عربی ادب، عہد جاہلیت سے دور جدید تک


muhammad raiyd khan

کسی بھی سماج کا ادب اس سماج کے ذہین طبقے کے خیالات کا غماز ہوتا ہے اسی طرح عربی ادب (دور جاہلیت تا عہد جدید) ایک ایسی قوم کے خیالات و افکار کا مجموعہ ہے جس نے ایک دنیا کو اپنے اندر جذب کیے رکھا، اور مستقبل کو کسی حد تک ایک رخ پر متعین کر دیا۔ عربوں کو ناز ہے کہ ایک وہی ”نطق کے اعجاز“ سے بہرہ ور ہیں اور باقی دنیا تو گویا ”عجمی“ (گونگے ) ہیں۔ اس دعوے میں کتنی صداقت ہے؟ اس بات کا جواب تو صرف وہی شخص دے سکتا ہے جس نے عربی ادب کے دفتروں کو کھنگالا ہو اور صرف سنی سنائی باتوں پر ہی یقین نہ کیا ہو بلکہ اپنے ذہن سے بھی ”سبع معلقات“ کی گرہوں کو سلجھایا ہو۔ بہرحال، یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان کے ادب کی تاریخ کو کسی دوسری زبان میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن یہاں اس مضمون میں عربی زبان کی ادبی تاریخ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہر قوم کے ادب کا اس کی سیاسی و سماجی حالات، تاریخ اور ماحول سے ایک گہرا اور واضح تعلق ہوتا ہے، قومی ادب اور اس کی سیاسی و سماجی تاریخ ایک دوسرے سے باہم ملی جلی ہوتی ہیں گویا یہ دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ادبی حالات میں تغیر و تبدل پہلے واقع ہوتا ہے اور یہی تبدیلی سیاسی اور اجتماعی حالات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی انقلاب یا اجتماعی بیداری سے پہلے ہمیشہ ایک ”فکری انقلاب“ واقع ہوتا ہے جو شعراء اور خطباء کے کلام میں اور اہل قلم کی تحریروں سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔

یوں وہ نظریہ یا تصور پھل پھول کر عوام تک پہنچتا ہے۔ مؤرخین نے عربی ادب کی تاریخ کو پانچ ادوار میں منقسم کیا ہے یعنی انہوں نے عہد بنو عباس اور اندلسی دور کو تاریخ میں متوازی ہونے کی سبب سے ایک ہی دور قرار دیا ہے، لیکن میں نے وضاحت اور آسانی کے لیے اندلسی دور کو علیحدہ کر دیا ہے اور اسے عربی ادب کے دور انحطاط کے یعنی فاطمی اور ترکی دور کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

عہد جاہلیت

عہد جاہلیت کا آغاز پانچویں صدی عیسوی کے وسط سے شروع ہوتا ہے کہ جب عدنانی قبائل یمن کے قحطانیوں سے آزاد ہوئے تھے۔ اس دور کا اختتام 610 ء میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت با سعادت اور ظہور اسلام کے بعد سے ہوتا ہے (یاد رہے جاہلیت سے مراد جہالت نہیں ہے، ان دونوں لفظوں میں واضح فرق ہے، ظہور اسلام سے پہلے کے زمانے کو عہد جاہلیت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دور میں عربوں کو مرکزیت اور امن حاصل نہیں تھا اور قبائل آپس میں گتھم گتھا رہتے تھے اور کیونکہ اسلام نے عربوں کو امن سے نوازا تھا اور اسی امن کی بدولت وہ علم و عرفان کی طرف متوجہ ہوئے تھے، تو اسی غرض سے اسلام سے پہلے کے وقت کو مؤرخین نے جاہلیت کا نام دیا تھا) ۔

دور جاہلیت میں سات بڑے شعراء نمایاں ہیں جنہیں سبع معلقات (در کعبہ پر آویزاں کی گئی سات بڑے نظموں ) کے شعراء کہا جاتا ہے۔ جن کے نام یہ ہیں :امرؤالقیس، طرفہ، زہیرابن ابی سلمیٰ، لبید، عمر و بن کلثوم، حارث بن حلزہ اور عنترہ بن شداد۔ ان شعراء کے علاوہ اس دور کے پہلی صف کے شعراء میں نابغہ ذبیانی، اعشیٰ اور شنفریٰ بھی شامل ہیں، ان سب شعراء کا شمار جاہلی شعراء میں ہوتا ہے۔ شاعری کے علاوہ اس دور میں کچھ ایسے بلند پایہ خطیب بھی پیدا ہوئے جنہوں نے عربی نثر کے اعلیٰ نمونے پش کیے، ان خطباء میں قس بن ساعدہ الایادی اور عمرو بن یکرب زبیدی شامل ہیں اور یہی زیادہ مشہور بھی ہیں۔

اسلام کا ظہور اور دور بنو امیہ

یہ دور 610 ء میں آپ ﷺ کی بعثت سے لے کر 749 ء میں عباسی حکومت کے قیام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس دور میں وہ شعراء بھی شامل ہیں جنہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا، انہیں ”مخضرم“ کہا جاتا ہے۔ ان شعراء میں نعتیہ شاعر کعب بن زھیر (یہی وہ مشہور شاعر ہیں جنہوں نے آپﷺ کے سامنے اپنا بے مثل قصیدہ ”بانت سعاد“ پڑھا تھا) ، مشہور مرثیہ گو شاعرہ خنساء، دربار نبوت کے شاعر حسان ابن ثابت اور مشہور ہجو گو حطیہئی نمایاں ہیں۔

اسلامی دور میں عشقیہ شاعری کو رواج حاصل ہوا اور اس شاعری کے دو نمائندے جمیل اور عمر بن ابی ربیعہ افق پر چھائے رہے۔ جب بنو امیہ کا دور آیا تو اس میں ایک تو سیاسی اور مناسباتی شاعری نے فروغ پایا تو دوسری جانب قدیم شاعری کے سارے متنوع موضوعات مثلاً مدح، فخر، ہجو، مرثیہ اور وصف میں بہت شاندار اور جاندار شاعری ہونے لگی اور اکابر شعراء کے درمیان ہجو گوئی میں بڑے بڑے مقابلے و معرکے دیکھنے میں آئے۔ اس زمانے کے شعراء میں اخطل، فرزوق اور جریر شامل ہیں۔

ان سب شعراء کا کلام اپنے فن میں بہت اونچا و اعلیٰ نمونہ ہے۔ عربی ادب کے اس عہد میں بہت جلیل القدر خطباء بھی سامنے آئے لیکن حضور ﷺ کے مقام و مرتبہ کے سامنے سب سر تسلیم خم ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد عمر ابن خطاب اور پھر علی بن ابی طالب نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان حضرات کے علاوہ سحبان وائل، زیاد بن ابیہ اور اموی گورنر حجاج ابن یوسف نے خطابت میں بہت اعلیٰ معیار پیش کیا، اسی عہد میں کافی لوگوں نے بادشاہوں اور خلفاء کے دربار میں کاتب (سیکرٹری) کے طور پر کام انجام دیا اور بہت شہرت پائی۔ ان حضرات میں عبدالحمید الکاتب بطور میر منشی کے بہت نمایاں رہے۔ علاوہ ازیں عاملوں کے لئے خلفاء و بادشاہوں کے خطوط اور پیغامات نے بھی عربی نثر کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔

دور بنو عباس

عہد عباسی ایک طویل دور ہے جو بنو عباس کی حکومت کے قیام سے شروع ہو کر تاتاریوں کے ہاتھوں اس کے زوال پر ختم ہوتا ہے۔ اسی دور کے متوازی اندلسی دور ہے جس کا زمانہ آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر پندرہویں صدی عیسوی تک ہے۔ عباسی دور میں بہت بڑے اور نامور شعراء پیدا ہوئے ہیں ان میں بشار بن برد، ابوالعتاہیہ، ابو نواس، ابن الرومی، ابن المعتز، ابو تمام، بحتری، متنبی اور ابوالعلا ء معری نمایاں ہیں۔ میرے نزدیک ابوالعلاء معری کی دانشورانہ و فلسفیانہ شاعری بہت بلند پایہ اور عربی قافیہ بندی کا بہت اونچا نمونہ پیش کرتی ہے۔ میں ان کے کچھ اشعار یہاں نقل کر رہا ہوں :

یرتجی الناس ان یقوم امامٌ
ناطقٌ فی الکتیبہ الخرساء
کذب الظن لا امام سوی العقل
مشیراً فی صبحہ والمساء

ترجمہ: لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی امام آئے گا جو امت بے زبان کے درمیان سے اٹھ کر حق کا بول بالا کرے گا ’یہ لوگ جھوٹے گمان میں ہیں‘ اس لیے کہ عقل کے سوا کوئی امام نہیں ہے جو انسان کی صبح و شام کی رہنمائی کرے۔

عربی ادب کے اس دورمیں عربی نثر نے ارتقاء و ترقی کی اہم منزلیں طے کیں اور ادب میں اسے بہت فروغ حاصل ہوا۔ عربی نثر کی اصناف (مقالہ، رسائل، مواعظ، بحث و نقد اور تدوین) میں ابن المقفع (مترجم کلیلہ و دمنہ) ، جاحظ، ابن العمید، صاحب ابن عباد، خوارزمی، بدیع الزمان ہمذانی، حریری اور القاضی الفاضل نے قابل قدر کام کیا اور عربی نثر کو اوج کمال تک پہنچا دیا۔ ان حضرات کے علاوہ اس دور میں ادبی و شرعی علوم میں بہت بڑے نام سامنے آئے مثلاً نحو میں سیبویہ، لغت میں الخلیل ابن احمد، تاریخ میں ابن الاثیر، حدیث میں بخاری اور مسلم نیزعلم فقہ میں چاروں امام یعنی مالک ابن انس، احمد ابن حنبل، شافعی اور انعمان ابن ثابت ابو حنیفہ۔ اسی دور میں حکایات اور مقامات کو بھی فروغ حاصل ہوا چنانچہ کلیلہ ودمنہ، الف لیلہ و لیلہ اور مقامات ہمذانی اسی دور کی تصنیفات ہیں۔

اندلسی دور، فاطمی دور اور ترکی دور

یہ زمانہ اندلس میں اموی حکومت کے قیام ( 756 ء) سے شروع ہو کر، فاطمی اور ترکی دور سے ہوتا ہوا، احیائے جدید کے دور 1801 ء تک پہنچتا ہے۔ اندلس میں عربوں کی اموی حکومت عبدالرحمن الداخل کے غلبے سے شروع ہوتی ہے۔ عربوں کے لیے اندلس کی سرزمین، آب و ہوا، قدرتی مناظر اور سبزہ زار ایک بالکل ہی نئی چیز تھی کیونکہ اس سے پیشتر وہ صحراؤں کی طویل وادیوں اور ریتیلے پہاڑوں کے عادی تھے جنہوں نے ان کے اعصاب کو مضبوط اور ان کی شخصیات کو اکھڑ کر دیا تھا۔

اندلس کی مذکورہ خصوصیات نے عربوں کو بہت متاثر کیا اور جب انہیں اس ”نئی دنیا“ میں امن و سکون نصیب ہوا تو وہ شاعری کی طرف مائل ہوئے اور ادب و شعر کے بہت بلند نمونے پیش کیے۔ اندلس کی شاعری میں ایک نیا ذائقہ اور کچھ مختلف طرز اظہار دیکھا جا سکتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اندلس میں عربوں کی موجودگی کے سات سو سالوں سے بھی زیادہ عرصے نے نہ صرف بہت اچھے شعراء بلکہ بلند پایہ نثر نگار، علماء اور فلاسفہ بھی پیدا کیے۔ اندلس کے شعراء میں ابن عبدربہ، ابن ہانی اندلسی، ابن زیدون، ابن خفاجہ اور لسان الدین الخطیب مشہور ہیں۔

اندلسی دور کے دو سو سال بعد اور اس کے متوازی پہلے فاطمی دور آیا، پھر ایوبی آئے اور ان کے بعد ممالیک اور سلاطین عثمانیہ (ترکوں ) نے اسلامی مملکت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھالی۔ یہ آخری دور جس میں ممالیک اور ترک برسر اقتدار رہے، پانچ سو پرس پر محیط ہے۔ مؤرخین اس پورے عہد کو عربی ادب کے ”دور ویراں“ سے تعبیر کرتے ہیں نیز اسی دور میں عربی ادب انحطاط سے دوچار ہوا۔ اس عرصے میں کوئی ایک شاعر بھی ایسا نظر نہیں آتا جسے ہم دور عباس کے شعراء کے مد مقابل کھڑا کرسکیں البتہ اس زمانے میں تصنیف و تالیف، سیرت و سوانح، ادبی روایات، لغت نویسی، تاریخ نگاری اور فلسفۂ تاریخ میں بہت عمدہ کام ہوا ہے مثلاً، وفیات الاعیان (ابن خلکان) ، صبحالاعشیٰ (قلقشندی) ، القاموس المحیط (فیروز آبادی) اسی عہد کی تصنیفات ہیں۔

عربی زبان کی سب سے بڑی لغت ”لسان العرب“ بھی اسی دور میں مرتب ہوئی، تاریخ نویسی میں ابوالفداء اور ابن خلدون اسی زمانے کے لوگ ہیں۔ ابن خلدون نے فلسفہئی تاریخ میں اپنا شہرہ آفاق ”مقدمہ“ لکھانیز عربی علم و ادب اور سوانح کے بڑے مجموعے اسی زمانے میں لکھے گئے۔ اس دور کے شعراء میں ابن الفارض، بوصیری اور صفی الدین حلی معروف و مشہور ہیں۔

دور جدید

یہ دور مصر پر محمد علی پاشا کے غلبے ( 1801 ء) سے شروع ہو کر اب تک چل رہا ہے، اس دور میں عربی ادب نے اپنے طویل دور انحطاط سے گزر کر ”انگڑائی“ لی اور بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گیا اور یوں مغربی ادبیات کے اثر سے اس میں زبان و بیان کے نئے اسالیب پیدا ہوئے مثلاً مغربی ادب کی اصناف یعنی افسانہ، ڈراما اور ناول میں پہلی بار عربی زبان میں تخلیقات شروع ہوئیں۔ اس دور کے آغاز کو دو سو سال گزر چکے ہیں اور اس میں طبقہ اولیٰ کے شعراء کی تعداد بہت زیادہ ہے کہ جن کا یہاں پر احاطہ نہیں کیا جاسکتا تاہم اس دور کے شعراء میں احمد شوقی، حافظ ابراہیم، خلیل مطران اور ادباء میں طہٰ حسین، احمد حسن الزیات، عباس محمود العقاد، محمد حسین ہیکل، توفیق الحکیم، نجیب محفوظ اور طیب صالح (اور کچھ کے نزدیک جبران خلیل جبران بھی شامل ہیں ) وہ چند نام ہیں جو نمونے کے طور پر لیے جا سکتے ہیں۔ ان حضرات کے علاوہ بھی کچھ اشخاص ہیں جنہوں نے عربی ادب میں خاصا کام کیا اور اس کی ترقی و ارتقاء میں کلیدی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مثلاً شیخ جمال الدین افغانی، شیخ محمد عبدہ، شیخ راشد رضا، حسن البناء اور سید قطب۔ اس دور پچھلی (یعنی بیسویں ) صدی میں عربی شاعری میں مزاحمت کی لہر دیکھنے میں آتی ہے جو فلسطینی المیے کا نتیجہ ہے اور اس میں محمود درویش، سمیح القاسم اور نزار قبانی کے نام بہت معروف ہیں۔

بہرحال، یہ مضمون تو ایک نا کمال سا خاکہ ہے جس میں نے کچھ رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے وگرنہ عربی ادب کی تاریخ پر نکتہ چینی کی جائے تو ہر ”عہد“ پر ہی ایک مستقل کتاب قلم بند کی جا سکتی ہے، اور عربی ادب اور اس کی تاریخ پر ایک دفتر تیار ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دقت اوقات و محدود وسائل کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے صرف اسی مضمون میں ایک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو میرے نزدیک عربیت کی تاریخ کو سمجھنے کی جانب ایک چھوٹا سا قدم ہے، جسے سراہا جانا چاہیے۔

دور جدید کے حوالے سے بھی میں نے زیادہ بحث نہیں کی ہے لیکن ایسا کرنا ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ عربی ادب کا دور جدید ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے جسے سرسری ادبی خاکے میں ٹھوس دینا قطعاً لائق تقلید نہیں، اسی غرض سے میں نے دور جدید پر سوائے چند سطروں کے زیادہ لکھنا مناسب نہیں سمجھا ہے، میں امید کرتا ہوں کہ قاری میری مجبوریوں کو سمجھیں گے

Facebook Comments HS