سماجی ترقی میں پسماندہ طبقات کی شمولیت
پاکستانی معاشرہ ذات، برادری، مذہب، جنس اور نسل کے اعتبار سے تقسیم کا شکار ہے۔ یہاں مسلک اور فرقوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کا خون بہایا جاتا ہے۔ سیاسی انتقام کی آگ بجھانے کے لیے مخالفین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ علاقائی اور لسانی اختلافات بڑھ کر نوبت لشکر کشی تک آن پہنچتی ہے۔ کوئی ایک کسی دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ منفی سوچ اور رویوں نے معاشرہ میں محرومیوں اور پسماندگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے اور کچھ طبقات حقارت کا نشان بن گئے ہیں۔ حکومتی عدم توجہی اور معاشرے میں امتیازی سلوک کے باعث پسماندگی و محرومیوں کا شکار ہونے والے طبقات میں خواتین، خواجہ سرا، معذور افراد، نوجوان اور مذہبی اقلیتیں شامل ہیں۔
پاکستان میں خواتین کی تعداد 12 کروڑ کے قریب ہے۔ خواتین ووٹرز کی تعداد پانچ کروڑ 79 لاکھ سے زائد ہے۔ شرح خواندگی 48 فیصد ہے۔ ملک بھر میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد محض 10 ہزار 418 جاری کی گئی ہے تاہم 2019 میں سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق تعداد 3 لاکھ کے قریب ہے۔ صرف دو ہزار 538 خواجہ سراؤں کے ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی تعداد 70 لاکھ ہے جس میں 43 فیصد بچے ہیں۔ پاکستان نوجوانوں کی آبادی والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جہاں آبادی کا تقریباً 60 فیصد نوجوان ہیں۔ وطن عزیر میں تقریباً 74 لاکھ مذہبی اقلیتیں آباد ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد مسیحی برادری کی ہے۔
آئین پاکستان میں مذکورہ بالا تمام طبقات کے حقوق وضع کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان طبقات کو مملکت کے مختلف امور میں مساوی شمولیت کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔ ان طبقات کو تعلیم، صحت، روزگار اور مذہبی و شخصی آزادی جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی میں بھی عدم مساوات کا سامنا ہے۔ خواتین، ٹرانس جینڈر اور معذوروں کی شرح خواندگی انتہائی کم ہے۔ اعلی تعلیم کا حصول ایک خواب ہے۔ سالانہ تقریباً 12 ہزار خواتین دوران زچگی وفات پا جاتی ہیں۔ ملک بھر میں 21 فیصد خواتین کو ملازمتیں میسر ہیں لیکن اکثریت انتہائی قلیل اجرت، عدم تحفظ اور جنسی ہراسانی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ ہر سال تقریباً 18 سے 20 خواجہ سراء قتل کر دیے جاتے ہیں۔ درجنوں کو مختلف نوعیت کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ معذور افراد کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو حکومت کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ نہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ 14 لاکھ معذور بچوں کی اسکولوں تک رسائی ممکن نہیں۔
5 سے 16 سال کی عمر کے ہر تین میں ایک بچہ اسکول سے باہر ہے۔ 12 فیصد پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں۔ رواں سال جنوری سے جولائی تک 4 لاکھ افراد عدم استحکام کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ کھیلوں کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد منشیات کی عادی بن رہی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو بھی منفی رویوں اور امتیازی سلوک کی شکایات رہتی ہیں۔ جڑانوالہ کا سانحہ جس کی تازہ ترین مثال ہے۔ ان کو ڈومیسائل اور سرکاری ملازمتوں میں مقرر کوٹہ کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔
گڈ گورننس کے نفاذ اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پسماندہ طبقات پر خصوصی توجہ مبذول کرنی ہوگی۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور سماجی تنظیمیں اس حوالے سے متحرک کردار ادا کریں۔ محروم طبقات کے مسائل بھرپور انداز میں اجاگر کریں۔ ایوانوں میں موجود عوامی نمائندوں کو ضروری قانون سازی کرنے کی ترغیب دیں۔ گڈ گورننس کے نفاذ کے لیے مرکزی و مقامی حکومتوں، انتظامیہ، متعلقہ اداروں سے مذاکرات کریں۔
اللہ تعالٰی نے انسان کو پیدائش کے بعد متعین کردہ حقوق کا حق دار بنایا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ متذکرہ بالا طبقات کی فلاح اور بہبود کے لیے قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ عملدرآمد کی یہ مشق تب ہی موثر ثابت ہو سکتی ہے جب ان طبقات کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ ان کے مسائل سن کر انھیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کو معاشرے کا حصہ مان کر برداشت کیا جائے۔ ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کیے جائیں اور فلاح کے لیے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا جائے۔ تعلیم، صحت، ملازمت، سیر و سیاحت اور کھیل کے مساوی مواقع مہیا کیے جائیں۔ ان کمزور طبقات کو توجہ، احساس اور تحفظ کا یقین دلایا جائے۔ امور مملکت کی انجام دہی میں انھیں اعتماد میں لیا جائے۔ ان کو سماج اور معیشت پر بوجھ نہیں بلکہ سوسائٹی کا کار آمد حصہ بنائیں۔ الغرض تمام تر منصوبہ سازی اور معاملات معاشرت میں محروم طبقات کی مساوی شمولیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی تجاویز و آراء کو اہمیت دی جائے۔ تاکہ ان محروم طبقات کا استحصال بند ہو اور خواتین، خواجہ سرا، معذور، نوجوان اور اقلیتیں سبھی برابر حیثیت میں قومی ترقی کے دھارے میں شامل ہوں۔ ہمارا پاکستان دنیا میں پر امن، ترقی یافتہ، مستحکم اور انصاف پسند مملکت کے طور پر اپنی شناخت کروا سکے۔


