کالج ایجوکیشن کی خراب صورتحال
الیکشن کمیشن نے کرپشن، صاف شفاف انتخابات اور سندھ حکومت کا حکومتی اداروں پر اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے تمام محکموں کے سربراہوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ کردی ہے۔ اداروں کا دعویٰ ہے کہ اب ہم سندھ حکومت کا سسٹم ختم کردے گے لیکن شاید بہت سوں کو معلوم نہ ہوں کہ حکومت کے تمام محکموں کے سربراہ تبدیل ہوچکے ہیں ماسوائے کالج ایجوکیشن کے۔
جہاں تک ہماری معلومات ہے نہ کالج ایجوکیشن کے سیکریٹری تبدیل ہوئے نہ ریجنل ڈائریکٹر نہ ڈائریکٹر جنرل سندھ کالجز۔ ہم دن رات اسکولوں کی کرپشن، لوٹ مار کی داستان سنتے ہیں کالج ایجوکیشن کی کہانیاں کیوں نہیں سنتے؟ محکمہ صحت کی کہانیاں بھی منظر عام پر آجاتی ہے دوسرے محکموں کے بھی بھانڈے پھوٹ جاتے ہیں۔ جامعات خبروں کی زینت بنی رہتی ہے، خبر نہیں ملتی تو بس کالج سائیڈ کی، اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا کالجز میں سارے حاجی نمازی، نیکوں کار ہیں؟ کیا کالجز کی کارگردگی 99 فیصد نہیں تو 80 فیصد ہے؟ کیا کالجز میں کرپشن نہیں ہے گریڈ 1 سے لے کر 18 تک سیاسی بھرتیاں نہیں ہیں، خواتین کے ساتھ ہراسانی اور ان کے لیے گندا پروپیگنڈا کرنا نہیں ہے؟ افسوس کے ساتھ یہ سب کچھ ہے۔
اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ڈائی ہارڈ کارکن جو کچھ پڑھے لکھے تھے یعنی روتے پیٹتے، نقل اصل سب کچھ ملا کر 16 جماعتیں پاس کرلی تھیں ان سب کو 90 کی دہائی سے کالج ایجوکیشن میں بھرتی کیا گیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، کیونکہ کالج کا لیکچرار سیدھا گریڈ 17 پر بھرتی ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے جبکہ اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ گریڈ 16 پر بھرتی ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ اس لیے احسانوں کے بوجھ تلے اساتذہ جو کہ استاد کم اور سیاسی کارکن زیادہ ہے، اس نے 90 کی دہائی سے تباہی مچانا شروع کی اور اللہ کے فضل سے 33 سال میں کالج سے شروع ہو کر سارے اداروں کو کھا گیا اور ڈکار بھی نہیں لی۔ اب سوال یہ ہے کہ کالج اساتذہ پکڑے کیوں نہیں جاتے؟ بھئی کیسے پکڑے جائیں گریڈ 17 کا افسر جو ہے بلکہ یہ افسر سالوں کی گنتی پر گریڈ 20 میں بھی ہے، بھلے ہی اس کے مضمون کا ایک بچہ بھی امتحان میں پاس نہ ہوا ہوں، وہ اس استاد کی ذمہ داری تھوڑی ہے کیونکہ وہ افسر ہے اس کا کام صرف حکومتی کھاتوں کو بھرنا اور اپنی اپنی سیاسی جماعت کے بندوں کو نوکریاں دلوانا اور پروموشن کروانا کیونکہ جس جماعت کے لوگ زیادہ ہوں گے اتنا ہی اس جماعت کا ہولڈ رہے گا چاہے وہ حکومت میں ہوں یا نہیں ہوں۔ اسی فارمولے کے تحت اسکولوں کے اساتذہ، کلرک ایڈمنسٹریشن کے لوگ سب اندر ہوتے ہیں ماسوائے کالج اساتذہ کے۔
اسی طرح ایک اور حکومتی ملازمین کی قسم ہے اور وہ ہے سیکشن افسران جس کو حکومت کبھی اندر نہیں جانے دیتی، سیکریٹری اندر ہو جائے گا ایڈیشنل بھی جیل کی ہوا کھا کر آ جائے گا، ڈپٹی پر بھی مصیبت آ سکتی ہے اور اسے بھی ٹرانسفر پوسٹنگ بھگتنی پڑتی ہے لیکن سیکشن افسر نام کی ہستی پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ جبکہ نئے کھاتے بنانا، نئے گریڈ 0 سے 17 تک بھرتی کرانا پرانوں کو اوپر لانا ان کی فائلوں کی ہر بری بات نیچے دبانا بوڑھے ریٹائرڈ ملازمین کی عمر کم لکھوانا، فنڈز کی تقسیم در تقسیم سمجھے سب کچھ کھا کر ہضم کرانا اسی ہستی کی ذمہ داری ہوتی ہے جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پیٹھ تھپتھپا کر کھانا ہضم کراتی ہے ایسے ہی یہ سارے فرائض یہ افسر انجام دیتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل موضوع پر یعنی کالج ایجوکیشن پر، الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود کالج ایجوکیشن میں پروموشن لسٹ بن رہی ہے اور پروموشن ہو رہی ہے۔ جو ہمارے سامنے کی بھرتیاں تھی جنھوں نے بورڈ کلیئر نہیں کیا لیکن انھیں پھر بھی بھرتی کیا گیا، چلیے یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزگار دے تو اس کے تحت ان کو روزگار دے دیا لیکن کس قانون کے تحت ان کو ترقیاں بھی دی جا رہی ہیں؟ کالج ایجوکیشن میں ٹیسٹ پر اتنا زور ہے کہ اب تو چپڑاسی بھی آنکھیں نکال کے کہتا ہے ٹیسٹ دے کر آیا ہوں اور میری بیوی بھی ٹیسٹ دے کر ملازم لگی گئی ہے اب انسان کتنوں کو بولے اور کس کس سے لڑے کیونکہ یہاں تو لوگ اپنی آدھی روٹی کے لیے سامنے والے کی جان لے لیتے ہیں۔
ان حالات میں، بدعنوانی کلچر اور 33 سال کے جرائم کو ختم کرنے کے لیے ادارے متحرک ہوں گئے ہیں تو برائے مہربانی سب سے پہلے بدعنوانی کالج کے محکمے سے ختم کریں کیونکہ پورے سندھ کے محکموں میں کارروائیاں ہو رہی ہے لیکن کالج کے اساتذہ اور ان کا اسٹاف آج بھی سکون سے اپنی پروموشن، نئی بھرتی سب لے رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کا کام بند نہیں ہو رہا ہے۔ جب تک استاد کے نام پر یہ تعلیم دشمن کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اس قوم کے بچے پڑھ لکھ نہیں سکتے۔ کالج وہ درسگاہ ہے جو بچے کے مستقبل کا تعین کرتا ہے کہ بچے نے اعلیٰ تعلیم کے کس شعبے کا رخ کرنا ہے یا اس نے کوئی ہنر سیکھنا ہے۔ پوری دنیا میں دسویں تک تعلیم ہر بچے کے لیے لازمی ہے اور کالج کی تعلیم اس کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ یہ 90 کی دہائی کی بھرتیاں اور کالج ایجوکیشن کے سیکشن افسر قوم کے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔


