کون بولے گا خلق کے حق میں؟


ملک خداداد میں پبلک کی نمائندہ ہونے والی پہلی دعویدار سیاسی پارٹی نے کوئی چار دہائیاں پہلے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا اور عوامی سیاست کا ایک نیا دو ٔر شروع ہو چلا۔ اب یہ محض اتفاق ہے یا پھر سیاسی پیروی، پر اسی دور میں پڑوسی ملک سے بھی یہی نعرہ بطور منشور وہاں کے افق پر چھا گیا۔ جس پر غالباً 1974 میں وہاں پر ایک فلم بھی بنائی گئی۔

دہائیاں گزر گئیں، دونوں ممالک ایٹمی طاقت بن گئے، جبکہ ایک تو چاند پر بھی پہنچ گیا، پر یہ سمجھ نہ آیا کہ یہ روٹی، کپڑا اور مکان ریاست نے پبلک کو دینا تھا یا پبلک نے ریاست کو ۔

اجی پڑوس کی تو پڑوس والے جانے۔ ویسے بھی ہم نے کب کوئی اچھی چیز کسی پڑوسی سے سیکھی ہے۔ ہماری تو تاریخ ہی ایک پڑوسی سے لڑنے کی اور دوسرے کو لڑانے کی رہی ہے۔ کل ملا کے نہ خود سکون سے رہنا ہے نہ دوسروں کو سکون سے رہنے دینا ہے کے سنہری اصول پر ہم اپنا اور دوسروں کا مسلسل جینا حرام کیے ہوئے ہیں۔ اور یہی ہمارا قومی مشغلہ ہے۔

اس سارے شغل میلے میں اگر کوئی چیز گم ہو گئی ہے تو وہ ہے عوام۔ جی وہی پبلک کہ جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر ایک اشرافیائی طرز حکمرانی معرض وجود میں آئی ہے، جس کے آگے پبلک کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب تو اگر یہ کہا جائے کہ یہ پبلک کے کاندھوں پر سوار ہونے کا بھی بس دکھاوا ہے تو بھی غلط نہ ہو گا۔ درحقیقت اب تو پبلک کے کاندھوں کی بھی چنداں کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ پبلک کا ٹیٹوا دبا کے حاکم مسلط کرنے کی رسم عام ہو چلی ہے۔

بڑے بوڑھے کہ گئے تھے کہ جیسی پبلک خود ہوتی ہے، اس پر ویسا ہی حاکم مسلط ہوتا ہے۔ اب یہاں پھر یہ سمجھ نہیں آتا کہ پبلک کس کے جیسی ہے؟ وہ جو کرسی پر براجمان ہے یا پھر وہ کہ جن کے ہاتھوں میں اس کرسی پر بیٹھنے والے کی ڈوریں ہیں۔

بھائی بہت الجھن ہے، کیونکہ مندرجہ بالا مذکورین میں سے ہر ایک کی وجہ شہرت الگ ہے۔ کرسی پر بیٹھنے والے ہر ایک پر جو ٹیگ لگتا ہے وہ لٹمس پیپر کی طرح ہے جس کو ڈور ولا اپنے موڈ کے مطابق لال سے نیلا اور نیلے سے لال کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ جبکہ وہ خود کو ماحول کی تابکاری سے بچانے کا ہنر بھی بخوبی جانتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے رنگ پر آج تک کوئی آنچ نہیں آئی۔ اور اگر ایسے حالات ہونے بھی لگیں تو وہ نیلے کو لال اور لال کو نیلا بنانے کا ہنر تو جانتا ہی ہے۔

سندھی زبان کے ایک نامور ادیب جناب حلیم بروہی (مرحوم) نے ایک بار اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا، (اب لکھا ان کا ہے تو اس بات پر انہی کا استحقاق ہے اور ذمہ داری بھی، میں اس سے بری ) کہتے ہیں کے ہمارے معاشرے میں دو اقسام کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو بہت کمینے ہیں اور دوسرے وہ جو بھی کمینے ہی ہیں پر ان کو اس بات کا احساس ہی نہیں۔ انہوں نے کیونکہ مضمون میں مندرجہ لفظ ”کمینے“ کی وضاحت نہیں کی اس لئے قارئین اس کا کچھ بھی مطلب لینے میں آزاد ہیں۔

نہ جانے کیوں مجھے بروہی صاحب کی یہ وضاحت وطن نے عزیر کے اصلی اور نقلی حاکموں پر فٹ دکھائی دیتی ہے۔ جن میں سے کرسی پر براجمان تو چور لٹیرے سجھائی دیتے ہیں۔ البتہ ڈور تھامنے والوں کے حالات بھی کوئی خاص مختلف نہیں بس وہ اس سچائی کو محسوس کرنے اور ماننے سے قاصر ہیں۔

سنتے ہیں کہ وطن عزیز کے سرمائے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے۔ اب سرمایہ بھی ایک قسم کا تو ہے نہیں۔ جنگل، پہاڑ، ندیاں جھرنے، ریگستان، لہلہاتے کھیت، اشرافیہ کے محل اور پبلک سب بھی وطن عزیز کے سرمائے میں آتے ہیں۔ بس ان سب میں جو سرمایہ سب سے زیادہ لوٹا گیا ہے وہ ہے عوام۔

نتیجتاً اب جو استطاعت رکھتے ہیں وہ لٹنے کے ڈر سے دیار غیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جب وطن میں لٹنے کا ڈر ہے اور غیروں سے پناہ اور حفاظت کی امید۔ سچ کہوں تو ڈوب مرنے کے لئے اتنی چلو بھر حقیقت ہی کافی ہے۔

رہ گئے وہ جو استطاعت نہیں رکھتے ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان کا خون چوسا جا چکا ہے، گوشت سے کھال کھینچنے کے ساتھ ساتھ ہڈیاں تک پیسی جا رہی ہیں۔ اس پر عزیزم نگران وزیر اعظم صاحب کا فرمان ذیشان ہے کہ مہنگائی تو ہے پر اتنی بھی نہیں کہ پبلک احتجاج کریں۔ مطلب یہ کہ چھاتی پر سنگین بھی مارا جائے تو خبردار چیخ باہر نہ نکلنے پائے۔

طالب علمی کے دور میں پڑھا تھا کہ ہم ایک پارلیمانی جمہوریت ہیں۔ جہاں پارلیمان جمہور کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی پابند ہے۔ تاکہ پبلک کا آئین اور قانون کے تحت ریاست سے رشتہ جڑا رہے۔ اور اپنے وطن پر بھروسا بھی قائم رہے۔

پر کیا کہنے حاکمین کے جو عوامی مفاد کے قوانین پاس کرنے یا کروانے میں تو عشرے لگا دیتے ہیں پھر بھی یا قانون نہیں بن پاتا یا وہ محض دستاویزی شکل تک محدود رہ جاتا ہے، جبکہ ان کو کوئی صرف ”ابے اوئے“ کہ کر پکارے تو عشروں اور دنوں میں نہیں بلکہ دقیقوں میں قوانین پاس ہو جاتے ہیں۔ اور ”ابے اوئے“ کہنے والا ”ہائے اوئے“ پر آ جاتا ہے۔

حال ہی میں ایک ٹرینڈ بھی قائم ہوا ہے۔ جس کا لب لباب ہے پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔ جی یہ میں نے ہوا میں بات نہیں کی وطن عزیز کے ایک سینیئر سیاستدان اور سابقہ وزیر اعظم نے ایوان بالا سے بلوں کی منظوری کے لئے لگی لوٹ سیل کا خود انکشاف کیا وہ بھی قومی میڈیا پر ۔ مطلب کرسی نشینوں نے ڈوری کو ڈھیلا پایا اور وہ وہ قوانین پاس کیے کہ اب کبھی جڑانوالا میں آگ لگتی ہے تو کبھی گلگت بلتستان سلگتا ہے تو کبھی لائلپور کی مسیحی آبادیاں ویران ہوجاتی ہیں۔

مذکورہ لوٹ سیل میں پاس ہونے والے قوانین ہی نہیں بلکہ ایسے قوانین پاس کرنے کی بھی گونج سنائی دی جس سے عارضی کرسی نشین بھی وہ کر سکیں جو پہلے کبھی نہیں ہو سکا۔ اب ان کو کیا مینڈیٹ اور کیا اختیارات دیے گئے اس سے میرے جیسا عامی تو واقف نہیں۔ البتہ اتنا سمجھ میں آ رہا ہے کہ لٹنے کو اب بھی سب سے بڑا سرمایہ خود پبلک ہی ہیں۔ جن سے روٹی، کپڑا اور مکان سب کچھ چھین نے کی بھرپور کوشش مسلسل جاری ہے۔ رہ گئی عزت تو اس پر صرف اشرافیا کے کاپی رائٹس ہیں نہ کہ پبلک کے۔

دل تو کرتا ہے اس سارے قضیہ کی شکایت لگائی جائے۔ کوئی تو ہو جو پبلک کا بھی سوچے اور ان کے بارے میں استفسار کرے۔ پر کہیں تو کس سے کہیں یہاں جو کرسی پر براجمان ہیں وہ تو وہ ہیں۔ اور جن کے ہاتھ میں ڈوریں ہیں وہ بھی وہی ہیں بس ان کو اس کا احساس نہیں۔ ویسے جب مانجھی خود ناؤ ڈبونے میں مگن ہو تو دریا کی لہروں کو کوسنے سے کیا ہو گا۔

کون بولے گا خلق کے حق میں؟
خار اگتے ہوں جب زبانوں پر ۔

Facebook Comments HS