آرمی چیف کا کریک ڈاؤن اور ڈنڈا
آج کل ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہی لفظ کا چرچا ہے ”کریک ڈاؤن۔“ یہ کہیں چینی ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف، کہیں سمگلنگ کرنے والوں، کہیں بجلی چوروں، ٹیکس چوروں، حوالہ ہنڈی اور کہیں ڈالر ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ دو ہفتے قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پہلے کراچی پھر اگلے دن لاہور کے بڑے بزنس مینوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے ٹھیک دو دن بعد ملک بھر میں ہر قسم کے مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو گیا۔ اس کریک ڈاؤن کے باعث سب سے پہلے ڈالر چار دن میں 24 روپے نیچے آیا۔
واپڈا کا محکمہ پاکستان میں سب سے درویش محکمہ تصور کیا جاتا ہے جس کو جس کا دل چاہتا دل کھول کر لوٹتا ہے لیکن مجال ہے کوئی سوال پوچھے۔ جب جنرل عاصم منیر کا ڈنڈا چلا تو واپڈا، اے این ایف، نیوی، رینجرز، ایف سی، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن، پولیس سب خواب غفلت سے جاگ اٹھے ہیں۔ ہمارے ملک میں سب سے طاقتور مافیا ہیں جو پیٹرول، چینی، آٹا، گھی، ڈالر مافیا کی صورت میں قوم کی جیبوں پر ڈاکے مارتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ ان مافیاز کو لگام ڈالی جا رہی ہے۔ پہلی بار جنرل ضیاء الحق نے لگام ڈالی تو پاکستانیوں نے دس سال سکون کا سانس لیا۔ اب تین دہائیوں بعد جنرل عاصم منیر اس مافیاز کو لگام ڈال رہے ہیں۔ اس عرصے میں کئی آرمی چیف اور کئی وزیراعظم آئے لیکن کسی میں اس مافیا کو لگام ڈالنے کی جرات نہ ہوئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہی مافیا سیاسی جماعتوں کے فنانسر ہوتے ہیں انہی کے لوگوں مختلف حکومتوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ پھر جیسے ہی ان کی پسند کی جماعت اقتدار میں آتی ہے یہ آنکھیں بند کر کے قوم کے جیبوں پر حکومتی آشیرباد سے ڈاکے مارتے ہیں۔
غریب کا بچہ دو کلو آٹا چوری کرتے پکڑا جائے تو اسے چوک میں ہاتھ باندھ کر تھپڑ مارتے جاتے ہیں اگر کوئی مافیا کا سربراہ یا اس کا کارندہ کروڑوں اربوں کی چوری کرتے پکڑا جائے تو اس کی تصویر بھی نہیں نشر کی جاتی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کو بھی اسی غریب کے بچے کی طرح چوک میں ہاتھ باندھ کر تھپڑ مارے جائیں۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی مافیا عوام کی جیب پر ڈاکا مارنے سے قبل پچاس بار سوچے۔ اگر یہ مافیا پکڑے جاتے ہیں تو اگلے ہی دن جج ان کو ضمانت دے دیتے ہیں۔ اگر کوئی جج ضمانت نہ دے تو مافیا کا سربراہ بار کے کسی لیڈر کو اپنا وکیل مقرر کرتا ہے پھر وہی وکیل اپنے ساتھی وکلاء کا گروہ لے کر جج کی عدالت میں پہنچ جاتا ہے اس کی کرسی کا گھیراؤ کر کے زبردستی مافیا کو ضمانت دلواتا ہے۔ ضمانت نہیں ملتی تو غریب کے بچے کو نہیں ملتی جس نے غربت کے باعث دو کلو آٹا چوری کر لیا۔
جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو ملکی معیشت کے متعلق انتہائی سنجیدگی سے جاندار اور حقیقت پر مبنی اقدامات کر رہے ہیں ان کے ساتھ جنرل ندیم انجم بھی زبردست کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے ادارے کے بغیر جنرل عاصم منیر اکیلے اتنے مافیاز کو پٹہ نہیں ڈال سکتے۔ پہلے آرمی چیفس اور ڈی جی آئی حکومتیں بنانے یا گرانے میں اپنی توانائی صرف کرتے تھے لیکن ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی جنرل ندیم حقیقی معنوں میں پاکستان کے لئے ہی کام کر رہے ہیں۔ دونوں جنرلز مکمل طور پر پروفیشنل ہیں ان کا کوئی ذاتی سٹیک نہیں نہ ہی یہ غیر جمہوری اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جنرل عاصم منیر سچے دل سے پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں جو کام سیاسی حکومتوں کے کرنے کے تھے وہ آج جنرل عاصم منیر کر رہے ہیں کیونکہ ان سیاستدانوں نے سیاسی مصلحتوں کے باعث یہ کام نہیں کیے۔ اللہ تعالی ان کی مدد فرمائے اور یہ جو بھی کام کریں وہ ملک کے مفاد کے لئے ہی ہو۔ ہم 76 سال سے دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگ مانگ کر تھک چکے ہیں ہماری چار نسلیں اسی چکر میں گزر گئی۔ اب پانچویں نسل شاید خود مختار اور باصلاحیت پاکستان میں سانس لے سکے گی۔


