پاکستان ٹیلیویژن: حکومت کا قلندر مزاج چینل


پی ٹی وی کی سلور جوبلی یعنی 25 سال پورے ہونے پر انور مقصود کا پروگرام سلور جوبلی شروع ہو جس میں دیگر شعبوں اور خاص کر ٹی و فلم کی نابغہ روزگار شخصیات کو مدعو کیا جاتا، اس موقع پر نئے گلوکاروں کو موقع دیا جاتا جو مشہور پرانے گیت گاتے۔ بنجمن سسٹرز اس پروگرام کا اٹوٹ انگ تھیں تینوں بہنیں مل کر گاتیں۔ حمیرا چنا اور سجاد علی بھی اسی پروگرام کے ذریعے متعارف ہوئے سجاد علی نے ملکہ ترنم نور جہان کا مشہور گانا بانوری چکوری اور حمیرا چنا نے اساں جان کے میچ۔ سے آغاز کیا۔

بہت سے گانوں سے شناسائی سلور جوبلی میں سجاد علی، بنجمن سسٹرز اور دیگر گلوکاروں کے ذریعے ہوئی سلور جوبلی کے لئے ایک بات بعد میں یہ بھی مشہور ہو گئی کہ جو اس پروگرام میں شرکت کرتا ہے انتقال کر جاتا ہے دراصل اس پروگرام میں ایک چھوٹا سا مزاحیہ سیگمنٹ ہوتا تھا جسے رزاق راجو کرتے تھے یہ سیگمنٹ بہت پسند کیا جاتا تھا لیکن رزاق راجو اسی دوران دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے وحید مراد پاکستان کے چاکلیٹی ہیرو کی بھی شاید آخری دفعہ لوگوں کو اسی پروگرام میں دکھائی دیے کچھ عرصے بعد انہیں بھی دل کا دورہ پڑا اور وہ بھی حقیقی فلمساز کے پاس چلے گئے۔

ایک اور شخصیت تھیں شاید کرکٹ سے وابستہ ان کا تو پروگرام کے دوران انتقال ہو گیا۔ دروغ بہ گردن راوی سنا تھا کہ کئی مشہور فنکاروں نے شو میں شرکت سے انکار کر دیا تھا کہ ہمیں مرنے کا کوئی شوق نہیں۔ ان دنوں ہم بہن بھائی سارے پرائمری اور مڈل کلاسوں میں تھے لہذا جس کے ساتھ لڑائی ہوتی اسے سکور جوبلی پروگرام میں شرکت کا مشورہ دیا جاتا۔ ہمارے سکول کی پرنسپل اور ایک دو اساتذہ ہٹلر کے قریبی عزیزوں میں سے تھیں تو ان کے لئے بھی باقاعدہ اجتماعی دعا ہوتی کہ خدا انہیں سلور جوبلی میں شامل ہونے کا موقع دے۔ ضیا الحق کا دور تھا اور ٹی وی پر یہی پروگرام تفریح کا ذریعہ تھے۔

پی ٹی وی والدین کا اکلوتا بچہ تھا اور بہت تابعدار تھا وہی زبان بولتا جو والدین سکھاتے۔ یہ شاید اس خاندان کی ریت تھی کیونکہ ٹی وی کے دور پار کے کزن ریڈیو بھی ایسے ہی تھے۔ موسیقی کی صورت میں تفریح فراہم کرتے فوجی بھائیوں کو گیت سناتے ان کے لکھے ہوئے خطوط سناتے اسی طرح عام لوگوں کے خطوط بھی سناتے جو کسی دور پار مقام پر جا بسنے والوں کی یاد میں ہوتے۔ کم از کم ریڈیو کا خط سنانے والا پروگرام مجھے بہت اچھا لگتا تھا رات دس سے گیارہ بجے تک ہوتا۔

خیر بات ہو رہی تھی پی ٹی وی کی۔ پی ٹی وی عام لوگوں کو زیادہ منہ نہیں لگاتا تھا۔ جمعرات کو آدھے گھنٹے کا پروگرام لگتا جس میں لوگوں کے خطوط پڑھے جاتے جو ٹی وی پروگراموں کے متعلق ناظرین کی رائے ہوتی۔ پورے ہفتے میں ایک گھنٹے کا ایک ڈرامہ لگتا جو اس قدر دلچسپ ہوتا کہ پبلک انتظار کرتی۔ اب میں سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ ڈرامہ دلچسپ تھا یا نہیں لیکن تفریح یہی ہوتی تھی۔ آدھے گھنٹے کے دو ڈرامے لگتے تھے اور چونکہ اسلامی دور شروع ہو چکا تھا (یاد رہے ہمارا بچپن ضیاء الحق کے زیر سایہ گزرا ہے ) لہذا انگریزی پروگرام بلاناغہ لگتے۔

اس وقت بھی ہمیں اپنے ملک سے زیادہ امریکی پولیس کا پتہ ہوتا بحیرہ عرب سے زیادہ بحر اوقیانوس کی خبریں ہوتیں۔ پاکستانی ٹی وی اداکارائیں اور اناونسر دوپٹے اوڑھے اداکاری کرتیں اور اولمپکس میں خواتین تیراک اور لان ٹینس کے عالمی مقابلے دکھائے جاتے جسے مرد بہت شوق سے دیکھتے۔ پی ٹی وی پر سب سے زیادہ ظلم۔ بچوں کے ساتھ ہوتا آج کل 24 گھنٹے کارٹون نیٹ ورک چینل دیکھنے والے بچے اس خوشی کو محسوس نہیں کر سکتے جو میری عمر کے لوگ شام 5:55 پر محسوس کرتے تھے جب پورے 24 گھنٹے میں 5 منٹ کا کارٹون لگتا تھا۔

گلی محلے سے بچے غائب ہو کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے مذہبی احکامات کی طرح بچے پابندی سے یہ کارٹون دیکھتے۔ ہفتے میں ایک دن بچوں کے لئے الف لیلہ لگتا تھا جس میں پریوں، جنوں شہزادوں شہزادیوں کی کہانیاں دکھائی جاتی تھیں الف لیلہ میں تو ہزار کہانیاں تھیں ٹی وی پر کتنی کہانیاں پیش ہوئی کبھی حساب نہیں لگایا لیکن تصویر ایک ہی ہوتی جسے زاویے بدل بدل کر مختلف بادشاہوں کا محل دکھایا جاتا تھا۔ جنگل کی تصویر کے سامنے گھوڑا اور شہزادہ کھڑے ہوتے تھے جس سے یہ بتانا مقصود ہوتا کہ شہزادہ جنگل میں بھٹک رہا ہے حالانکہ بھٹکنے کے سارے لوازمات تو محلوں میں ہوتے تھے لیکن ہم بچے تھے نہیں سمجھتے تھے لہذا سپارہ پڑھنے کے بعد بھی دعا کرتے کہ شہزادہ شہزادی کو دیو کی قید سے آزاد کرا لائے حالانکہ اب سوچتے ہیں یہ دعا عام عورتوں کے لئے مانگی ہوتی تو شاید عورتیں اس دیو کی قید اور ظلم سے نکل جاتیں۔

تو بچپن اور پی ٹی وی ہماری یادوں کے ذخیرے میں لازم و ملزوم ہیں۔ اتنی محدود تفریح کے مواقع میں تفریح کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اپنے محدود تجربے میں یہ محدود تفریح بی لامحدود تھی۔ پی ٹی وی اتنا سیدھا سادا سدھایا بچہ ہے کہ آج اس کے سوتیلے بہن بھائیوں کے ڈھیر لگے ہیں ایک سے بڑھ کر ایک بد تہذیب ہے مگر کیا مجال جو پی ٹی وی نے اپنا انداز بدلا ہو آج بھی بڑوں کی سکھائی ہوئی باتیں کرتا ہے۔ خوش فہم ہے اس لئے مثبت تصویر پیش کرتا ہے کبھی نہیں کہتا چینی 200 روپے کلو ہو گئی ہے کہتا ہے چینی 250 روپے کلو سے کم پر بک رہی ہے اسی طرح آٹے کی بوری 3200 روپے سے کم میں بیچی جا رہی ہے غرض حکومتی آدھے گلاس کو آدھا بھرا ہوا شربت کا گلاس بنا کر پیش کرتا ہے۔

شدید گرمی میں محکمہ موسمیات کا حال سنائے گا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں بارش کا امکان ہے کبھی یہ نہیں بتائے گا کہ مالاکنڈ ڈویژن کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 8 اضلاع پر مشتمل ہے جس میں وہ تمام پہاڑی علاقے بھی شامل ہیں جہاں کبھی کبھی گرمی میں برف بھی پڑ جاتی ہے غرض عجیب قلندر مزاج چینل ہے حکومت کا۔ کبھی کسی سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کی آگے بڑھنے کی خواہش نہیں کی بس بجلی کے بل سے جو ملا اسی پر صبر شکر کر لیا۔

Facebook Comments HS