عالمی مقابلہ حسن پر تقی عثمانی کے تحفظات اور مدارس کلچر

گزشتہ دنوں مفتی تقی عثمانی، جنہیں لمحہ موجود کا ”مفتی اعظم“ بھی کہا جاتا ہے، نے امت کے ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کی ہے اور حکام بالا سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے امت کو پستی کے پاتال میں مزید گرنے سے بچائیں۔
وہ سنگین مسئلہ کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرما لیں۔
” جنگ کی خبر ہے کہ پانچ دوشیزائیں عالمی مقابلہ حسن میں پاکستان کی“ نمائندگی ”کریں گی، اگر یہ سچ ہے تو ہم کہاں تک نیچے گریں گے۔ حکومت اس خبر کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور کم از کم ملک کی“ نمائندگی ”کا تاثر زائل کرے“
مولانا کا اس امت پر احسان ہے کہ انہوں نے بروقت نوٹس لیتے ہوئے حکام اور عوام کی توجہ ایک انتہائی اہم اور سنگین مسئلے کی طرف دلائی اور حکومت وقت کو تنبیہ کی کہ وہ اس ظلم عظیم کا کوئی سد باب کرے۔
ہم تو امید لگائے بیٹھے تھے کہ مولانا صاحب حکومت وقت سے کہیں گے کہ ضروریات زندگی کو انسانی پہنچ سے دور کیوں کیا جا رہا ہے؟
زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں روز بروز کیوں بڑھائی جا رہی ہیں؟
لوگ خودکشی کرنے پر مجبور کیوں ہو رہے ہیں؟
سفید پوش طبقے کا بھرم کیوں تار تار ہوتا چلا جا رہا ہے؟
موجودہ حالات میں خواتین اپنا جسم بیچنے پر کیوں مجبور ہیں؟
لوگ محض دو کلو آٹے کے حصول کے لیے چوری چکاری پر کیوں اتر آئے ہیں؟
وطن عزیز اسلام کا قلعہ ہونے کے باوجود اخلاقی انحطاط کا شکار کیوں؟
مدارس اور مذہبی اجتماعات کی بھرمار کے باوجود ہمارے ہاں لوٹ مار، بددیانتی، ذخیرہ اندوزی، قتل و غارت مذہب کے نام پر دہشت گردی اور اقربا پروری کی شرح روز بروز کیوں بڑھ رہی ہے؟
مدارس میں بچہ بازی کا کلچر کیوں فروغ پا رہا ہے؟
غیر اسلامی سماج میں عورت محفوظ، جب کہ ہم ایسے مذہبی معاشروں میں غیر محفوظ کیوں؟
ہم ایسے پارساؤں کے بیچ خاتون عدم تحفظ کا شکار کیوں؟
اگر مذہبی ماحول و تربیت کے باوجود جنسی گھٹن زوروں پر ہے تو اس کا ذمہ دار کون؟
مگر حیرت ہے مولانا کو بہت دور کی سوجھی اور ایک ایسی خبر سب سے پہلے بریک کر ڈالی جس کا شاید ملک کی آدھی آبادی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔
بہت سوں کو تو شاید پتا بھی نہ ہو کہ عالمی مقابلہ حسن کس بلا کا نام ہے؟
مولانا کے ذوق نظر اور ذہنیت کو داد دیجئے کہ حضور کی نظر کہاں پہ جا کے ٹکی؟
اور اس مسئلے کو بڑی صفائی سے سنگین ثابت کر کے سرخرو بھی ہو گئے۔
ذوق کی آبیاری بھی خوب کی اور مذہب کی سربلندی بھی کمال۔
ہے نا کمال درجے کا ٹیلنٹ؟
عوام تو پھر سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر آپ کے ہوتے ہوئے بھی مذہب خطرے میں ہے تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہے؟
مدارس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے کون لوگ ہیں؟
جو لوگ یہ سب کرتے ہیں کیا وہ مذہب یا اس کی تعلیمات سے نابلد ہیں یا جنسی گھٹن کے ہاتھوں مجبور ہو کر کے اس قسم کی درندگی پر اتر آتے ہیں؟ سوچنا پڑے گا نا! کہ مذہب کی گہرائیوں میں اترنے کے باوجود بھی یہ لوگ اس قسم کی مکروہانہ حرکات کیوں کرتے ہیں؟ مغرب یا ہر طرح کا دنیاوی سسٹم تو آپ کی نظر میں گمراہ اور نظر کا فریب ہے لیکن آپ کے زیر سایہ ” پروفیسر صلاح الدین، مفتی عزیز الرحمان اور عظیم سومرو“ جیسے کردار روز بروز کیوں بڑھتے چلے جا رہے ہیں؟ اسلامیات کے مضمون کا ڈین پروفیسر صلاح الدین تعلیمی معاملات میں بچیوں کی مدد ہی اس شرط پر کیا کرتا تھا کہ اس کے عضو تناسل سے چھیڑ خانی کی جائے۔
یوٹیوب پر اس کا اعتراف موجود ہے، تزکیہ نفس کا دعویٰ کرنے والے کا خود کا ”نفس“ یا چند انچ کا لحم اگر اس کے خود کے اختیار میں نہ ہو تو سوال تو اٹھیں گے نا! ؟
بھلا ہو کیمرے کی آنکھ کا جس کی بدولت دعویٰ پارسائی کے بھرم کھل رہے ہیں۔
بہت کچھ شروع دن سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور جو کچھ ہم کیمرے کی وجہ سے دیکھ پا رہے ہیں وہ سب گزشتہ سے پیوستہ کا تسلسل ہے، کیمرہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت کچھ تاریکی میں گم رہا مگر آج کچھ بھی چھپا نہیں رہ سکتا۔
انجینئر محمد علی مرزا اور قاری حنیف ڈار کے مدارس کلچر کے متعلق خیالات یوٹیوب پر موجود ہیں ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
اب مولانا صاحب سے ایک سیدھا سا سوال ہے کہ آپ کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ دوسروں کی بچیوں کے مالک بن کر ان کی زندگیوں کے فیصلے کرتے پھریں؟
کیا بچیوں یا ان کے والدین کے انتخاب کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی؟
بچیوں یا ان کے والدین کے فیصلوں کے درمیان داروغہ بن کے حائل ہونے کا اختیار آپ کو کس نے ودیعت کیا ہے؟
آپ کا کام تو ”پہنچانے“ کا تھا داروغہ بننے کا نہیں۔
لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں گھسنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا ہے؟
مولانا صاحب کس کس تاثر کو زائل کریں گے؟ اور کس حد تک خود کو نیچے گرنے سے بچائیں گے؟

