ہر وقت ان کے چہرے پر رہتی۔ ان دنوں اگرچہ راولپنڈی سے موسیقی کا کوئی خاص پروگرام تو نہیں ہوتا تھا لیکن میں نے ان کا ایک پروگرام کروایا۔ بد قسمتی سے وہ اس میں پوری طرح نمایاں نہ ہو سکے۔ ایک تو انہیں اپنے بھائی استاد سلامت علی خاں کے بغیر پہلی بار گانا مشکل لگ رہا تھا دوسرا انہیں بھائی سے بچھڑ جانے اور اپنی بے سروسامانی کا بھی غم تھا، لاہور میں استاد سلامت علی خاں صاحب کے دروازے ان پر بند ہو چکے تھے۔ یہ وہی بھائی تھے جن کے ساتھ انہوں نے عمر بھر سنگت کی تھی اور اب ان کے بغیر وہ اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کر رہے تھے۔ اس کے بعد راولپنڈی آرٹس کونسل میں ان کے ساتھ ایک محفل کا اہتمام ہوا۔ وہاں خاں صاحب نے اختر علی خاں کے ساتھ مل کر گایا لیکن دونوں گائیکوں میں ہم آہنگی نہ پیدا ہو سکی اور محفل کامیاب نہ ہو سکی۔ اس دن کے بعد خاں صاحب کا دل ٹوٹ گیا۔

خاں صاحب کو میرے گھر رہتے ہوئے تین چار مہینے ہوچکے تھے، میں ان کو خوش رکھنے کی بہت کوشش کرتا، کبھی دوستوں کی دعوت کرتا، کبھی ان کو باہر کھانے پر لے جاتا، لیکن خاں صاحب دن بہ دن کمزور اور لاغر ہو رہے تھے۔ ان کو کوئی چیز اندر سے تنگ کر رہی تھی، شاید ان کو اپنے بچوں کے مستقبل کا فکر تھا، ان کے بھائی سلامت علی خان تو اپنے بیٹے شرافت کے ساتھ کامیابی کے ساتھ مسلسل گا رہے تھے اور انہیں اپنے بھائی کی جدائی سے کوی فرق نہیں پڑا تھا۔ دکھ یہ تھا کہ میں ان سب باتوں کو محسوس کرتے ہوئے بھی اپنے استاد کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اگر کہوں خاں صاحب، چلیں آپ کا ڈاکٹر سے چیک آپ کروا لاؤں تو کہتے میں تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔ انہیں کسی کے گھر میں محفل کرنے کے لیے کہتا تو وہ دلچسپی ظاہر نہ کرتے بلکہ ٹال دیتے۔ یوں لگتا تھا اب ان کا اس دنیا میں ہی دل نہیں لگ رہا۔

 ’ پیا اب تو آ جاؤ۔ دھا نی رے سا‘ ان دنوں وہ ایک ہی راگ گاتے، سوہنی۔ یہ بندش بھی انہوں نے خود بنائی تھی۔

سوہنی راگ میں انسان کی ازلی تنہائی، بے پناہ اداسی اور ویرانی کی کیفیت ہے، ایسی بے کراں ویرانی جو جنت میں بھی نہیں سما سکتی،

جنت نہ کند چارۂ بے چارگی ما

تعمیر با اندازۂ ویرانیٔ ما نیست (غالب)

 ’پیا اب تو آ جاؤ،‘ خاں صاحب کی اداسی بھری آواز میں ’آ جاؤ‘ کی ادائیگی میں کومل رکھب پر ٹھہراؤ ایک نہ ختم ہونے والی بازگشت میں بدل جاتا جو سننے والے کی جان کھینچ لیتا۔ یوں لگتا جیسے کوئی ازل سے اپنے محبوب کی جدائی میں بین کر رہا ہے۔

انہی دنوں مجھے ایک ہفتے کے لیے لاہور جانا پڑ گیا، میں نے سوچا پورا ہفتہ میری خان صاحب سے ملاقات نہ صبح ناشتے پر ہوگی اور نہ ہی ہماری شام کی چہل قدمی اور موسیقی کی محفلیں ہوں گی۔ بچے صبح سکول چلے جاتے ہیں، سارہ نوکری پر چلی جاتی ہے اور گھر میں صرف ملازم رہ جاتا ہے، خاں صاحب اکیلے گھر میں کیا کریں گے۔

میں نے اپنے ایک دوست اختر کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ میری غیر موجودگی میں روز خاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا حال احوال دریافت کرے اور وہ جو چاہیں وہ ان کے لیے حاضر کرے۔ ان کو شہر میں گھمائے پھرائے اور ان کا ہر طریقے سے خیال رکھے۔

کچھ دنوں بعد جب میں لاہور میں تھا تو اختر کا فون آیا کہ وہ خان صاحب کو اپنے گھر لے آیا تھا اور وہ آج رات دنیا سے رخصت ہو گے ہیں، میں یہ خبر سن کر سکتے میں آ گیا۔ بہت افسوس ہوا کہ میں ان کو چھوڑ کر لاہور کیوں گیا۔ میں سب کچھ بھول کر اسلام آباد پہنچا لیکن خان صاحب کی میت کو ان کے گھر والے لاہور لے جا چکے تھے۔ لاہور فون کیا تو معلوم ہوا ان کی تد فین ہو چکی ہے۔

خان صاحب چلے گئے، اپنی مختصر سی صحبت میں مجھے سر کی لذت دے کر روپوش ہو گئے، ایسی لذت جو مجھے عمر بھر سرشار کرتی رہے گی ان کی آواز، ان کے سر، ان کا لگاؤ میرے دل میں دھڑکتا رہے گا

اب بھی جب میں کبھی ان کو یاد کرنے کے لئے مالکونس گاتا ہوں تو وہ میرے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہوتے ہیں، ’سرمد صاحب ذرا نکھاد کو ہلکا سا چھیڑیں، مدھم پر ٹھہریں، سرمد صاحب مدہم باری باری لگتا ہے کہ پنچم کو چھو سکے لیکن چھو نہیں سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ پنچم بن جائے لیکن بن نہیں سکتا۔ ‘

خان صاحب! آپ میرے لیے مالکونس کا پنچم ہیں، جسے مجھ سے جدا کر دیا گیا ہے۔ میں وہ ’مدھم‘ ہوں جو باری باری لگتا ہے۔

(جاری ہے)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Facebook Comments HS