جمہوریت سے لپٹی مافیاز (قسط اول)
انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر جدھر دیکھو وہ پابۂ زنجیر ہے۔ یہ جملہ روسو کی مشہور زمانہ کتاب ”معاہدہ عمرانی“ کا ہے۔ یہ کتاب 1762 ء میں فرانس میں شائع ہوئی اور ایک عرصے تک سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث کا موضوع رہی۔ بہر کیف، اس جملے کو پڑھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آج یعنی 21 ء ویں صدی میں بھی یہ جملہ کس قدر ”حقیقی“ اور ”واقعی“ ہے کہ آج کی صورتحال بھی 1762 ء کے فرانس اور یورپ سے زیادہ مختلف نہیں۔ انسان ہمیشہ سے ہی کسی نہ کسی صورت میں غلام رہا ہے، کچھ صدیوں پہلے تک ہم ”بادشاہت“ اور ”شہنشائیت“ کے غلام تھے، بعد ازاں ہماری غلامی کی نوعیت کچھ ”نو آبادیاتی“ ہو گئی۔ نو آبادیوں کے دور سے نکلے تو ”جمہوریت“ کی شکل میں ہمیں کچھ آرام ملا اور ہم کہہ سکے کہ اب ہم غلام نہیں رہے لیکن شاید قدرت کو ہمارا آرام پسند نہ آیا اور اب ہم ”کارپوریشنوں کے سامراج“ میں کہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ کارپوریشنوں کی مطلق العنانی ہم پر کیسے مسلط ہوئی ہے؟ تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ یہ سارا کیا دھرا ”امریکہ بہادر“ کا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ جب جنگ عظیم اول کے بعد دنیا کی ”امامت“ کا سہرا سلطنت برطانیہ کے سر سے اٹھ کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سر آیا، تو امریکی سرمایہ داری نظام نے پوری دنیا کو سوائے ”سویت بلاک“ کے اپنی گرفت میں لے لیا اور یوں ایک نئے عہد یعنی ”کارپوریشنوں کی نوآبادیاتی“ کا آغاز ہوا۔ اس کی جڑیں سویت یونین کے انہدام اور ”سرد جنگ“ کے خاتمے سے اور مضبوط ہو گئیں کیونکہ ”سویت، امریکہ بلاک پالیٹکس“ کا دور ختم ہو گیا تھا اور امریکہ ”اونلی سپر پاور آن ارتھ“ کی حیثیت سے ”بد معاش ریاست“ کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اسی بد معاشی کے پیش نظر کارپوریشنوں اور ملٹی نیشنلز نے دنیا کے تقریباً ہر ملک میں اپنے پاؤں جما لیے تھے۔ یہ نو آبادی ہم پر کیوں مسلط ہوئی؟ اس کی تفصیل آپ ڈیوڈ کورٹن کی معروف کتاب ”دنیا پر کارپوریشنوں کی حکمرانی“ اور جان پرکنز کی شہرہ آفاق کتاب ”اقتصادی غارت گر کے اعترافات“ میں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اس سوال کا جواب ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے اور اسی غرض سے اسے یہاں موضوعِ بحث نہیں بنایا گیا ہے۔ اس مضمون کا اصل موضوع امریکی جمہوریت کو کھنگالنا ہے۔
بہرحال، ایک پاکستانی دانشور نجی چینل کے پروگرام میں فرما رہے تھے کہ ”ہم مسلمانوں کو شرم سے ڈوب مر جانا چاہیے کہ کسی بھی مسلمان ملک میں جمہوریت نہیں ہے، کہیں بادشاہت ہے تو کہیں آمریت“ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یورپی ممالک اور خاص طور پر امریکہ کے سیاسی نظام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ”یہ ممالک حقیقتاً مہذب اور جمہوری ممالک ہیں“ ۔ میں ان کے منہ سے یہ کلمات سن کر ششدر رہ گیا کہ یہ صاحب جو اپنے آپ کو بہت ہی حقیقت پسند اور روشن خیال باور کرواتے ہیں اور دوسروں کو بھی حقیقت پسندی کی تلقین کرتے ہیں خود ان ممالک کے حوالے سے اتنی بڑی غلط فہمی کا شکار کیسے ہوسکتے ہیں؟ میں ان کے مطابق ایک صحیح گمان ہی رکھتا ہوں اور ان کی اس غلطی کو محض ”کم علمی“ ہی تصور کرتا ہوں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بیشک ایک بہت بڑی عسکری، معاشی اور سیاسی طاقت ہے اور پورے عالم میں امریکہ کی بنائی ہوئی (یہاں میری مراد ان تھنک ٹینک اور ذرائع ابلاغ کے اداروں سے ہے جو امریکی حکومت کے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں ) پالیسیوں کی ہی فرمانبرداری کی جاتی ہے۔ لیکن کیا امریکہ میں حقیقی آزادی اور جمہوریت ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا ہر حقیقت پسند شخص جواب نفی میں ہی دے گا اور یہی کہے گا کہ امریکی جمہوریت اور آزادی کا حال اس شعر کے مصداق ہے،
چہرہ روشن ’اندروں چنگیز سے تاریک تر
امریکی جمہوریت کا حال کچھ یوں ہے کہ صدارتی انتخابات کے امید وار مافیاز کے سربراہوں، بڑی بڑی کارپوریشنز، بینکرز اور سرمایہ داروں کی خوشنودی کے پیش نظر ہی کامیاب ہوتے ہیں اور انہی کے ”وفادار“ ہوتے ہیں۔ یہ حال صرف امریکہ کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک جو ”جمہوری“ ہیں وہ دراصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سرمایہ داروں اور مافیاز کی ”فردوس بر زمین“ ہیں۔ (ظاہر سی بات ہے اگر آپ کو کسی بھی ملک میں انتخابات میں حصہ لینے کے لئے لاکھوں ڈالرز درکار ہوں گے تو کوئی مڈل کلاس شخص کیسے ہی اپنے ”جمہوری حق“ کو استعمال کرتے ہوئے اقتدار کی سیڑھیاں چل سکے گا) ۔ ہم پاکستانی تو ان مافیاز سے بخوبی واقف ہیں اور آئے دن اس ملک کے سیاستدانوں اور دانشوروں کی زبان سے اسٹیبلشمنٹ کا لفظ بارہا دفعہ سنتے ہی رہتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہماری تو پوری تاریخ ہی ”اسٹیبلشمنٹ“ کو محور بنا کر اس کے گرد گھومتی ہے۔ (جاری ہے )


