اخلاقیات کا ‘الف’
عمران خان کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے، بالکل ٹھیک ہو رہا ہے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان جیسے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کے خواب دیکھنے والے کے ساتھ ایسا سلوک ہی ہونا چاہیے۔ یقیناً اس نے ریاست مدینہ پر تحقیق تو کی ہو گی لیکن اس قوم کی اخلاقیات پر تحقیق کرنا وہ شاید بھول گیا۔
کچھ روز قبل ٹی وی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جب بشری بی بی اپنی نیب کی پیشی بھگتنے جا رہی تھیں۔ ایک با پردہ اور جھکی نظروں کو دیکھتے ہی چاہیے تو یہ تھا کہ سب کیمرہ مین بھی اپنی نظریں اور کیمرے جھکا لیتے۔ لیکن میں بھی بیوقوفوں کی جنت میں رہتی ہوں۔ اس وقت خبر دینا زیادہ ضروری تھا یا اخلاقیات کا شاگرد بن جانا۔ ایک با پردہ عورت کو راستہ دینے کی بجائے کیمرہ مین سر توڑ کوشش میں تھے کہ کسی طرح بشری بی بی کی ایک جھلک دیکھنے کو مل جائے۔ وہ نا ملی تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پرانی تصاویر ہی ٹی وی پر چلانے پر اکتفا کیا۔
اس اخلاق کے بچے کو کہاں ڈھونڈیں جا کر۔ ایسا شرارتی کہیں چھپ کر بیٹھا ہے۔ یا شاید ہم آنکھ بند کیے اور منہ موڑے بیٹھے ہیں۔
مجھے یاد آیا میری بیٹی کا سکول گھر سے چند ہی قدم کے فاصلے پر ہے۔ ایک مین روڈ ہے جسے پل صراط کی طرح پار کرنا پڑتا ہے۔ وہاں کھڑے کھڑے اکثر یہ سوچتی تھی کہ کسی مائی کے لعل میں یہ اخلاقی جرات نہیں کہ کڑکتی دھوپ میں سکول کی بچی کو بیگ اٹھائے دیکھ کر رستہ دینے کے لیے اپنی گاڑی روک لے۔ اسی پل نظروں میں وہ منظر گھوم جاتا تھا جب ترقی یافتہ ممالک میں سکول کی بس سے اترتے بچے دیکھ کر دور تلک گاڑیاں اپنی جگہ تھم جاتی ہیں۔ پر یہاں گاڑی نہیں رکتی۔ اور ہم ساڑھے تین سال روتے رہے کہ کہاں ہے تبدیلی۔ تبدیلی وہ لوگ مانگتے تھے جو خود کو تبدیل کرنے میں ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔
سیاست کو چھوڑیں۔ پہلی گالی کس نے دی، یہ شاید آپ نا جان سکیں۔ اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھیں۔ آپ اخلاق کے کون سے معیار پہ کھڑے ہیں؟ گھریلو ملازماؤں کے ساتھ بڑھتے ہوئے بہیمانہ تشدد اسی کا شاخسانہ تو نہیں؟ جہاں چار سال کی بچی کے ساتھ ریپ ہوتا ہو، جہاں ماں اولاد کے ہاتھوں پٹتی ہو، جہاں سود کا بازار گرم ہو، جہاں سڑک پہ چلتے بہن بیٹی محفوظ نا ہو، جہاں محافظ ہی عزتیں لوٹنے کے در پہ ہوں، جہاں بنیادی انسانی حقوق مسخ ہوں، اسے ریاست مدینہ بننے کا کوئی حق نہیں۔
گزرے زمانوں کی بات ہے کہ کسی رعایا پر ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ لوگ اس کے مظالم خاموشی سے سہتے تھے۔ جب کسی گناہ گار کو سزا دینی ہوتی تو ایک بڑے پنڈال میں لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا۔ درمیان میں اس گناہ گار کو کھڑا کر کے اس پر بھوکے شیر کو چھوڑ دیا جاتا۔ وہ اپنی جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کرتا اور آخرکار بھوکے شیر کا نوالہ بن جاتا۔ لوگ اس خونخوار منظر کو دیکھتے، تالیاں پیٹتے اور محظوظ ہوتے۔ کہتے ہیں جیسی عوام ہو اس پر ویسے ہی حکمران طاری کر دیے جاتے ہیں۔ ایک انسانی جان کو بھوکے شیر کے آگے پھینکنا اور اسے محظوظ ہو کر دیکھنا، اخلاقیات کی کس منزل پر ہے، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
قصے کہانیوں سے نکل کر دیکھئیے تو حقیقت کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ہاں بس یہاں بھوکا شیر نہیں ہے۔ یہاں بھوکے آدم ہیں۔ جنہیں اگر کچھ نا ملے تو آدم ہی کی بوٹیاں نوچ لیتے ہیں۔
سچ پوچھئیے تو اخلاقیات کا ’الف‘ ہی ہم سے کھو گیا ہے تو باقی کہاں سے کھوجیں گے۔ یہ جو ’الف‘ ہے نا یہ بہت پیچیدہ ہے۔ کیونکہ اسی ’الف‘ سے اللہ ہے اور اسی سے انسان بھی۔ اسی ’الف‘ سے اخلاق اور اسی ’الف‘ سے انصاف بھی۔ اونچے منصبوں پر بیٹھنے والے یہ جان لیں کہ اس ’الف‘ سے اگر اقتدار ہے تو اسی ’الف‘ سے امانت بھی ہے۔ پر کیا کیجئیے اسی ’الف‘ سے انا بھی ہے اور اسی ’الف‘ سے انتقام بھی۔ کاش ہم ’الف‘ سے ایمان کو تھام لیں۔ کیونکہ آخر اس ’الف‘ سے اختتام بھی ہے جو ہر چیز کا مقدر ہے۔
لیکن یاد رکھئیے، اسی ’الف‘ سے ابتداء بھی ہے جو کہ یقیناً ان لوگوں کے لیے بہت دشوار ہے جو ’الف‘ کی انتہاؤں کو چھو چکے ہیں۔ ہمیں واپس آنا ہے۔ شروع سے شروع کرنا ہے۔ غلطی کہاں ہوئی، اسے کھوجنا ہے۔ اپنے گھر سے شروع کیجیئے۔ کیا آپ ’الف‘ کو ڈھونڈنے کے لیے تیار ہیں؟ الف ملے گا تو باقی معمہ بھی حل ہو جائے گا ورنہ اور الجھ جائے گا۔


