کب بدلیں گے حالات!
ملک ایسے افراد کے نرغے میں آ چکا ہے، جو کہ آئین، قانون اور اخلاقی ضابطوں کو یکسر فراموش ہی کیے چلے جا رہے ہیں، جبکہ انتخابات کرانے کے خواہشمند اور گریزاں حلقے، سبھی اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کسی کے خلاف کوئی کارروائی کر رہا ہے نہ ہی عام انتخابات کی تاریخ دیے رہا ہے، الٹا سوال کر رہا ہے کہ سیاسی لوگ نگران کابینہ میں کیوں شامل کیے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن کوئی کروائی کرنے کے بجائے ایسے ہی تشویش کا اظہار کرتا رہے گا اور عدلیہ بھی تحفظات باور کراتی رہے گی، جبکہ قلم دانوں کی بندر بانٹ ایسے ہی جاری رہے گی اور سابق حکومت کاہی تسلسل دکھائی دینے والی حکومت بس نگرانی ہی کرتی رہے گی۔
اس نگران حکومت کے نگران وزیر اعظم درست کہتے ہیں کہ نگران حکومت غیر جانب دار ہوتی ہے، لیکن یہ کیسی غیر جانب داری ہے کہ ایک طرف انتقامی سیاست کا تسلسل جاری ہے تو دوسری جانب پوری لیول پلینگ فیلڈ دی جا رہی ہے، اس کے تحت ہی میاں نواز شریف نے اکیس اکتوبر کو پاکستان واپسی کا اعلان کر دیا ہے، وہ ریاست پاکستان کے مفرور مجرم ہیں، قانون کا تقاضا ہے کہ وہ آئیں تو انہیں پکڑ کر جیل میں بند کیا جائے اور عدالت ان کے بارے میں کوئی فیصلہ دے، لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ عدالت سے بالا بالا ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ نگران وزیر اعظم جانتے ہی نہیں ہیں کہ وہ کسی ڈیل یا ڈھیل کے تحت واپس آرہے ہیں۔
نگران وزیر اعظم جتنا مرضی سب کچھ جانتے ہوئے انجان بننے کی کوشش کرتے رہیں، لیکن عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کن سے کون سی ڈیل اور ڈھیل لے کر واپس آرہے ہیں، ایک طرف میاں نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی امید کے ساتھ واپس آرہے ہیں تو دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری بھی وزارت عظمیٰ کے پکے امیدوار ہیں، یہ ان کے والد محترم کی آخری خواہش ہے کہ وہ اپنے صاحبزادے کو ہر حال میں وزیراعظم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لیے ہی انہوں نے دوطرفہ سیاسی حکمت عملی ترتیب دی ہے کہ وہ طاقتور حلقوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ر ہیں گے اور بلاول اختلاف رائے کے ذریعے دباؤ بڑھاتے رہیں گے، لیکن پیپلز پارٹی کرپٹ سسٹم پر مضبوط ہاتھ ڈال دیا گیا ہے ، آصف علی زرداری بظاہر تاثر دے رہے ہیں کہ اس سارے معاملے کا ان سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ملکی مفاد میں کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ حمایت بہت جلد ان کے اپنے ہی گلے پڑنے والی ہے۔
اس ملک کی آزمائی سیاسی قیادت ایسے حالات کا کوئی پہلی بار سامنا نہیں کرر ہے ہیں، اس سے قبل بھی بار ہا ایسے حالات نہ صرف دیکھے ہیں، بلکہ اس سے کامیاب ڈیل اور ڈھیل کر کے نکلتے بھی رہے ہیں، اس بار بھی میاں نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف کے ذریعے جیسے ان حالات سے نکل رہے ہیں، اس طرح ہی آصف علی زر داری بھی بلاول زرداری کے ذریعے نکلنے میں کو شاں دکھائی دیتے ہیں، ایک طرف ڈیل اور ڈھیل کا سلسلہ چل رہا ہے تو دوسری جانب ملک و عوام تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں، عوام ان سیاستدانوں سے پو چھنا چاہتے ہے جو کہ ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہیں کہ وہ اپنی جماعت کے پلان و پروگرام اور منشور کے حوالے سے بتانے کی زحمت کریں گے کہ ملک و قوم کو ایک بڑے بھنور میں پھنسا کر اب اس سے نکلنے کا ان کے پاس کیا نیا فارمولا ہے۔
اس آزمائی سیاسی قیادت کے پاس عوام کے لئے کوئی نیا فار مولہ ہے نہ ہی عوام ان کی ترجیحات میں کبھی شامل رہے ہیں، ان سب کی ترجیحات حصول اقتدار سے جڑی ہیں، اس حوالے سے جہاں طاقتور حلقوں سے معاملات طے کیے جا رہے ہیں، وہیں اپنے سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کے بعد عام انتخابات وقت پر کرانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، لیکن اقتدار کس کے حوالے ہونا ہے، یہ ابھی طے نہیں ہوا ہے، اگر اس بار بھی عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار کسی تھرڈ پارٹی کو دیا گیا تو عام انتخابات پر سوالیہ نشان لگ جائے گا اور ایک بار پھر دائروں کا سفر جاری رہے گا، اس بے یقینی اور افراتفری کے دائرے سے باہر نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی مرضی تسلیم کی جائے، عوام کو فیصلہ کرنے کا نہ صرف حق دیا جائے، بلکہ اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے بھی کیا جائے، اس ملک کے طاقتور حلقوں نے بہت سے تجربے کر لیے ہیں، اس بار عوامی تجربہ کر کے بھی دیکھ لیں، امید ہے کہ کامیاب رہے گا اور ملک و عوام کے حالات بھی بدل جائیں گے۔


