جلتی ہوئی بریکنگ نیوز اور 110 منزلہ قبرستان کی کہانی

رضی الدین رضی کی یاد نگاری
یہ 110 منزلہ قبرستان کا منظر تھا، قبرستان کی ہر منزل میں زندہ لوگ تھے جنہیں کچھ دیر بعد نعشوں میں تبدیل ہونا تھا۔ یہ لوگ بے بسی کے عالم میں کھڑکیوں سے جھانکتے تھے اور کھڑکیوں کے نیچے آگ تھی۔ وہ آگ سے بچنے کے لئے کھڑکیوں سے چھلانگ لگاتے تھے اور زمین سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے تھے۔ گویا آگ سے بچنے والوں کو بھی موت سے کوئی نہ بچا سکا۔ امریکہ نے دنیا بھر میں نفرت کی جو آگ بھڑکائی تھی وہ آگ خود اس کو لپیٹ میں لے چکی تھی۔ عالمی تجارتی مرکز میں پہلی بار موت کا کاروبار جاری تھا اور ہم ہزاروں میل دور ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ کریہ جلتی ہوئی بریکنگ نیوز دیکھ رہے تھے اور اس کی تپش بھی محسوس کر رہے تھے۔ ہمارے سامنے ایک کے بعد دوسرا طیارہ آتا تھا اور 110 منزلوں پر مشتمل ایک اور قبرستان کی بنیاد رکھ کر خود بھی اس کا حصہ بن جاتا تھا۔ امریکی سڑکوں پر بھاگتے تھے آگ تھی خون تھا، گرد و غبار تھا اور دھواں تھا۔ انہوں نے آج تک یہ سب کچھ ہالی ووڈ کی فلموں میں ہی دیکھا تھا لیکن ہمارے لئے تو اس میں کچھ بھی انہونا نہیں تھا۔ ہم یہ نعشیں بغداد میں بھی دیکھ چکے تھے، کشمیر میں بھی اور فلسطین میں بھی۔ آتش و آہن کا یہ کھیل جب عراق میں جاری تھا تو اس وقت بھی سی این این کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی تھیں لیکن اس وقت اس کے نیوز کاسٹرز اور مبصرین کے چہروں پر فتح رقم تھی۔ اس وقت بھی سکرین پر جہاز نمودار ہوتے تھے لیکن وہ اپنے ٹارگٹ کا نشانہ بنا کر عجلت میں واپس چلے جاتے تھے۔ یہ جہاز توہم نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ جس کے پائلٹ کو معلوم تھا کہ اس نے ہدف کو بھی نشانہ بنانا ہے اور واپس بھی نہیں جانا، پائلٹ جانتا تھا کہ اس نے 110 منزلہ قبرستان میں خود ہی دفن نہیں ہونا بلکہ امریکی غرور اور تکبر کو بھی اپنے ساتھ منوں مٹی تلے دفن کر دینا ہے۔ امریکی غرور تو دفن ہو گیا لیکن اس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ لوگ بھی مارے گئے۔ وہ لوگ جو دہشت گردوں کی اس لڑائی میں شریک نہیں تھے وہ جو اپنے گھروں سے معمول کے مطابق اپنے دفتروں کو گئے تھے یا وہ لوگ جو اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے طیاروں میں سوار ہوئے تھے اور طیارے اغوا کر لئے گئے تھے ان میں امریکی بھی تھے، برطانوی بھی تھے، عرب بھی تھے اور پاکستانی بھی۔ اور ہم لوگ جو ٹی وی سیٹوں کے سامنے بیٹھے امریکہ مردہ باد کے خواب کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ رہے تھے اس بات سے لاتعلق تھے کہ مرنے والے صرف عیسائی یا یہودی نہیں انسان بھی ہیں خون انسان کا بہہ رہا تھا اور خون کا رنگ تو ایک ہی ہوتا ہے۔
میں نے 11 ستمبر 2001 ءکو یہ سارا منظر روزنامہ نوائے وقت ملتان کے نیوز روم میں دیکھ رہا تھا۔ نیوز روم میں ایک کیبن تھا جو ٹی وی مانیٹرنگ کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کیبن میں عموماً اقبال ہراج صاحب کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ وہ ٹی وی کی خبریں اسی کیبن سے بنا کر باہر بھیجتے رہتے تھے اور ڈیسک پر میں یا راؤ وسیم اصغر ان کی سرخیاں بنا کر عاشق صاحب کے حوالے کر دیتے تھے۔ یہ کوئی شام پانچ سے چھے بجے کا وقت تھا جب اقبال ہراج نے بتایا کہ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ایک طیارہ ٹکرا گیا ہے۔ میں نے خبر کو نظر انداز کر دیا اور ”کوئی بات نہیں“ کہہ کر دوبارہ کام میں مگن ہو گیا۔ میرے بائیں جانب نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ ٹیلی فون پر بات کر رہے تھے۔ اسی دوران کیبن سے ہراج صاحب کی زور دار آواز آئی ”ایک اور طیارہ“ ۔ اس آواز نے ہم سب کو بھی ٹی وی کی جانب متوجہ کر دیا۔ عاشق صاحب ٹیلی فون چھوڑ کر تیزی سے کیبن میں پہنچ گئے اور پھر چند ہی لمحوں کے بعد کیبن سے عاشق صاحب کی آواز آئی ”لو جی ہیٹ ٹرک ہو گئی اے“ ۔ یعنی تیسرا طیارہ بھی ٹریڈ سنٹر میں جا گھسا تھا۔ پھر نیوز روم میں وہی ماحول پیدا ہو گیا جو ایسی خبروں پر نیوز روم کا معمول ہوتا ہے۔ یوں لگتا تھا کہ طیارہ ٹریڈ سنٹر کی بجائے نیوز روم پر آن گرا ہے۔ اس کے بعد ہراج صاحب کی جگہ مجھے ٹی وی کے سامنے بٹھا دیا گیا کہ اب وہاں کسی سینئر کی ضرورت تھی اور اب ایک ایک لمحے کی خبر تیزی سے بنا کر کمپیوٹر سیکشن کے حوالے کرنا تھی۔ اسی دوران پینٹاگون پربھی ایک طیارہ آن گرا اور پھر نوائے وقت کے نیوز روم میں فتح کے شادیانے بجنے لگے اور کیوں نہ بجتے کہ اسلام کا بول بالا جو ہو رہا تھا۔ سب اس بات سے بے خبر تھے کہ اس واقعہ کے نتائج کیا ہوں گے۔ ان کے لیے ایک بات ہی اہم تھی کہ امریکہ آگ میں جل رہا ہے۔ ہم رات گئے تک تیزی سے خبریں بناتے رہے۔ اخبار کا ہر صفحہ انہی خبروں سے بھر دیا گیا۔ مقامی خبروں اور پریس ریلیزوں کی تو اس روز کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ پریس ریلیز مافیا نے حسب معمول ان حملوں کی شان میں بیانات بھی ارسال کیے لیکن اس روز صرف امریکی ردعمل اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ امریکی صدر جارج بش جونیئر نے اس حملے کو امریکہ پر حملہ قرار دے دیا اور الزام اسامہ پر آ گیا جو افغانستان میں روپوش تھا اور اس کی تلاش میں امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنا تھا۔ جلتے ہوئے ٹریڈ سنٹر اور منہدم ہوتی ہوئی عمارتوں کی دھول میں جو چہرے ہیرو کے طور پر سامنے آئے وہ ان آگ بجھانے والوں کے تھے جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر جلتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں داخل ہوئے اور پھر باہر نہ آ سکے۔ نو بجے کی ڈاک کاپی سے لے کر رات ڈیڑھ بجے کی لوکل کاپی تک کتنی مرتبہ اخبار میں رد و بدل ہوئی آج 22 برس بعد یہ تو یاد نہیں لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ اس واقعہ نے خود ہمیں بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میرے صحافتی کیریئر میں یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے کہ جس کی مثال نہ ماضی میں ملی اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔
نیوز روم سے فراغت کے بعد کسی چائے خانے پر بیٹھنا ہمارا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ ریلوے اسٹیشن چونکہ رات بھر آباد رہتا ہے اور خبروں کا مرکز ہوتا ہے۔ اس لیے صحافتی کیریئر کا بیشتر وقت ہم نے نیوز روم کے بعد ریلوے پلیٹ فارم کے ٹی سٹالوں پر گزارا۔ اس دوران کچھ ایسے ٹرین حادثات بھی ہوئے جن کی خبریں ہم نے اسٹیشن سے دفتر واپس جا کر ”سٹاپ پریس“ کے طور پر شائع کیں۔ خاص طور پر سانگی ریلوے اسٹیشن پر زکریا ایکسپریس کے حادثے کی خبر صرف نوائے وقت میں شائع ہوئی تھی اور یہ خبریں ہمیں ریلوے ٹی سٹال سے ملی تھی۔ مشرف کے دور میں یوں ہوا کہ مختلف محکمے فوجی افسروں کے حوالے کر دیے گئے۔ ایک کرنل صاحب ریلوے کے انچارج بنا دیے گئے۔ ریلوے میں بھی دیگر محکموں کی طرح کرپشن عام تھی۔ صحافیوں نے جب یہ کرپشن اخبارات میں شائع کی تو کرنل صاحب آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے ریلوے اسٹیشن پر صحافیوں کا داخلہ بالکل اسی طرح ممنوع قرار دے دیا جیسے آج کل نشتر ہسپتال میں ان کا داخلہ بن ہے۔ سو ہم نے بھی ریلوے اسٹیشن کی بجائے شہر کے دیگر علاقوں میں بیٹھنا شروع کر دیا۔ نشتر ہسپتال اور اس کے اردگرد کی سڑکوں پر واقع چائے خانے بھی صحافیوں میں ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں کہ نشتر ہسپتال بھی خبروں کا بہرحال مرکز ہوتا ہے۔ کسی حادثے یا پولیس مقابلے کے بعد سب سے پہلے ایمبولینسیں نشتر ہی پہنچتی ہیں۔ جب ریلوے اسٹیشن ہمارے لیے نو گو ایریا بن گیا ہم نے نشتر ہسپتال کے قرب و جوار میں پناہ ڈھونڈی۔ اس زمانے میں دوست میڈیکل کمپلیکس زیر تعمیر تھا اور جس جگہ سے اس کی سیڑھیاں اوپر کمپلیکس میں جاتی ہیں کم وبیش اسی جگہ چائے کا ایک کھوکھا تھا۔ یہ کھوکھا دراصل ان مزدوروں کی وجہ سے آباد تھا جو دن بھر اس کمپلیکس کا تعمیراتی کام کرتے تھے۔ 11 ستمبر 2001 ءکو نیوز روم سے دو بجے فراغت کے بعد ہم نشتر ہسپتال روڈ کے اسی کھوکھے پر پہنچ گئے۔ اصغر زیدی، محسن نواز اور الیاس دانش ان دنوں روزنامہ خبریں میں کام کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے وہ رات ہم نے اسی ہوٹل پراس انہونی خبر پر بحث کرتے گزاری تھی۔ یہ حملہ کس نے کیا، کیسے ہوا اور سپر پاور کی سکیورٹی کیسے ناکام ہو گئی ظاہر ہے اس رات کی بحث کا یہی موضوع تھا۔ اس واقعہ کے بعد بہت سے شبہات اور مفروضے زیربحث آئے۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ امریکہ نے یہ حملہ خود کیا تاکہ وہ افغانستان میں اڈے قائم کرسکے۔ کچھ لوگ آج بھی اس واقعے کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ کئی فلموں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ جس روز ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا اس دن اس تجارتی مرکز میں کام کرنے والے تمام یہودی چھٹی پر کیوں تھے۔ یہ قیاس آرائیاں غلط ہیں یا درست، یہ مفروضے کیوں پیدا ہوئے؟ کس نے انہیں پروان چڑھایا؟ یہ ہمارا موضوع نہیں۔ بعد کے دنوں میں اس واقعہ نے پاکستان کے مستقبل پر بہرحال دوررس اثرات مرتب کیے۔ حملے کے اگلے ہی روز پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔ 13 ستمبر کو امریکی وزیردفاع کولن پاؤل نے مطلوبہ تعاون اور مطالبات کی فہرست پاکستان کے حوالے کردی۔ 15 ستمبر کو پاکستان نے کابل سے اپنے سفارت کار واپس بلا لیے۔ 16 ستمبر کو طالبان سے اپیل کی گئی کہ اسامہ کو تین روز میں پاکستان کے حوالے کر دیا جائے۔ اور پھر افغانستان پر وہ حملہ شروع ہوا جو دو برس قبل 15 اگست 2021ء کو امریکہ کی عجلت میں واپسی پر منتج ہوا۔
اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ دہشت گردوں کی اس مہم جوئی کی ہمیں کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ امریکیوں نے پرل ہاربر کے رد عمل میں ایٹم بم چلا دیا تھا لیکن یہ پرل ہاربر سے کہیں بڑا واقعہ تھا۔ اور پھر اس کے بدلے میں امریکہ نے ہم سے جو کچھ حاصل کرنا تھا کر لیا۔
جنرل ضیا کے اقتدار کو 11 سالہ طوالت دینے میں افغانستان پر روسی حملہ کام آیا تھا۔ اور اس مرتبہ بھی لاٹری ایک ڈکٹیٹر کی ہی نکلی۔ پرویز مشرف نے امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کر کے اپنا اقتدار اگلے دس سال کے لیے مستحکم کر لیا۔ 110 منزلہ عمارت کا ملبہ صرف امریکہ ہی نہیں پاکستان پر بھی گرا تھا۔ جو دہشت گردی اس حملے کے بعد شروع ہوئی وہ کسی نہ کسی صورت آج 2023 ءمیں پاکستان میں بھی جاری ہے اور افغانستان میں بھی۔

