تصور میں بستی ہے اک یاد


اگر آپ میرے ہم عمر ہیں مطلب کے زندگی کی چالیس سے زیادہ بہاریں دیکھ چکے ہیں تو پھر آپ اس نسل ہیں جس کو یہ معلوم ہے کہ اسٹیشن پر ریل کی سیٹی سے آنکھوں میں نمی یا پھر ہونٹوں پر خوشی کیسے آتی ہے، اسی طرح تار جب بھی کسی گاؤں میں پہنچتا تھا تو پورا گاؤں ہمہ تن گوش ہو جاتا تھا کہ تار ہمیشہ انتہائی اہمیت کی خبر کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ شہروں میں اکا دکا گھروں میں ٹیلی فون ہوتے تھے جن پر پورے محلے کے ٹیلی فون آیا کرتے تھے اور ہر گھر کے لیے وقت کو اس طرز پر ترتیب دینا ہوتا تھا کہ تمام گھر والے اپنے اپنے پیاروں سے بات کر سکیں اور ٹیلی فون کے ملکان خاص طور پر اس گھر کے بچے اس مینجمنٹ میں طاق ہوتے تھے بالکل اس طرز پر جیسے ایکسچینج والے ٹرنک کال ملا کر دینے میں ماہر ہوتے تھے۔ تین نمبروں سے شروع ہونے والا فون آج سات ہندسوں پر مشتمل موبائل نمبر بن چکا ہے اور تقریباً ہر گھر بلکہ ہر فرد کی جیب میں موجود ہے۔ لیکن ان تمام میں جو اہمیت تھی جو عموماً استعمال ہوتا تھا وہ تھا خط۔ اردو ادب میں خط یا چٹھی کا جتنا ذکر ہے شاید ہی کسی اور سروس کا ہو۔ سوگ ہے خط لکھا گیا، خوشی ہے خط میں ذکر ہے۔ افسانوں ناولوں اور فلموں میں ادھارے خطوط، خوشبو میں لپٹے خطوط، آنسوؤں سے بھیگے خطوط حتیٰ کہ خون سے لکھے ہوئے خطوط کا بھی ذکر ہوتا تھا۔

پنکج ادھاس کی غزل ”چٹھی آئی ہے آئی ہے چٹھی آئی ہے“ نہ صرف گانے والے نے روتے ہوئے گائی بلکہ سنے والے آج بھی اپنوں سے دور بیٹھ کر جب بھی سنتے ہیں رو پڑتے ہیں۔ یہ ہی نہیں اظہار محبت کے لیے بھی خط کا سہارا لیا جاتا تھا جوانی کا بہت مشہور گانا تھا

جب نہ مانا دل دیوانہ
قلم اٹھا کہ جان جاناں
خط میں نے تیرے نام لکھا
حال دل دل تمام لکھا۔

جوانی سے اک اور بات یاد آئی گئی یہ جو آج کل واٹس ایپ پر رابطے ہوتے ہیں یہ اینڈ ٹو اینڈ انکریپٹد ہوتے ہیں کہ کوئی اور ان کو نہ پڑھ لے۔ کتنی سہولت حاصل ہو گئی ہے آج کی جوان نسل کو۔ اک ہماری جوانی کے دن تھے کہ پہلے تو خط لکھنے کے لیے جگہ ہی نہیں ملتی تھی کہ دو چار دوست بیٹھیں اور سب اپنے اپنے تجربہ کے مطابق محبت نامہ (خط) لکھنے میں مدد دیں اور اس کے بعد قاصد ( ڈاکیا) کی تلاش کہ جو محبوب کو خط پہنچا سکے اگرچہ اس کی بلیک میلنگ بہت ہوتی تھی۔ سب سے زیادہ مسئلہ اس وقت ہوتا تھا جب وہ خط پکڑا جا تا تھا یا محبوب کی طرف سے پیش کر دیا جاتا تھا۔ گلی محلے میں بہت دن یہ بریکنگ نیوز ہوتی تھی کہ فلاں کا خط پکڑا گیا ہے اور یہ آج کے دور کی وڈیو لیک ہونے کے برابر تھا۔ وفات کی اطلاع کے لیے بیرنگ لفافے کا کنارہ پھاڑ دیا جاتا تھا جس سے ڈاکیا بھی سمجھ جاتا کہ یہ خط مرگ کی اطلاع کے لیے ہے اگرچہ یہ ریت اس طرز کی تھی جس طرز پر ٹرک والے دائیں طرف کا اشارہ لگا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ تو نکل جا ساڈی (ہماری) خیر اے۔

خط کے ساتھ ساتھ ڈاکیے کی اپنی اک اہمیت تھی، ڈاکیا سائیکل پر ڈاک تقسیم کیا کرتا تھا اور اس کی سائیکل کی مخصوص گھنٹی لوگ پہچانتے تھے جس کی آواز سن کر لوگ اپنے پیاروں سے آدھی ملاقات کی آس میں دروازے پر آن کھڑے ہوتے۔ ڈاکیا گاؤں کے تقریباً ہر گھر کا راز دار بھی ہوتا تھا کہ خط پڑھ کر بھی اس نے دینا ہوتا تھا اور جواب بھی وہ ہی لکھ کر دیتا تھا اس لیے اس کی اپنی اک الگ اہمیت تھی آج کی زبان میں اس کا اپنا اک سویگ تھا۔ یہ سارے باتیں اپنی جگہ لیکن میں کیوں آج محکمہ ڈاک کی یاد میں تڑپ اٹھا ہوں!

وجہ یہ ہے کہ آج اپنے شہر کی اک شاہراہ پر اجڑی حالت میں سرخ رنگ کا وہ ڈبہ لگا دیکھا ہے جس کو ہم لیٹر بکس کہتے تھے جو کسی دور میں مقررہ وقت پر پورے شان و شوکت سے کھولا جاتا تھا اور لوگوں کے دکھ سکھ اور محبت نامے وہاں سے نکال کر لوگوں تک پہنچائے جاتے تھے۔ اب نہ وہ زمانہ رہا اور نہ الفاظ کا وہ چنوا کہ جس سے ہماری بات کے ساتھ ساتھ ہمارے جذبات بھی پڑھنے والے تک پہنچ سکیں، اس مشینی دور نہ جہاں بہت سے سہولتیں مہیا کی ہیں وہاں ہم سے الفاظ بھی چھین لیے ہیں اب ہم اپنے جذبات کا اظہار الفاظ سے نہیں ایموجی سے کرتے ہیں تو پھر آپ ہی بتائیں کہ میں نوسٹالجیا کا شکار نہ ہوں تو کیا کروں

Facebook Comments HS