عمار فاروق کی موت پر
دل کا دیا کل سے گل ہے۔ بالکل بے نور۔ اس گھپ اندھیرے میں خود پر بے طرح جللال آ رہا ہے، جی چاہتا ہے، کہیں کسی ویرانے میں جا کر خوب چیخ چیخ کر اپنی بے بسی پر اپنے کو گندی گندی گالیاں دوں۔ معلوم نہیں مستقبل کے دامن میں ہمارے لیے کیسے کیسے زہرناک کانٹے بھرے ہیں۔
نو سالہ معصوم مجرم عمار فاروق کو مارڈالا گیا ہے۔ اسے اس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا کہ خدا نے اسے ایک خاص پارٹی کے کسی کارکن کے گھر پیدا کر دیا تھا۔ نالائقوں سے یہ تو ہو نہ سکا کہ جاتے اور خدا کے سامنے سوال اٹھاتے کیوں کہ خدا زورآور بہت ہے۔ اپنے جرم سے ناآشنا معصوم کے لواحقین آہ و زاریاں کرتے رہے کہ اسے باپ کی ایک جھلک دکھلا دی جائے، بھولے تھے نا!
نہیں جانتے تھے کہ سننے والے ڈفر تو لاریب ہیں لیکن ان معاملات میں گھاگ بہت ہیں، جانتے ہیں کہ یہ بچے کی موت کی اذیت کو کم کرنے کی سازش ہے۔ ان کو اس لیے بھی اس ننھے قیدی سے خوف تھا (اور بے وجہ کا خوف) کہ عمار کے کفن کا فینائل کہیں ان کے نازک مزاج نوکر شاہ کلب تک پہنچ گیا تو مردار ہو جائے گا۔
ہماری تو خیر کوئی ایسی بات نہیں کہ ہماری بستی میں ایسا ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ ہمیں اپنی پیدائش کے آغاز ہی میں بے غیرتی کا ایسا تریاق دے دیا گیا تھا کہ اب اس طرح کے کسی بھی خاشو پاشو زہر کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا سو ہم ایسے مناظر کو دیکھتے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔
ابھی چند برس پہلے مرد حق کے عہد مسعود میں ایسے دل سوز سانحات پر مجھ ایسا سیڈنٹری زندگی کا خوگر بھی باہر نکل کر دکان شیشہ گراں کو ایک آدھ کنکر مار کر بھاگ لیا کرتا تھا۔ لیکن اب تو بے حمیتی کی حشیش پی پی کر شل ہوچکے ہیں، استنجے تک کے لیے منتظر رہتے ہیں کہ کوئی مرد خدا آئے اور طہارت کرا جائے۔
تو بحیثیت قوم جب گراوٹ کا گراف اس حد تک اتر آئے تو پھر قصہ تو ختم ہو گیا نا۔ اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ کوئی کن ٹٹا آئے اور ہمارے سامنے ہماری بیوی، بہن، بیٹی، بہو کو دبوچ لے اور ہیجڑوں والے پستول، طپنچے وغیرہ جیسے ہتھیار کی زد پر لے کر کہے کہ آنکھیں کھول کر اپنی عزیزہ کو مال غنیمت بنتا دیکھ! تو میں کیا کر پاؤں گا۔ دیکھوں گا، ہاں زندگی کے تحفظ کے لیے شرط کیا گیا ہے کہ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر یہ منظر دیکھوں۔ ممکن ہے کہ دل میں اندھا ہو جانے کی دعا بھی مانگوں کہ ان جیسے حالات میں ایک بے غیرت کو کب یاد رہتا ہے کہ خدا ایسوں کی نہیں سنتا، جو اپنے حافظے رد بلا کے نسخے حفظ کرنے میں بتا بیٹھے ہوں۔ ایسوں کے راج میں ہم کو زندگی کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے ان ہی کی طرح جینا ہو گا۔ جب بستی روم بنا دی جائے، تو پھر اب رومنوں کی طرح جینے میں شرم کیسی، حیا کیسی۔ خواجہ صاحب والی بے نظیر جرات کہاں سے لائیں کہ گلی گلی نعرے مارتے پھریں ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے“۔ آج دل بہت شرمندہ ہے، اپنی بے غیرتی پر۔



