بناکا گیت مالا اور سی پیک


وشوا ناتھ کیسکر 1903 میں بھارت کے شہر پونا میں پیدا ہوئے۔ 1921 میں انہوں نے آل انڈیا نیشنل کانگرس میں شمولیت اختیار کی اور 1952 میں بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات بن گئے۔ وہ دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس لحاظ سے اس وزارت میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر بن گئے۔ کیسکر نے وزارت سنبھالنے کے فوراً بعد ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فلموں کے گانوں کو آل انڈیا ریڈیو سے نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔

حالانکہ یہ آزادی کے فوراً بعد کا زمانہ تھا اور فلمی گانوں کے شائقین اور سامعین کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ اس حوالے سے کیسکر کا یہ قدم سمجھ سے بالاتر تھا۔ دراصل کیسکر کا تعلق مہاراشٹرائی برہمنوں کی نسل سے تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اصل ہندوستانی کلاسیکی موسیقی ہندو مت میں ایک روحانی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن ہندوستان میں مسلسل مسلمان اور انگریز حکومت کرتے رہے اور ان حکمرانوں نے جان بوجھ کر ہندوستانی موسیقی میں شہوانیت اور ہیجان خیزی پیدا کر دی۔ جس کی وجہ سے ہندوستانی موسیقی اپنی روحانی مرکز سے ہٹ گئی۔ کیسکر ہندوستانی فلمی گانوں کو بیہودہ، سستا اور مغرب زدہ سمجھتے تھے۔ وہ ہندوستانی موسیقی میں اسلامی اثرات بھی ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ ہندو ستانی موسیقی میں ہندو مت کا ثقافتی اثر و رسوخ دوبارہ قائم ہو سکے۔

1947 میں انگریز پورے بر صغیر کو آزاد کر گیا اسی خطہ میں ہمارا ملک پاکستان ایک نئی مملکت کی حیثیت سے ابھرا ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا ملک جو ایک جزیرے پر مشتمل تھا ہندوستان سے تقریباً متصل تھا آ زاد ہو گیا اس کا نام سیلون تھا۔ اب اس کا نام سری لنکا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برٹش سرکار نے سیلون کے دارالحکومت کولمبو میں ایک ریڈیو اسٹیشن قائم کیا اور اس میں ایک بہت طاقتور ٹرانسمیٹر میٹر نصب کیا۔ بنیادی طور پر اس ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا مقصد دشمن جرمن اور جاپانی ریڈیوز سے نشر ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دینا تھا اس لیے اتنا طاقتور ٹرانسمیٹر لگایا کہ اس کی نشریات کرہ ارض کے دونوں جانب یعنی مشرق وسطی اور مشرقی بعید میں آسانی سے سنی جا سکیں۔

سیلون کی حکومت نے ہندوستانی وزارت اطلاعات کی جانب سے فلمی گانوں اور موسیقی پر پابندی لگانے کے قدم کو اپنے لیے ایک نادر موقع سمجھا اور ریڈیو سیلون سے ہندی سروس شروع کردی گئی۔ ریڈیو سیلون نے بمبئی سے ایک ہندوستانی شخص امین سیانی کی اپنے اسٹیشن کے لئے تقرری کرلی۔ امین سیانی بھارتی گجراتی نژاد مسلمان تھے۔ انہوں نے اس زمانے کے بھارتی فلموں کے مقبول ترین نغموں پر مشتمل نغموں کا پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کو بنا کا ٹوتھ پیسٹ بنانے والے ادارے نے اسپانسر کیا اس لیے اس پروگرام کا نام ”بناکا گیت مالا“ رکھا گیا۔

ریڈیو سیلون نے اس کے علاوہ بھی بھارتی فلمی گانوں پر مشتمل کئی پروگرام نشر کرنے شروع کر دیے لیکن جو مقبولیت ”بناکا گیت مالا“ کو حاصل ہوئی وہ کسی اور پروگرام کو حاصل نہ ہو سکی۔ 1952 سے شروع ہونے والا یہ پروگرام پورے 42 سال تک نشر ہوتا رہا اور 1994 میں بند کیا گیا۔ اس پروگرام نے نہ صرف ہندوستان، بلکہ پاکستان اور دنیا کے ان تمام علاقوں میں جہاں ہندی اور اردو سمجھنے والے موجود ہیں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ یہاں تک کہ ریڈیو سیلون نے اشتہارات کی آمدنی میں اضافے کے لیے بمبئی میں ایک ریڈیو ایڈورٹائزنگ سروس بھی قائم کر دی۔ رفتہ رفتہ آل انڈیا ریڈیو سامعین اور آمدنی سے بالکل محروم ہو گیا۔ بھارتی حکومت وزارت اطلاعات کے نفرت پر مبنی ایک غلط فیصلے کو سیلون کی حکومت نے کس طرح اپنے فائدہ کے لئے استعمال کیا۔ ریڈیائی کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

حال ہی میں دہلی میں جی 20 ممالک کی کانفرنس میں ہونے والے فیصلے بھی پاکستان کے لیے ”بناکا گیت مالا“ ہی ہیں۔ 90 کی دہائی کے بالکل آخر میں چین نے پاکستان سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے مغربی صوبوں کو بحرہ عرب سے جوڑنا چاہتا ہے اس سلسلے میں چینی صدر 2015 میں پاکستان تشریف لائے۔ پاکستان اور چین نے سی پیک کے تحت 46 بلین ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس میں سب سے اہم منصوبہ ایک اقتصادی راہداری کی تعمیر تھا جو پاکستان کے ساحلی شہر گوادر سے لے کر چین کے شہر کاشغر تک تعمیر ہونا ہے۔

یہ تقریباً تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے اس کا مقصد پاکستان کے تمام علاقوں کو معاشی اور معاشرتی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ اس شاہراہ کے ساتھ ریلوے لائن بھی تعمیر ہونی ہے تاکہ چین کو گوادر کی بندرگاہ سے تیل اور گیس کی ہمہ وقت ترسیل ہو سکے۔ اس اقتصادی راہداری پر بہت جوش و خروش کے ساتھ کام شروع کیا گیا لیکن عمران خان کی حکومت آتے ہی یہ عظیم الشان منصوبہ تعطل اور سست روی کا شکار ہو گیا۔ چین کے خلاف پاکستانی میڈیا میں عجیب و غریب خبریں آنے لگیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے وزیر تجارت رزاق داؤد نے باقاعدہ اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا پھر کئی حکومتی وزیروں اور مشیروں نے سی پیک پر تنقید کے نشتر چلانا شروع کر دیے۔ اس وقت سی پیک پر کام تقریباً بند ہے۔

دوسری طرف اقتصادی راہداری کا یہ خیال جی 20  کے ممالک نے اپنا لیا۔ واضح رہے چین بھی جی 20 کا ممبر ہے۔ اس لیے وہ ان تمام معاہدوں سے فوائد اٹھائے گا جو ممبر ممالک آپس میں طے کریں گے۔ 9 اور 10 دسمبر کو جی 20 نئی دہلی سربراہ کانفرنس نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ میزبانی کے فرائض بھارت نے انجام دیے۔ اس سربراہ اجلاس کا عنوان تھا ”ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل“ ۔ جی۔ 20 گروپ میں دنیا کے 19 امیر ترین ممالک کے ساتھ یورپین یونین بھی شامل ہے۔

ان تمام ممالک کی اقتصادی پیداوار دنیا کی کل پیداوار کا 85 فیصد ہے۔ اس کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ بھارت سے یورپ تک ایک اقتصادی راہداری تعمیر کی جائے گی اور یہ راہداری خشکی اور سمندر دونوں پر تعمیر کی جائے گی۔ یاد رکھیے جب آپ جان بوجھ کر موقع گنواتے ہیں تو تاک میں بیٹھی ہوئی دوسری قوتیں اس موقع کو کیش کر لیتی ہیں۔ اس تمام قصہ میں چین کو تو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن پاکستان کے 25 کروڑ عوام آج سستے پیٹرول اور سستی بجلی کی تلاش میں مہنگائی کے صحرا میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS