ناروے میں نادرہ کے ساتھ


نادرہ مہرنواز کی کتاب ’ناروے۔ پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے سامنے ہے۔ یہ کتاب 34 مضامین پر مشتمل ہے جو ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکے ہیں۔ میں یہ تمام مضامین پڑھ چکی ہوں لیکن اب سب ایک کتاب کی صورت میں یکجا ہیں تو انہیں پڑھنے میں اور بھی مزا آ رہا ہے۔

اس سے پہلے کہ میں کتاب کے بارے میں کچھ کہوں، میں نادرہ کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گی۔ نادرہ اور میری دوستی بچپن کی تو نہیں لیکن لڑکپن کی ضرور ہے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ہم ملے۔ پہلی ملاقات سے ہم کلک کر گئے اور پکی سہیلیاں بن گئے۔ پوائنٹ کی بس پکڑنا، کینٹین سے ایک سموسہ آدھا آدھا کر کے کھانا۔ ایک کوک کی بوتل سے باری باری پینا، خوب ہنسنا اور ڈھیروں گپیں لگانا، یہ بے فکری کا زمانہ تھا۔

برٹش لائبریری کی دقیق کتابوں سے نوٹس بناتے بناتے جب بیزار ہو جاتے تو فہمیدہ ریاض کی نظمیں ایک دوسرے کو سناتے اور سراہتے۔

نادرہ نے یونیورسٹی کے زمانے سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ہم دونوں نے ریڈیو پر صداکاری بھی کی۔ جب ہمیں پیسے ملتے تو ہم کبھی بوہری بازار پر چاٹ کھاتے، کبھی طارق روڈ کی ونڈو شاپنگ کے بعد ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں سستی ترین ڈشیں منگاتے۔ طارق روڈ ہی کی ایک پان کی دکان سے سادہ خوشبو کا پان کھاتے اور یوں ایک مکمل دن کو انجوائے کرتے۔ اسی دوران میں نے برٹش ائیر ویز میں ائیر اسٹیورڈ کی جاب کے لیے اپلائی کیا، میری سلیکشن ہو گئی۔ ٹریننگ کے بعد میں نے باقاعدہ پروازیں شروع کر دیں۔ نادرہ ماہنامہ پاکیزہ کی مدیرہ بنی اور لکھتی رہی۔ کئی انٹرویوز کیے۔ افسانے لکھے، فیچرز لکھے۔ پاکیزہ کے سرورق کے لیے چہرے تلاش کیے، (میری دو بار تصویر چھپی)۔

نادرہ اور میں نے بہت وقت ساتھ گزارا۔ بہت کچھ ساتھ ساتھ کیا۔ سگریٹ کا پہلا کش ساتھ ہی لگایا اور ساتھ ہی توبہ بھی کی۔ ساتھ ساتھ گاڑی چلانا سیکھی۔ سائیکلوں سے گرے۔ غرض یہ کہ یادیں ہی یادیں ہیں۔ ہم عمر تو ہم تھے ہی، ہمارا قد اور جسامت بھی ایک سی تھی۔ ساریوں کا رواج بہت تھا ہم ایک دوسرے کی ساریاں اور بلاؤز پہنتے اور خوش تھے کہ کپڑوں کا خرچا آدھا رہ گیا۔

پھر نادرہ کو پرویز مہرنواز مل گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے پہلے میں ہی پرویز مہرنواز سے ملی۔ وہ بہت نفیس انسان ہیں۔ ان دونوں کی شادی ہو گئی۔ وہ گھر بار اور بچوں میں لگ گئی۔ ادھر میری اڑانیں بڑھ گئیں۔ لیکن جب بھی وقت ہوتا، ہم ملتے ضرور۔

نادرہ اور پرویز اپنے بچوں کے ساتھ ایران شفٹ ہو گئے اور ہمارا رابطہ ٹوٹ گیا۔ پھر کہیں سے پتہ چلا کہ وہ سب ناروے جا بسے ہیں۔ میں بھی اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ قدم جما کر چل رہی تھی۔ سنگل مدر تھی، فلائنگ چھوڑ کر اپنے اور اپنی بچی کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے کوشاں رہی۔ پاکستان سے امریکہ اور پھر کینیڈا پہنچ کر سکھ کا سانس ملا۔ اس دوران نادرہ یاد تو آتی رہی لیکن اس سے رابطہ نہیں رہا۔ میں تو اس سے بھی بے خبر رہی کہ نادرہ اور پرویز پر اتنا بڑا سانحہ گزر گیا۔ وہ 2007 میں اولاد کا دکھ اٹھا چکے ہیں۔

2017 میں فیس بک نے ہمیں دوبارہ ملا دیا۔ وہ ایک نہایت خوشی کا دن تھا۔ ایسا لگا کہ جیسے ابھی کچھ ہی دن پہلے ملے تھے۔ ہمارے بیچ کبھی کوئی دوری آئی ہی نہیں۔

اب آتے ہیں نادرہ کی کتاب کی طرف۔ کتاب کے تمام مضامین کا موضوع ناروے ہے۔ یہ ایک جامع تصنیف ہے اور اگر آپ ناروے میں نہیں رہتے پھر بھی اس میں آپ کے لیے دلچسپی بھی اور معلومات بھی۔ ناروے دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک ہے۔ نادرہ نے ناروے کا ہر پہلو ہمیں دکھایا۔ اس کی خوبصورتی، جمہوریت، حق رائے، رواداری، عورتوں اور گے کمیونیٹی کے حقوق کی جدوجہد، موسیقی۔ تھیٹر، مصوری اور ڈانس۔

مجھے ناروے کے ڈراما نگاروں پر لکھا گیا مضمون بہت اچھا لگا اور اندازہ ہوا کہ ناروے کے لکھاری اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ اس کے علاوہ عورتوں کا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا، شادی، طلاق اور اسقاط حمل کا حق، اظہار کا حق والے مضامین بھی چشم کشا ہیں۔ اوسلو بائے نائٹ، نارویجین ثقافت اور آمد و رفت کے ذرائع پڑھ کر لطف آ گیا۔

نادرہ کی کتاب میں نہ تو پہاڑ جیسے بھاری جملے ہیں اور نہ ہی ثقیل الفاظ کی سونامی اور نہ ہی تند و تیکھے لہجے کی آندھی۔ یہ تو ایک بہتی ندیا کی طرح ہے جو خراماں خراماں چلی جا رہی ہے اور پڑھنے والے کو بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ نادرہ جیسی نرم خو ہے، ویسا ہی لکھتی بھی ہے۔ کہیں کوئی الفاظ کی گول اباری نہیں، کہیں مبالغہ آمیزی نہیں۔

کتاب بہت خوبصورت چھپی ہے۔ سر ورق جاذب نظر ہے، کاغذ بھی منفرد قسم کا ہے۔ مضامین میں تصویروں نے رنگ بھر دیا۔

نادرہ سے ملنے کی شدید خواہش تو تھی ہی یہ مضامین پڑھ کر مجھے ناروے دیکھنے کا بھی شوق پیدا ہوا۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ ملک معاشی، معاشرتی اور اخلاقی طور پر بھی ایک مثال نظر آتا ہے۔ نادرہ کی کتاب ملتے ہی میں نے سوٹ کیس پیک کیا اور ناروے کا ٹکٹ کٹا لیا۔

سوچا اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مل ہی لینا چاہیے۔ نادرہ کا ناروے دیکھ لینا چاہیے۔ جی ہاں میں ان دنوں ناروے میں ہوں اپنی دوست نادرہ کے گھر۔

 

Facebook Comments HS