آسٹریلوی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب


براعظم آسٹریلیا کو دنیا کے دیگر براعظموں اور ملکوں کے مقابلے میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ آسٹریلیا دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہونے کے باوجود دنیا کا چھٹا بڑا ملک شمار کیا جاتا ہے۔ مگر اس کی دنیا کے کسی بھی ملک سے سرحدیں نہیں ملتیں۔ اس کی ساحلی پٹی انسٹھ ہزار چھ سو اکیاسی کلومیٹر ( 59681 ) پر محیط ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا دریا میوری (Murray) دو ہزار تین سو پچھتر کلومیٹر اور سب سے بڑی جھیل نو ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر پر مبنی ہے۔

جسامت اور قدامت میں پہلی پوزیشن پر آنے والے درخت یہیں پر موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے پینسٹھ ہزار برس سے یہاں پر موجود تھے۔ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی نسل دنیا کی قدیم ترین نسل اور ان کا کلچر دنیا کا قدیم ترین کلچر ہے۔ اور وہ آسٹریلیا میں دنیا کے آغاز سے ہی آباد ہیں۔ جیسا کہ وہ اپنے آبا و اجداد سے سینہ بہ سینہ روایت سنتے آرہے ہیں۔ وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ دنیا میں انسانی زندگی کا آغاز چھ سات ہزار سال پہلے آدم کی پیدائش کے ساتھ ہی ہوا تھا۔

ان کے عقائد کے مطابق ان کے علاوہ باقی ساری کی ساری بنی نوع انسان اسی آدم کی اولاد ہیں۔ جب کہ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ اس آخری آدم کے آنے سے بہت پہلے کے اس کرہ ارض کے باسی ہیں۔ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا اہم امتیاز ایک خدا کا تصور ہے۔ اور اس کائنات کو تخلیق کرنے والی ایک بالا دست ہستی پر ایمان ہے۔ براعظم آسٹریلیا صرف اس لیے منفرد نہیں ہے۔ کہ یہ باقی دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ بلکہ اس لیے بھی منفرد حیثیت کا حامل ہے۔

کہ اس میں سینکڑوں قبائل پر مشتمل ایسے معاشرتی جزیرے تھے۔ جو ایک دوسرے سے الگ تھلگ تھے۔ یہاں پانچ سو سے چھ سوتک ایسے قبائل تھے۔ جن کے مذہبی اور معاشرتی ارتقاء کی اپنی اپنی آزادانہ تاریخ تھی۔ جو پچیس سے چالیس ہزار سال پر مشتمل ہے۔ اس دوران سوائے چند سرسری سرحدی رابطوں کے وہ ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رہے۔ صرف زبانوں کا اختلاف ہی اس راہ میں حائل نہیں تھا۔ بلکہ یہ لوگ روایتاً دوسروں سے میل جول اور روابط کو سخت ناپسند کرتے تھے۔

ماہرین عمرانیات کو کہیں بھی آسٹریلیا میں خدا کے تصور کے تدریجی ارتقاء کے شواہد نہیں ملے۔ آسٹریلیا کے تمام قبائل بلا استثناء تمام کائنات کی تخلیق کرنے والی ایک بلندوبالا اور مقتدر ہستی پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ خوابوں کے ذریعے اپنے بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اور خوابوں کے ذریعے ہی انہیں اپنی زندگی کے بہت سے اہم واقعات پر قبل از وقت اطلاع دی جاتی ہے۔ ان کے ہاں مذہبی راہنماؤں کا باقاعدہ ایک درجہ بدرجہ نظام موجود ہے۔

جو خوابوں کی تعبیر کا علم رکھنے والوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ راہنما نہ تو بیرونی لوگوں سے کوئی رابطہ رکھتے ہیں۔ اور نہ ہی غیر قوم کے کسی شخص کو ان تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کے قدیم باشندے کی اصطلاح دو بڑے گروپس کے لئے مستعمل ہے۔ پہلا وہ جو آسٹریلیا اور اردگرد میں ابتدا ہی سے بودوباش رکھتے تھے۔ اور دوسرا گروہ وہ جن کو torres strait جزیروں کے رہنے والے کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ آسٹریلیا اور پاپوانیوگنی کے درمیان واقع جزیروں میں آباد تھے۔ ان دونوں کی زبانیں، خیالات اور طرز معاشرت ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ ایک وقت تھا کہ آسٹریلیا میں پانچ سو سے زائد قدیم اقوام موجود تھیں۔ جو کم ہوتے ہوتے ایک سو پینتالیس کے قریب باقی رہ گئی ہیں۔ جن میں سے اکثر اقوام بھی مفقود ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ خطہ باقی دنیا کے لئے ایک رومانوی اور افسانوی حیثیت کا حامل تھا اور اس خطے تک رسائی کا حصول بحری جہاز رانوں کی پہلی ترجیح تھی۔ 1606 ء میں آسٹریلیا پہنچنے والے ڈچ جہاز ران ولیم پہلے یورپی شہری تھے۔ جنہوں نے اس رومانوی سرزمین پر قدم رکھا۔ اس کے بعد مختلف یورپی متلاشی یہاں آتے رہے۔ 1870 ء میں کیپٹن جیمز کک نے برطانیہ کے لئے آسٹریلیا کے مشرقی ساحل پر فوٹو کھنچوائیں۔ اور سڈنی اور نیو ساوتھ ویلز میں نوآبادیات کی حمایت کرنے والی تفصیلات کے ساتھ واپس آ گئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب برطانیہ پوری دنیا میں پاؤں پسار رہا تھا۔ وہ پوری دنیا کو اپنی نو آبادیوں کی شکل دیتا ہی چلا جا رہا تھا۔ بلند حوصلوں اور جواں ولولوں کے سبب انہوں نے اس نو دریافت شدہ نئی افسانوی سرزمینوں کو بھی اپنی نوآبادی بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کام کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ عام برطانوی شہری تو اپنی پر آسائش اور آرام دہ طرز زندگی کو چھوڑ کر نئی انجانی سرزمینوں پر آنے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھے۔

چناں چہ برطانیہ میں جیلوں میں مقیم مجرموں کو ان رومانوی سرزمینوں میں آباد کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ آسٹریلیا اعلیٰ درجے کی سرزمین ہے۔ دنیا کی سب سے قدیم مسلسل ثقافت ہے۔  سب سے زہریلا سانپ، سب سے بڑا مرجان کے چٹان کا نظام، سب سے قدیم اور قدآور درخت اور بہت کچھ۔ آج آسٹریلیا ایک کثیر الثقافتی ملک ہے۔ جو سیاحوں بین الاقوامی طلباء اور تارکین وطن کے لئے ایک منزل کے طور پر مشہور ہے۔ ایک قدیم سرزمین یہ اپنے قدرتی مناظر گرم اور دوستانہ ثقافت اور دنیا کے کچھ مہلک ترین جانوروں کے لئے مشہور ہے۔

کیرولین میک ڈوول کہتی ہیں۔ آسٹریلیا ثقافت کا ملک ہے۔ یہاں پر پرندے ہنستے ہیں۔ ممالیہ انڈے دیتے ہیں اور تیلیوں اور تالابوں میں بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کی نوآبادیات کی تاریخ 1786 ء میں شروع ہوئی۔ جب برطانوی بحریہ نے کیپٹن آرتھر فلپ کو ایک مہم کا کپتان مقرر کیا۔ جس نے نیو ساوتھ ویلز میں قیدیوں کے لیے ایک کالونی قائم کرنا تھی۔ کیپٹن فلپ کا بحری بیڑا گیارہ بحری جہازوں اور پندرہ سو قیدیوں پر مشتمل تھا۔ جنہیں یہاں آباد کرنا مقصود تھا۔ اور 26 جنوری 1788 ء کو یہ بیڑا پورٹ جیکسن پر اترا۔ چوں کہ اس کالونی نے مستقبل کے آسٹریلیا کی بنیاد رکھی تھی۔ اس لیے 26 جنوری کو آسٹریلیا ڈے کے نام سے منایا جانے لگا۔ لیکن آسٹریلوی باشندے اسے یوم یلغار کہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 7 فروری 1988 ء کو آرتھر فلپس کو حکومت برطانیہ کی طرف سے نیو ساوتھ ویلز کا پہلا گورنر بنا دیا گیا۔ آسٹریلیا کے اصل باشندے جو ابوریجنلز کہلاتے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 40000 سے 65000 قبل انڈونیشیا سے کشتی کے ذریعے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں جب عظمیٰ برطانیہ نے اسے اپنی نوآبادی بنایا۔

تو ان آسٹریلوی باشندوں کے بہت سے قبائل اپنی اپنی ثقافت اور رسوم و رواج کے مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے تھے۔ یہاں پر غالباً دنیا کی قدیم ترین ثقافت اپنی اصل حالت میں موجود تھی۔ اب آرتھر فلپس کے ساتھ اور اس کے بعد آنے والے آباد کار مجرموں کا ریکارڈ پہلی بار انٹرنیٹ پر مہیا کر دیا گیا ہے۔ اب انٹرنیٹ صارفین ان لوگوں کے نام انہیں مجرم قرار دیے جانے کی تاریخ سزا کی مدت اور یہ کہ انہیں آسٹریلیا میں کس جگہ بھیجا گیا تھا۔ سب کچھ انٹرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔

ancestry.co.uk نامی ویب سائٹ پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کا ریکارڈ موجود ہے۔ جنہیں 1788 ء سے لے کر 1868 ء کے درمیانی عرصے میں آسٹریلیا بھیجا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت آسٹریلیا کی کل آبادی کے تقریباً 2.2 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے آبا و اجداد کے نام اس ویب سائٹ پر دی گئی فہرست میں شامل ہیں۔ اور یہ لوگ اپنی اس امتیازی حیثیت پر فخر کا اظہار کرنے میں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

Facebook Comments HS