طرز حکمرانی – ایک حکایت


گئے وقتوں میں ایک ملک میں عوام بادشاہ کے خلاف بوجوہ چند اٹھ کھڑے ہوئے۔ مذاکرات، انعامات، دھونس، دباؤ، مارپیٹ اور زندانوں کا کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ اور تمام تر تدابیر کے آزمانے کے باوجود شورش بڑھتی جا رہی تھی۔ بادشاہ نے وزراء اور امراء کی مجلس بلا لی تاکہ مشورہ کر کے حالات قابو کرنے کے لیے کوئی راہ نکالی جا سکے۔ جو کوئی بھی، جو بھی تجویز پیش کرتا وہ آزمایا جا چکا ہوتا۔ ہفتوں اجلاسوں کے بعد بھی جب کوئی حل نہیں نکل آیا تو بادشاہ جلال میں آیا اور حکم صادر کیا، کہ اگر کل تک کوئی حل نہیں نکالا گیا تو سب وزراء اور امراء کو سولی چڑھا دوں گا۔

اب آ گئی بات اپنی اپنی جان پے۔ سو سب نے اپنی علیحدہ اجلاس منعقد کی۔ لیکن وہ بھی بے ثمر ہی رہے۔ آخر میں ایک بزرگ جہاندیدہ مگر نسبتاً کم رتبے کے امیر نے کہا کہ میں حل نکال لوں گا بس آپ میری تائید کریں۔ سب نے مجبوراً حامی بھر دی۔ اگلے روز بادشاہ دربار میں حاضر تھے کہ بادشاہ نے شاہانہ انداز میں رعونت سے پوچھا۔ بولو کیا حل نکالا؟ سب نے امیر کی طرف اشارہ کیا اور بولے، بادشاہ سلامت اس کے پاس عوام کو قابو کرنے کا حل موجود ہے۔

بادشاہ خوش ہوا اور اس کو پاس بٹھا کے طریقہ پوچھا۔ اس نے کہا بادشاہ سلامت میرے پاس حل ہے مگر اس کے لیے مجھے مکمل اختیار اور چھ ماہ درکار ہوں گے اور میرے کام میں کوئی مداخلت بھی نہیں کرے گا۔ بادشاہ جس ناک میں دم آ چکا تھا، نے فوراً نہ صرف حامی بھر دی بلکہ مطلوبہ احکامات کا ڈھنڈورا بھی پٹوایا۔ اب اس امیر نے اپنے منصوبے پر عمل شروع کیا اور روزانہ کئی کئی قسم کے عجیب و غریب ٹیکس لگواتا اور طرح طرح کے جرمانے لگوا کر وصول کرواتا رہا، مہنگائی کو آسمان تک پہنچایا۔

جب چھ مہینوں میں تین دن رہ گئے اور اسے اندازہ ہوا کہ سارے ملک میں کسی کے پاس ایک دھیلا بھی باقی نہ رہا سب کچھ شاہی خزانے میں جمع ہو چکا ہے۔ تو اس نے ایک عجیب اعلان کیا۔ کہ جو بھی بندہ ایک روپے لا کے دے گا اس کے ساتھ بادشاہ کی بیٹی بیاہی جائے گی۔ اس پر باد شاہ تلملا اٹھا اور سب لوگ بھی حیران ہوئے۔ لیکن اس نے بادشاہ کو اپنا وعدہ یاد دلا کے چپ کرایا۔ اس اعلان کے بعد ہر ہر شخص اپنے اپنے گھر، دکان، کھیت کھلیان جگہ جگہ تلاشی لیتا رہا لیکن کسی کے پاس ایک روپے تو کیا ایک دھیلا بھی نہیں نکلا۔

اس دوران ایک غریب بیوہ کا آوارہ یتیم بیٹا اپنی بوڑھی ماں کے پاس آیا اور بولا کہ جیسے بھی ہو جہاں سے بھی ہو مجھے ایک روپے دیے دو تاکہ شہزادی کے ساتھ شادی کرلوں بیچاری بڑھیا بولی بیٹا سارے ملک کا روسا اور امراء کے پاس نہیں تو مجھ غریب کے پاس کہاں سے ایک روپیہ آئے گا۔ بیٹا یتیم اور لاڈلا تو تھا ہی ساتھ بدمعاش اور آوارہ بھی تھا۔ یک دم چاقو نکال کے بوڑھی ماں کے گلے پے رکھ کے بولا ایک روپیہ دو ورنہ گئی جان سے۔

بڑھیا نے بہت روئی منت سماجت کی لیکن وہ نہ مانا۔ جب بوڑھی کے گلے پر چاقو کی تیز دھار چبھنے لگی تو بولی بیٹا، مجھے چھوڑو۔ مجھے کچھ کچھ یاد آ گیا اور بولی کہ جب تیرا باپ مر کے دفنایا جانے لگا تو اس وقت جب قبر مکمل طور پر بند کی گئی تیرے چچا نے شور مچایا کہ اس سے قبر میں ایک روپیہ گر کر رہ گئی ہے۔ لیکن لوگوں نے قبر کھودنے سے منع کیا۔ وہ روپیہ تیرے والد کے قبر میں اب بھی موجود ہوگی۔ لڑکے نے ماں کو چھوڑا اور والد کے قبر کے پاس جا کے اس کو کھودا۔ تو واقعی ایک زنگ آلود روپیہ کا سکہ پڑا تھا۔ اسے اٹھایا مٹی اور ریت سے رگڑ رگڑ کے صاف کیا۔ او چلا شاہی محل شہزادی کو بیاہنے۔ ادھر تمام وزراء امراء اور عوام کو خبر ہوئی اور سب شاہی محل کا رخ کرنے لگے۔ بادشاہ اور گھر والوں کو تو جان کا لالے پڑ گئے۔ یہ چھٹے مہینے کا آخری دن تھا۔ بادشاہ شہزادی ملکہ وزراء امراء بیٹھے تھے عوام کی جم غفیر بھی موجود تھا۔ وہ لڑکا ایک شان سے خراماں خراماں اس اعلان والے امیر کے پاس گیا۔

روپیہ اس کے حوالہ کیا اور شہزادی کا ہاتھ مانگا۔ اس شخص کے ماتھے پر پسینہ آیا لیکن جلد ہی اوسان بحال کیے اور پوچھا بھئی سارے ملک میں بڑے بڑوں کے پاس ایک دھیلا بھی نہیں تیرے پاس یہ کہاں سے آیا؟ لڑکے نے تمام رام کہانی سنا دی۔ اس امیر نے اٹھ کے لڑکے کو ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کی اور حکم دیا کہ اس ظالم گستاخ کو زندان میں ڈالو اس نے قبر اور میت کی بے حرمتی کی ہے۔ لڑکا زندان چلا گیا اور لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کو چلے گئے۔ تب اس امیر نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت زمین پے کیا زمین کے نیچے بھی کوئی پیسہ کسی کا پاس نہیں رہا۔ اب رعایا بے زبان ڈنگر بن گئے ہیں جیسے ہانکو ویسے چلیں گے۔ اب آپ اگر مجھے کوئی انعام دینا چاہیں تو میں بھی سوچ کے انعام لوں گا۔

اس جدید دور میں بھی بین الاقوامی مالیاتی ادارے، ہمارے جیسے ملک اور اس کے حکمران اور عوام اس پرانے وقتوں کی کہانی کے کردار اور پلاٹ اور طرز حکمرانی میں کوئی فرق نہیں سب معاشی طور پر عوام کو غلام بنا کے اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ اور عوام غربت کی دلدل میں سینوں تک ڈوب کر احتجاج تو کیا شکایت کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔

Facebook Comments HS