عمیر نجمی: جدید اُردو غزل کا مصور شاعر


اکیسویں صدی اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ شاعر میسر آ رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے اردو غزل کا بانکپن مضمحل ہونے کی بجائے مزید نکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے سوشل میڈیا نے اردو غزل کو مزید وسعت دی ہے۔ شاعر پہلے غزل کہتا تھا۔ دوست احباب کو سُناتا تھا۔ اس کے بعد بھول بھال جاتا تھا۔ زیادہ تعریف و تحسین کی خواہش ہوئی تو حوصلہ کر کے کسی ادبی رسالے میں بھیج دیتا تھا۔ چھے ماہ بعد مدیر کو رحم آیا تو شائع کردی۔ اب یہ شاعر صاحب رسالہ اُٹھائے سب کو دکھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو میری غزل ”شب خون، ادبِ لطیف، فنون، نیرنگِ خیال ادبی دُنیا، اوراق“ میں چھپی ہے۔

یہ ایک دور تھا جو اب گزر چکا۔ مدیران کے ناز نخرے اور منت و مبالغہ کا رواج ختم ہوا۔ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ ادھر غزل مکمل کی اور اُدھر فیس بک پر ڈال دی۔ دس منٹ میں سیکڑوں قاری مل گئے اور ان کے کمنٹ یعنی تحسینی و تنقیدی رائے بھی سامنے آ گئی۔ اب تو بھیا! زمانہ ایسا ہے کہ غزل کہنے میں وقت لگتا ہے۔ اس کی تشہیر میں چند سیکنڈ لگتے ہیں۔ شعرا کو اس تشہیر آسانی نے خراب بھی کیا ہے اور مشہور و بدنام بھی۔ اب شاعر کو کو اِس کی مرضی کی پیش کی ہوئی شاعری کے مطابق سننا اور پڑھنا پڑتا ہے۔

شعرا پہلے مجموعہ چھپواتے تھے۔ مارکیٹ میں کتاب آتی تھی۔ ناقد اس پر تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ شاعر کی شاعرانہ جہت کا تعین ہوتا تھا۔ اس کی شعری حسیت کے فنی پہلوؤں کو دیکھا جاتا تھا۔ شاعر کے اچھا، عمدہ، بڑا، سطحی اور بلند آہنگ ہونے کا معیار طے کیا جاتا تھا۔ اب بات ہی پلٹ گئی ہے۔ شاعر خود اپنے کلام کا انتخاب کرتا ہے۔ پھر اسے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کے ذرائع پر ڈال دیتا ہے۔ اس کے اپنے قاری اور اپنے ناقد ہیں۔ گویا ایک خریدی ہوئی برقی بزم گاہ ہے جہاں اجنبی اور ناآشنا کی تحسین و تنقیص کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاتا۔ لائکس کرنے، کمنٹ دینے اور عوامی رائے کو پیج پر ظاہر کرنے نہ کرنے کا پورا اختیار شاعر کے پاس ہے۔

اس حقیقت کے برعکس ایک قلیل شعرا کی تعداد ایسی بھی ہے جو اس خودساختہ تحسینی روایت اور خوشامدی فضا سے خود کو الگ رکھتے ہوئے جو کہا اُسے بعینہ پیش کر دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ داد و تحسین اور تنقیص و تنقید سے ماورا ہو کر شاعری کو شعری احساس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان شعرا میں عمیر نجمی، تہذیب حافی، علی زریون، صوفیہ بیدار، عدنان بیگ، رحمن فارس، سعدیہ بشیر، حماد نیازی، مبشر سعید، عمار عزیز، فریحہ نقوی، صائمہ آفتاب، عمیر مشتاق، صباحت عروج، اکرام عارفی، شکیل جاذب، حسنین سحر، فیضان ہاشمی اور شوکت فہمی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

عمیر نجمی کی غزل اپنے اندر ایک عجیب طرح کی مانوس فضا لیے ہوئے ہے۔ عمیر نے شاعری کو جذبات کے اظہار کے ساتھ شخصیت کی پرکھ کا سانچہ بھی بنایا ہے۔ ان کی غزل میں ایک مانوس سی اُداس فضا حیرتوں میں لپٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

عمیر نے محبت کو غزل کا بنیادی موضوع بنایا ہے۔ عمیر نے تصورِ محبت کے اس کلاسیکی موضوع کو اپنے زمانے کی تمام تر ضمنیات کے ساتھ اس طرح مدغم کیا ہے کہ آفاق کی سچائی کا نور اس سے روشنی مستعار لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے حصے کی بات کرنا اور اپنے حق کے لیے لڑ مڑ جانے کا تصور اُردو غزل میں برسوں پہلے موجود ہے تاہم عمیر نے اسے شعری سانچہ فراہم کر کے عہدِ حاضر کی عالمگیری کشمکش کو ایک بیانیہ عطا کیا ہے جس میں جملہ اسباب و عوامل کی سرجری کی جا سکتی ہے۔

؎ میں برش چھوڑ چکا آخری تصویر کے بعد /مجھ سے کچھ بن نہیں پایا تری تصویر کے بعد
؎ تم پہ کیا خاک اثر ہو گا مرے شعروں کا/تم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا
؎ کسی گلی میں کرائے پہ گھر لیا اُس نے /پھر اُس گلی میں گھروں کے کرائے بڑھنے لگے

عمیر کے ہاں روایت سے استفادہ کا رجحان ملتا ہے۔ عمیر کی غزل تہذیب حافی، علی زریون، فیضان ہاشمی اور اکرام عارفی سے بالکل جدا ہے۔ عمیر کے ہاں الفاظ سے احساس کی تشکیل کا عمل سلجھا اور سنجیدہ ہے۔ ان کے ہاں تجربات کو شعری قالب میں ڈھالنے کی ریاضت منجھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ شاعری میں عمر صرف کرنے کا ارادہ رکھنے والا شاعر عمیر نجمی شاعری کو کسی طور اپنے آپ سے جدا کر کے نہیں دیکھتا۔ بطور نمونہ اشعار ملاحظہ کیجئے :

؎ نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ /اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
؎ خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں /جو کٹ گیا اس شجر کا شجرہ نکالنا ہے

عمیر کے ہاں محبت اس کا ذاتی مسئلہ ہے جسے کائناتی وسعت حاصل ہے۔ عمیر کے ہاں محبت کے بعد احساس کی شدت کا تعین ایک بڑا غم ہے جس میں اس کی شعری حسیت نے گھائل ہو ہو کر لذت کی اذیت کو محسوس کیا ہے۔ عمیر نے جنوں کی جنونیت کو جینیاتی مسئلہ قرار دیا ہے جو میرؔ، ناسخؔ، آتشؔ، غالبؔ اور بعد کے شعرا کے ہاں برابر دکھائی دیتا ہے۔

؎ مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہے /میں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہے
؎ پرندے قید ہیں تم چہچہاہٹ چاہتے ہو /تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے
؎ ہمیں تھوڑا جنوں درکار ہے تھوڑا سکوں بھی /ہماری نسل میں اک جینیاتی مسئلہ ہے

عمیر کی غزل گوئی بلاشبہ اپنے عہد کی ترجمان ہے۔ اس کی غزل کا رنگ تیکھا، شوخ اور چلبلا ہے۔ اس کی غزل میں داخلیت اور خارجیت کا عنصر توازن کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ عمیر کے بعض مطالع بہت ہلکے اور سُبک ہیں۔ غزل کے اشعار مطالع کے موضوع کا تسلسل بن جاتے ہیں جس پر عمیر کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عمیر غزل کہتے ہوئے غزلیہ آہنگ کی ترسیل میں ریاضت نہیں کرتے بلکہ عجلت پسندی کا شکار ہو کر بہک جاتے ہیں جس سے شعر میں بھرتی کا عنصر لاشعوری طور پر در آتا ہے جو پڑھنے والے پر عمیر کی شعری حسیت کا تاثر اُس طرح دیر پا نہیں چھوڑتا جس کی خواہش کی جا سکتی ہے۔ بطور نمونہ یہ اشعار دیکھیں :

؎ مجھ پہ اک ہجر مسلط ہے ہمیشہ کے لئے /ایسا جن ہے کہ کوئی پیر نہیں کھینچ سکا

؎ جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا /یہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گا

؎ سنا ہوا ہے جہاں میں بے کار کچھ نہیں ہے سو جی رہے ہیں /بنا ہوا ہے یقیں کہ اس رائیگانی سے کچھ اہم بنے گا

عمیر کا تخلیقی سفر جاری ہے۔ عمیر نجمی نے ہمت کر کے پہلا شعری مجموعہ ایک کے نام سے شائع کروا لیا ہے۔ جسے حلقہ احباب اردو کی طرف سے بہت سراہا گیا ہے۔ شاعر کا بڑا کمال یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے بعینہ اُسے شعری مجموعے کی شکل میں سامنے لے آتا ہے تاکہ اس کی شاعری کا فکری و فنی جائزہ لے کر اس کی شعری حسیت اور فہمِ شعر گوئی کا تعین کیا جا سکے۔

عمیر نجمی اکیسویں صدی کا ایک جانا پہچانا شاعر ہے۔ عمیر نجمی کے ہاں جدت، ندرت اور تازگیِ مضامین کا ایک خزینہ موجود ہے۔ عمیر نجمی پر واجب ہے کہ محنت، ریاضت اور جہدِ تسلسل کو عشق کی طرح خود پر طاری کر لے تاکہ اس کے اندر کی ممکنہ تمام سچائیاں غزل کے کینوس میں ڈھل سکیں۔

عمیر نجمی کے یہ اشعار عہدِ حاضر کے جملہ افکار کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں عمیر کے فن کی پختگی اور غزل فہمی کا ادراک واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

؎ بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں /لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
؎ جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئے /ایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے
؎ کہانیوں کے وہ کردار جو لکھے نہ گئے /خبر سے حذف شدہ واقعات ہیں ہم لوگ
؎ شروع دن سے گھر میں سن رہا تھا اس لئے /سکوت میری مادری زبان بن گیا
؎ ہمارا ملبہ ہمارے قدموں میں آ گرا ہے /پلیٹ میں جیسے موم بتی پگھل گئی ہو
؎ اُس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میں /جس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے

Facebook Comments HS