چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے نام ایک خط
چیف جسٹس جناب فائز عیسیٰ صاحب میں ایک عام شہری ہوں لیکن دوسرے درجے کی شہری ہوں اگر غیر مسلم عورت ہوتی تو تیسرے درجے کی شہری بھی نہ گنی جاتی اور اگر خواجہ سرا ہوتی تو۔ ۔ ۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں شہریوں کی کتنی قسمیں ہیں۔ جارج آرویل کی اینیمل فارم کا مشہور فقرہ یاد آ جاتا ہے کہ سب جانور برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں۔ بھلے آپ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس ہیں لیکن آپ آئین اور قانون میں چھپی ان رمزوں کو نہیں جان سکتے جو مجھے دوسرے درجے کا شہری بنانے پر اصرار کرتی ہیں۔
مثال سے واضح کرتی ہوں پاکستان میں ازخود نوٹس لینے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کتنے ازخود نوٹس ایسے ہیں جو ہمارے حقوق کی خلاف ورزی پر لئے گئے ہیں۔ میری کوتاہ علمی معاف فرمائے گا صرف ایک یاد ہے جو پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس دوست محمد صاحب نے لکی مروت میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے موقع پر عورتوں کی سیاسی حقوق کی پامالی کے خلاف لیا تھا جسے عدالت عالیہ نے بیک جنبش قلم۔ مسترد کر دیا کہ یہ ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے خلاف اس ملک میں کیا نہیں ہوا جڑانوالہ کا واقعہ تو ابھی آپ کی یاداشت سے اترا نہیں ہو گا۔ عدالت نے ایک دفعہ بھی صوبائی حکومت سے پوچھا کہ اس واقعے کی رپورٹ کہاں ہے ذمہ داران کون ہیں۔ پچھلے چند مہینوں سے عورتوں بچیوں کے خلاف ظلم کا طوفان اٹھا ہوا ہے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے کیسز پر کیسز سامنے آ رہے ہیں عدالت عالیہ کو فرصت نہیں ملی کہ کسی صوبائی حکومت سے پوچھ لیتے ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
میں جوڈیشل ایکٹیو ازم کی حامی نہیں لیکن جب حکومتیں خاموش ہوں تو کون بولے گا کون ان کو پوچھے گا کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی کیوں ہو رہی ہے۔ پیروں کے سانڈ جیسے بیٹے نازک فاطماووں کو بدترین جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر تڑپتا چھوڑ کر مزے سے کمبل لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور جہاں پولیس بادل نخواستہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرتی ہے اور تفتیش کے دوران ٹال مٹول کرتی ہے۔ سیاسی جماعتیں مذمت تک نہیں کرتیں کیا عدالت نے پوچھا کہ ان کیسز کی تفتیش کس مرحلے پر پہنچی۔
کیا عدالت نے پوچھا جن عورتوں اور دیگر سیاسی ورکروں کو 9 مئی کے واقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے انہیں کیوں عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ اس حبس زدہ بے حسی کے ماحول میں آپ چیف جسٹس بنے ہیں تو امید کا لرزتے کانپتے دیے کی لو کچھ دیر کے لئے سہی پر تیز ہوئی ہے کہ شاید اس مرتبہ ریاست کا یہ ستون اپنا وہ کردار ادا کر لے جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔ جناب عالی مجھے پڑھایا گیا تھا کہ اس ملک کا آئین اور قانون میرے حقوق کے تحفظ کے لئے بنے ہیں مجھے ایک باوقار زندگی دینے کے لئے بنے ہیں۔
میرے ساتھ آئین نے بھی اچھی کی تمہید کے بعد 29 شقوں تک کے بنیادی حقوق پر ہمیں لگا دیا اور خود سارے ستون باقی آئین پر چھا گئے۔ جن کا ذکر چند سطور میں تھا انہیں آئین کا مالک بنایا اور خود چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے آپس میں بھڑ گئے اور تقسیم کرو اور لڑاؤ گروہ نے آپ لوگوں کو لے کر وہ پتلی تماشا شروع کیا کہ جو بھارتی صحافی کے بقول ”نیٹ فلکس سے زیادہ دلچسپ“ ہے یہ پتلی تماشا آج تک جاری ہے ایسے میں عوام گئے بھاڑ میں۔
فائز عیسیٰ صاحب آپ کے ادارے نے جو عوام کے ساتھ کیا ہے اس کے لئے تو روز محشر میں بھی ایک الگ روز محشر اٹھانا پڑے گا کیونکہ آپ کے ادارے میں تو لوگ سب سے مایوس ہونے کے بعد آتے ہیں ہمارے جیسوں کو تو آپ کا ادارہ ہی سہارا لگتا ہے لیکن ان مایوس اور دکھیارے لوگوں کے ساتھ آپ کے ادارے نے تو یہ کیا کہ ان پر ہونے والے ظلم و جبر کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔ پتہ نہیں کیوں لکھتے لکھتے مختاراں مائی یاد آ گئی۔ اپ تو سارے اداروں کو کٹہرے میں بلا سکتے ہیں فائز عیسیٰ صاحب آپ کا ادارہ تو کسی کٹہرے میں نہیں بلایا جاسکتا اس لئے آپ کے ادارے کی تاریخ ظلم، بے انصافی اور نظریہ ضرورت جیسے فیصلے سے بھری پڑی ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ آپ اس قلیل مدت میں کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں یا نہیں لیکن میری درخواست ہے کسی بے انصافی کا حصہ مت بنیے گا۔ ہم وہ لوگ ہیں جو کل عدلیہ بحالی کی تحریک میں شامل تھے مگر اس کا بعد عدلیہ میں جو کچھ ہوا اس پر خود سے آنکھیں نہیں ملا سکے کہ ہم نے اس عدلیہ کے لئے کوشش کی تھی۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے جسے مسیحا سمجھا اس کی مسیحائی نے ہمارے زخموں کو ناسور بنایا اور انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش رہے اور اس گروپ کا حصہ بنے جو نظریہ ضرورت کے فیصلے لکھواتا رہا ہے۔
کل جب آپ کے خلاف ریفرنس دائر ہوا تھا تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے کیونکہ فیض آباد والے فیصلے سے ایک موہوم سی امید جاگ اٹھی تھی۔ اسی موہوم سی امید پر آپ کو خط لکھ رہی ہوں کہ اگر ان کچھ مہینوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کسی ازخود نوٹس کے ذریعے ایک بہترین فیصلہ لے آئیں جو آئندہ کے لئے بھی مشعل راہ بن جائے تو کم از کم اگلی نسل سے تو ہم انکھیں ملا کر بات کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ ہاں ہم نے اس شخص کو سپورٹ کیا تھا۔ ورنہ یہ زیست کا سفر رائیگاں تو ہے
فقط
ایک دوسرے تیسرے اور چوتھے درجے کی شہری



کب کی بات هورهے . دوسرا تیسرا درجه
خواتین کو تو انسان هی نهیں مانا جاتا.