عطا الحق قاسمی کے سفر نامے


کچھ سال ہوتے ہیں، میں نے اورحان پامک کی ایک کہانی پڑھی تھی وہی جس میں پامک نے لکھ رکھا ہے کہ جب فتح مند فاخر شاہ نے صلاح الدین خان کو شکست دے کر قتل کر دیا تو رواج کے مطابق کتابوں کی جلدیں اکھڑوا کر انہیں ازسر نو مرتب کروایا گیا۔ یوں صلاح الدین خان کے کارنامے فاخر شاہ کا حصہ ہو گئے۔ جب کتاب کے تصویری حصے میں شاہی مصور فاخر شاہ کو داخل کر رہے تھے تو وہ خان کے حرم کی حسینہ نریمن کو دل دے بیٹھا تھا۔ وہ فاتح تو تھا مگر اس حسینہ کا دل جیتنا چاہتا تھا۔

ادھر نریمن نے عجب درخواست کردی تھی کہ لیلی مجنوں کی داستان میں، وہ جو خان کی شبیہ ہے، اسے نہ بدلا جائے۔ بہ ظاہر ایک صفحے کا معاملہ تھا، نریمن کا دل رکھنے کے لیے فاخر شاہ مان گیا۔ تاہم فوراً بعد وہ تصویر اسے اندر ہی اندر سے ڈسنے لگی۔ حتی کہ ایک رات وہ نریمن کے وصل کثیر کے بعد اٹھا، چوروں کی طرح کتب خانے میں گھسا، اور چوں کہ بادشاہ اتائی مصور بھی ہوا کرتے تھے، اس لیے خود ہی خان کے چہرے پر اپنا چہرہ بنا ڈالا۔

اگلے روز تحریف شدہ تصویر میں نریمن کے پہلو میں موجود شاہ کو پڑوسی ملک کے منہ زور حکمران عبداللہ شاہ کے طور پر شناخت کیا گیا۔ گویا فاخر شاہ نے اپنی تصویر بنانا چاہی اور بن گئی عبداللہ شاہ کی۔ غرض اور حاحان پامک نے کہانی کے آخر میں عبداللہ شاہ کو فاتح دکھایا ہے جو فاخر شاہ کے قتل کے بعد نریمن کا شوہر بن گیا تھا۔

میں عطاء الحق قاسمی کی چار کتابوں میں موجود کئی سفر کہانیوں کے مجموعے کو پڑھتے پڑھتے اس مقام پر پہنچا کہ جہاں وہ ترکی کے محمت کے ساتھ میونخ سے استنبول جانے کا احوال کہہ رہے تھے، تو نہ جانے کیوں مجھے ترکی ہی کے اورحان پامک کی لکھی ہوئی یہ کہانی یاد آ گئی تھی۔ اور مجھے یہ بھی یاد آنے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے ڈاکٹر ریاض احمد ترکی گئے، تو وہاں سے واپسی پر ایک ایسی کتاب اٹھا لائے تھے جسے اپنے بیڈ روم میں گدے کے نیچے چھپا کر رکھا کرتے۔

ایک روز ان کے ہاں جانا ہوا تو مجھے وہ خفیہ کتاب دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ واقعی خفیہ مال تھی۔ چھپا کر رکھنے اور چپکے چپکے چکھنے کے لائق، کہ اس کتاب میں اس عہد کی تصویریں جمع کردی گئیں تھیں جب شاہی حرم میں عورتیں لائی جاتی تھیں۔ ان ہی میں سے کچھ تصویروں میں ننگی غلام عورتوں کی منڈی کا تصویری نقشہ فراہم کر دیا گیا تھا۔ جن دنوں میرا، محمد عمر میمن سے فکشن پر مکالمہ چل رہا تھا، میں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ یوں لگتا ہے ترکی کے نئے منظر نامے میں اس طرح کی کتابوں کا اہتمام اور فراوانی سے فراہمی (کہ جن میں ایک گزشتہ عہد کی عورت کو ننگا کر کے دکھایا گیا ہے ) کہیں نیت کا ننگا پن تو نہیں۔

ورنہ کیا آج کی عورت کو کہیں اور بے لباس نہیں کیا جا رہا ۔ یہ انسانی اور اخلاقی مسئلہ تو آج کے عہد میں اور بھی گمبھیر ہو گیا ہے۔ خیر میں عطاء الحق قاسمی کا سفرنامہ پڑھ رہا تھا اور ان کے سفر کے ساتھی محمت سے مل رہا تھا، جی اسی محمت سے، جس نے اٹیچی کھلنے پر قرآن پاک کو وارفتگی میں بوسے دیے اور اپنے توتلے لہجے میں تلاوت کی تھی۔ اس لہجے میں جو اتاترک کی عطا تھا، عربی کی خالص آوازوں سے پچھڑا ہوا لہجہ، تو میں تصور ہی تصور میں اورحان پامک کی کہی ہوئی ننھی کہانی سے لے کر عطا الحق قاسمی کی لکھی ہوئی سفر کہانی تک اور مابعد کے ترکی کے سارے تہذیبی اور سیاسی سفر کو دیکھ رہا تھا۔

عطا کے سفر لکھنے کا قرینہ یہ ہے کہ وہ سفر کتھا لکھتے ہوئے وہاں کی تاریخی کتابوں سے مواد نقل کر کے سفر نامہ نہیں بناتے، زندہ کرداروں سے ملواتے ہیں اور انہی کرداروں کے وسیلے سے ضروری معلومات یوں دستیاب کرتے جاتے ہیں کہ قاری نثر کی شگفتگی سے لطف اٹھاتا ماضی میں دور تک جھانکتا چلا جاتا ہے۔

داناؤں نے سفر کرنے کی تاکید کر رکھی ہے۔ بے شک دنیا سمٹ سمٹا کر ٹی وی کی سکرین اور کمپیوٹر کے مانیٹر کے ذریعے ہر دم ہمارے سامنے رہتی ہے، یوں کہ علاقوں، عمارتوں، بازاروں اور انسانوں کا کوئی بھید اب بھید نہیں لگتا، مگر واقعہ یہ ہے کہ اس طرح یہ دنیا اور بھی اجنبی اور چلتر ہوتی چلی گئی ہے۔ وہ، جو کچھ اور جتنا کچھ، نظر آتی ہے عین مین ویسی ہوتی نہیں۔ اور جو ہوتی ہے روشنیوں سے اوجھل فریم سے کٹ کر باہر پڑی رہ جاتی ہے۔

اس کا تجربہ بھی مجھے دنیا کے دوچار ممالک گھومنے کے بعد ہوا اور یہی تجربہ مجھے مہاتما بدھ کے اس کہے کی معنویت سمجھا گیا ہے۔ کہ سفر کرو، سورج کی روشنی میں، سورج نہ ہو تو چاند اور ستاروں کی روشنی میں، گھپ اندھیرا ہو تو چراغ یا پھر جگنو کی روشنی میں اور یہ بھی میسر نہ ہو تو دل کی روشنی میں۔ تو یوں ہے کہ عطاء الحق قاسمی نے یہ سارے سفر دل کی روشنی میں کیے ہیں۔ ان کی سفر کہانیاں کہیں رات کے بھید کھولتی ہیں، کہیں دن کی طرح روشن تلخ حقیقتوں کا قصہ کہتی ہیں اور کہیں چراغ اور جگنووں کی مدد سے اپنے ماضی میں جھانکنے اور موذی حال کو کھنگالنے لگتی ہیں۔

سفر نامے کا طے شدہ یا متعین فارمیٹ یہی ہے، کہ سفر نگار جہاں جائے پڑھنے والوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلے اور اب تک لکھے گئے سفر نامے یہ سمجھاتے ہیں کہ یہ محض اور صرف سفر کی روداد نہیں رہا ہے۔ محمود نظامی کے ”نظر نامہ“ ، شاہد احمد دہلوی کے ”دلی کی بپتا“ ، بیگم اختر ریاض الدین کے ”سات سمندر پار“ ، ممتاز مفتی کے ”لبیک“ ، اشفاق احمد کے ”سفر در سفر“ ، محمد خالد اختر کے ”یاترا“ ، مختار مسعود کے ”سفر نصیب“ سے کر عطا الحق قاسمی کے سفرناموں تک چلے آئیں اور ان میں مستنصر حسین تارڑ کے سفر ناموں کو بھی شامل کر لیں، تو مجھے یوں لگتا ہے کہ اب سفر نگار کچھ کچھ فکشن نگار بھی ہوتا جا رہا ہے، تاریخ نگار اور مزاح نگار بھی۔ اور کہیں کہیں تو اسی میں اس کی اپنی زندگی یوں بیان ہونے لگتی ہے کہ سفر کہانی آپ بیتی کے ہم پلہ ہو جاتی ہے۔

سفرنامے کو نیا روپ اور تخلیقی چھب دینے والوں میں عطا ء الحق قاسمی کا حصہ بہت نمایاں اور لائق اعتنا ہے اور یہ یوں اہم اور مختلف ہو جاتا ہے کہ نصف صدی کی سفر کاری میں انہوں نے اپنی مٹی کی مہک کی سفارت بھی کی ہے۔ وہ اپنی قومی شناخت کے متبرک پانیوں سے اپنے متن کے مواد کو گوندھتے ر ہے ہیں، یوں کہ یہ سفر نیویارک کا ہو یا بلغراد، سنگاپور، سڈنی، برمنگھم، پیرس اور اوسلو کا یا پھر امرتسر کا ( کہ جو عطا کی جنم بھومی تھی اور ان کی امی جان کی زبان پراس شہر کا نام ”امبرسر“ ہو کر ایک سہانا خواب ہو جایا کرتا) وہ ہماری فکری اور تہذیبی تربیت بھی کر رہے ہوتے ہیں۔

وہ زندگی کی حقیقتوں کو نہیں بگاڑتے، نہ عین مین کھدرے بیان میں لے لیتے ہیں، بلکہ اسے ایک زاویہ دے کر ان حقیقتوں کی بابت ہمارے سوچنے اور سمجھنے کو بھی ایک جہت دے دیتے ہیں، ایک مختلف جہت اور لطف یہ ہے کہ ایسا بہت غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے۔ ہم سفر نگار کے لطف بیان میں گم ہوتے ہیں، شگفتہ جملوں پر مسکرا رہے ہوتے ہیں، مناظر سے لذت کشید کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں جادو اثر تحریر سے ہمارے سوچنے کا رخ بدل چکا ہوتا ہے۔

جی، یقین نہیں آتا تو آئیے وہاں سے دیکھتے ہیں، جہاں سے نیویارک جاکر عطا الحق قاسمی نے ہمیں ڈان اور سینڈی سے ملوا کر زندگی کو دکھانا چاہا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کا فارغ التحصیل سفید امریکی، سفید فاموں سے بے زار، حشیش کا رسیا شاعر ڈان، اور گدرائے جسم والی اس کی محبوبہ سینڈی۔ ہمارے سفر نگار نے انہیں رات کو برابر والے کمرے کے کھلے دروازے سے عجیب آوازوں سمیت دکھایا تھا، کچھ ایسے کہ دیکھتے ہوئے سفر کار کی نیند تو خطا ہونا ہی تھی، پڑھنے والے بھی اپنی نیندیں خطا کر بیٹھتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں وہ مغرب کے جنسی رویے پر چپکے سے ایک کاری ضرب لگا دیتے ہیں۔ محض ایک دو جملے لکھ کر ۔ جی، ان شگفتہ جملوں میں، شادی کے ادارے پر ایمان لانے کی بات کی گئی ہے۔ شادی تہذیبی تربیت اور رشتوں کی تقدیس کا ایسا ادارہ ہے جس پر ایمان مغرب کے وتیرے سے منہا ہو گیا ہے۔ تبھی تو قاسمی صاحب کی بات سن کر سینڈی اور ڈان کھلکھلا کر ہنسے تھے، مگر طرفگی دیکھیے کہ ان کی کھلکھلاتی ہنسی کے کھوکھلے پن سے پڑھنے والا فوراً وہاں کے تہذیبی کھوکھلے پن تک پہنچ جاتا ہے۔

مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن کا احوال چل نکلا ہے تو اسی ہلے میں لندن کے ہم جنسوں کے کلب کا احوال بھی پڑھ جائے، اس کلب میں گھسنے کے لیے ہمارے سفر نگار نے اپنے ساتھی کے ہمراہ تین حیلے کیے اور آخری حیلے میں لگ بھگ خود کو ہم جنس ہی بنا ڈالا تھا۔ تب کہیں جاکر وہاں کھڑے کلب کے سیاہ پوش ملازم نے انہیں اندر جانے دیا کہ اس کے ذمے یہ ”مقدس فریضہ“ تھا کہ کوئی ”ہم جنسی مسلک کا منکر“ کلب میں گھس کر محفل کے ”تقدس“ کو مجروح نہ کرنے پائے۔

کلب کے اندر قاسمی صاحب نے کیا دیکھا، اس کے لیے تو آپ کو سفر نامہ پڑھنا ہو گا، تاہم اس ”ہم جنسی معبد“ میں کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ اپنے قاری پر واضح کر چکے تھے کہ جہاں بھی فطری اور تہذیبی رشتے، انسانی زندگی سے منہا ہوتے ہیں وہاں نفسیاتی کجیوں کی عطا تعفن زدہ جنسی ابکائیاں مقدس ہونے کا منصب سنبھال لیتی ہیں۔

سو ایسا ہے کہ سفر کہانیوں کی جو کتابیں ہمیں عطا الحق قاسمی نے فراہم کی ہیں، ان میں وہ سارے لذیذ علاقے بھی موجود ہیں جن کو دیکھ کر ہمارے دوست کو ترکی سے لائی ہوئی کتاب اپنے بیڈ روپ میں چھپا دینا پڑی تھی، مگر تخلیقی مزاج رکھنے والے اس ادیب نے وہاں کی زندگی کو جس رخ سے دیکھا اور دکھایا ہے، قاری خود ادبدا کر یہاں وہاں مشرقی مزاج کی مہین اوڑھنی ڈالتا چلا جاتا ہے ؛ اگر ایسا نہ کر پائے تو بھی اس کی شدید خواہش کرنے لگتا ہے۔ اس خواہش کو جگا دینا ہی قاسمی کے جادو اثر قلم کا معجزہ ہے۔

اور ہاں، ان سفر کہانیوں کو پڑھتے ہوئے ہمارے اندر پاکستانیت پوری طرح چوکس رہتی ہے، بہ طور خاص وہاں جہاں وہ اپنے وطن سے اپنی جنم بھومی پہنچتے ہیں۔ جی، میں امرتسر کی بات کر رہا ہوں جس میں پہنچتے ہی انہیں محسوس ہوا تھا کہ اس زمین کی خوشبو ان کے اندر رچی بسی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک دھندلی سی فلم چلتے ہوئے دیکھی، جیسے وہ اپنے ابا جی کے کاندھوں پر سوار تھے اور وہاں کے ہجوم کو ، اور ایک ایک چہرے کو ایک چار سالہ بچے کی حیرت اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔

ماضی کی مہک لیے اسی منظر نامے کو کہانی کے اگلے منظروں میں کچھ یوں اوندھادیا گیا ہے کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہم یہ سفر کہانی پڑھتے ہوئے ایک مٹ میلی گلی میں داخل ہو جاتے ہیں، سامنے ایک مکان ہے جس کی ڈیوڑھی میں بھینس بندھی ہوئی ہے۔ عطا کو تو اس مسجد کی زیارت کرنا تھی جس میں ان کے دادا دفن تھے۔ اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہی وہ مسجد ہے، تو خوب صورت ماضی بھک سے اڑ جاتا ہے۔ وہاں، جہاں ہمارے سفر کار کے دادا حضور چٹائی پر بیٹھ کر مفتی محمد حسن اور عطا اللہ شاہ بخاری جیسے اپنے چہیتے شاگردوں کو درس حدیث دیا کرتے، وہاں سے دھول اڑ رہی تھی۔

وہ دکھاتے ہیں کہ مسجد کے اندر صحن میں اترتی سیڑھیوں پر سے ایک گیانی اتر رہا تھا۔ یہ وہ سب کچھ تھا جو وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے مگر انہیں دیکھنا پڑا، اور انہوں نے ہمیں بھی دکھایا، محض یہی نہیں اور بھی بہت کچھ، اور اس بہت کچھ میں وہ تین کنویں بھی شامل تھے، جو تقسیم کے زمانے میں مسلمان لڑکیوں کی لاشوں سے اٹ گئے تو انہیں اجتماعی قبریں بنا دیا گیا تھا۔ عطا کی سنائی ہوئی کہانی میں، اب وہاں زمین ہموار تھی اور خود رو پھولوں کا جھنڈ تھا مگر اس کا ذکر یوں ہوتا ہے کہ کنواری لڑکیوں اور عورتوں کے پھول بننے کی کہانی پڑھ کر آنکھیں لہو روتی ہیں۔

میں بار بار عطا الحق قاسمی کے سفر ناموں کو سفر کہانیاں لکھتا رہا ہوں تو یہ قلم کا سہو نہیں ہے، اس سفر نگار کے قلم کا قرینہ ہی ایسا ہے کہ ان کی تحریر حقیقت کو فکشن کے قریب تر کر دیتی ہے۔ جی، جس طرح وہ کرداروں کی شناخت وضع کرتے ہیں، انہیں اپنے سفر نامے میں اپنے مکمل قامت اور مزاج کے ساتھ قاری کے مقابل کرتے ہیں، جس طرح زمان اور مکان کو برتتے ہوئے اپنے بیان کو تخلیقی بیانیے میں ڈھال لیتے ہیں اور جس طرح دیکھے بھالے مناظر میں بھی ایک جمالیاتی بعد رکھ دیتے ہیں، اس سے ان کا سفر نامہ محض سفر نامہ کہاں رہتا ہے، تخلیق پارہ ہو جاتا ہے۔

کہانی کے ذکر پر ایک بار پھر میرا دھیان اورحان پامک کی ننھی منی کہانی کی طرف چلا گیا ہے۔ نہیں، بلکہ اس بارپامک کی کہانی کا صرف ایک منظر یاد آیا ہے، وہی جس میں فاتح بادشاہ تاریخ کی رنگین کتاب پر مفتوح بادشاہ کے چہرے پر اپنا چہرہ بناتا ہے۔ بہت سے سفر نامے پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان میں سے بیشتر لکھنے والوں کا قلم فاتح بادشاہوں کے اتائی موقلم کا سا کام کرتا رہا ہے، تاہم قاسمی صاحب نے اس قرینے کو بدلا اسے خشک معلومات کی پوتھی رہنے دیا، نہ اتھلا بنایا۔ جملے کہیں کہیں اتنے چلبلے رکھے ہیں کہ گدگدی کرتے ہیں اور کہیں اتنے گہرے اور تیکھے کہ پڑھتے پڑھتے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ وہ جو انور مسعود نے لکھا تھا کہ ’کیا جانیے یہ شخص ہنسا دے کہ رلا دے‘ تو یوں ہے کہ یہ بات عطا کے ان تخلیقی سفر ناموں پر صادق بیٹھتی ہے۔

Facebook Comments HS