حل نا ہونے والا چھتیس کا آکڑہ اور نواز شریف


بات کو سمجھنا اب آسان ہے اگر سمجھنے کی نیت ہو!
شہباز شریف کی حکمرانی کا جب نواز شریف سے موازنہ کیا جاتا ہے تو وہ عقل، نظر اور نیت کے اندھے بھی جو ہر قسم کی کارکردگی کے منکر ہیں اور جنہیں صرف لوٹ مار ہی نظر آتی ہے، مجبور ہو کر بھی منمناتے ہیں کہ شہباز شریف تو بالکل ہی پھس نکلا، یہ تو اپنے بھائی سے بھی زیادہ نکما تھا۔

میں نے عرض کیا نا، اگر نیت ہو تو بات کو سمجھنا آسان ہے۔
تو واپس چلتے ہیں

گزارش یہ تھی کہ جن کی عقل، نظر اور نیت سب کچھ اندھا ہے وہ بھی یہ دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ شہباز شریف کی کارکردگی نواز شریف کے مقابلے کمتر درجے کی تھی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ آنکھیں کان اور دل رکھنے والے تو دھڑلے سے مانتے ہیں کہ نواز شریف نے پرفارم کیا تھا۔ اس پرفارمنس کے انداز اور اپروچ پر تنقید کے باوجود کہ دنیا بھر میں ہونے والی ہر بہتر اور بدتر بات پر تنقید بھی کی جاتی ہے، کی جانی چاہیے مگر تنقید حقیقت کا انکار نہیں ہوتی۔ بلکہ حقیقت کے منفی یا ناپسندیدہ پہلووں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یاد رہے جو چیز ایک پو پسند ہوتی اکثر وہ دوسرے کو ناپسند لہذا تنقید کو ابھی ایک جانب رکھتے ہیں چونکہ عمران خان پر الزام یہ ہے کہ اس نے کچھ کیا ہی نہیں اس لئے جیسا میں نے عرض کیا، نیت ہو تو بات کو سمجھنا اب آسان ہے

تو واپس چلتے ہیں

کیا وجہ ہے کہ نواز شریف کو فوج کی وہ حمایت حاصل نہیں تھی جو شہباز کو تھی، وہ سیاسی حمایت حاصل نہیں تھی جو ایک کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کی تھی اور کیا وجہ ہے کہ نواز پر ہمیشہ فوج سے پنگے بازی کا الزام تھا جو آج دن تک شہباز پر نہیں پھر بھی کارکردگی کے باب میں شہباز پرواز سے محروم ایک بگلا دکھائی دیتا ہے

اصل میں بنیادی فرق ہی فوج کی حمایت یا مخالفت کا ہے۔

دیکھئے، فوج کے اپنے مفادات ہیں جن کا تخفظ سیاست میں مداخلت کے بغیر ممکن نہیں۔ عوام کے مفادات کا ان سے تعلق نہیں اور چونکہ سیاست دان عوام کے مفادات کا محافظ ہوتا اس لئے آج دن تک نواز شریف کی فوج سے نہیں بن سکی۔

ترقی کی ساری منازل ایک حل تک فوجی چھتر چھایا کے نیچے طے کرنا ممکن ہیں مگر وہ حل ہم نے انیس سو ستر میں پار کر لی تھی۔ زمانہ بدل گیا، سب کچھ بدل گیا، نا بدلا تو فوج کے مفادات سے عوامی مفادات کا ٹکراؤ۔ ہر سیاستدان اس انتہائی مشکل ایکوایشن کو حل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے شرط یہ ہے کہ اسے کرسی مل جائے،

عمران خان کی تازہ مثال بھی اسی حقیقت کی نشاندہی تھی کہ فوجی حمایت جس درجہ بھی ہو، کارکردگی کے لئے درکار لوازمات فوج کی بندوق سے نہیں نکلتے۔ کیونکہ دونوں، یعنی فوج اور عوام کے مفادات کا چھتیس کا آکڑہ ہے

شہباز شریف اور عمران کی حکومت میں بنیادی فرق کیا تھا؟

دیکھا جائے تو دونوں کو ایک ہی سی حمایت حاصل تھی۔ عمران کے لئے میدان خالی کروایا گیا اور شہباز کے وقت میدان میں کوئی مخالف کھلاڑی ہی موجود نا تھا۔ یعنی دونوں کو ایک مثالی ماحول میسر تھا مگرکارکردگی کے باب میں دونوں خالی رہے۔ شہباز چونکہ حماقت اور خود پسندی کی اس اونچائی سے کوسوں دور ہے جہاں عمران خان براجمان ہے اس لئے جتنا فرق دونوں کے احمقانہ رویوں میں ہے اتنا ہی فرق دونوں کی کارکردگی میں بھی ہے مگر دونوں کے ادوار کا نواز شریف سے مقابلہ نہیں اور وجہ ایک ہی ہے۔

یہاں تک پہنچنے کے بعد جو ایک سوال فطری طور پر دماغ میں آتا ہے کہ آنے والے الیکشن کے بعد بفرض محال نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بن جائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر اسے ذلیل کر کے کرسی سے نہیں اتارا جائے گا، پھر سے کوئی پانامہ جیسا بہانہ بنا کر سول ملٹری اور جوڈیشری اسٹیبلشمنٹ اسے سبق نہیں سکھائے گی اور پھر ہم دو کا پہاڑا ایک سے شروع نہیں کریں گے

اس سوال کا جواب ہی ہماری پچاس سالہ پاور پالیٹکس کا خلاصہ ہے

کوئی نئی بات، کوئی نئی سچائی، کوئی نئی حقیقت ایسی نہیں جو ہمیں یقین دلائے کہ ماضی خود کو نہیں دہرائے گا پھر بھی بقول شاعر دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے مگر تاریخ کی سچائیاں الگ ہی داستان سنا رہی ہیں۔

Facebook Comments HS