حاجی بھائی پانی والا۔ ایک تاثر


تقریباً چھبیس ستائیس برس قبل جب ساقی فاروقی صاحب نے اپنی نظم ’حاجی بھائی پانی والا ”ہمارے دوستوں یامین، الیاس ملک اور زکریا شاذ کو لندن سے بذریعہ ڈاک ارسال کی تو یہ ابھی احمد ندیم قاسمی صاحب کے جریدے“ فنون ”میں نہیں چھپی تھی۔ اس ارسالگی کی وجہ ہمارے ان دوستوں کا ساقیؔ صاحب سے وہ تعلق تھا جو ان لوگوں نے برسوں کی خط و کتابت اور لاہور میں کشور ناہید صاحبہ کے گھر ساقی صاحب سے ایک بالمشافہ ملاقات کے ذریعے قائم کیا تھا۔

سو ساقی صاحب اکثر اپنی تازہ نظمیں، غزلیں انھیں ارسال کرتے تھے اور ان دوستوں کی تخلیقات پر مشوروں سے بھی نوازتے۔ تو یہ نظم جب آزاد کشمیر میں پہنچی تو ہم لوگوں نے اس کا بڑا والہانہ استقبال کیا۔ ہمارے گھرکا ایک کمرہ، جس کا ایک دروازہ باہر گلی میں کھلتا تھا، وہاں ان اور دوسرے ادبی دوستوں کے ساتھ طویل نشستیں ہوتیں۔ جو اکثر اوقات پوری پوری رات جاری رہتیں۔ تو اسی کمرے میں اس نظم کی قرات کی گئی۔ یامین جن کے نام پہ خط آیا تھا، نے اس نظم پر گفتگو کے لئے اس میں چھپی کہانی، علامتوں، اس کی زبان اور نظم کے رموز کو بیان کرنے کے لئے سب کو دعوت دی۔ ابتداً یوں لگا کہ کسی ماشکی کا ذکر ہو رہا ہے

دونوں مشکیزے لبالب
ایک چمبک کی طرح
اپنی جانب کھینچتے رہتے اسے

لیکن اگلی ہی لائنوں سے ایک استعجاب کی کیفیت ابھرتی اور نظم اپنی گنجھلیں سامنے لاتی جاتی۔ مرد گاہکوں کی مسخری اور عورتوں کی رحم دلی کے ذکر سے آگے بڑھتے ہوئے اس فیل فا مسالہ فروش کی ہیئت کذائی اور بے بسی کا ذکر آتا ہے۔ پھر جیسے اس مرد بیمار نے اپنے اس عیب کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا اور اپنی خیل فائی کو اپنے روزگار سے وابستہ کر دیا تو یہ عملی زندگی کا ایک بھرپور واقعہ ہے۔ اس کیفیت کو بیان کرنے میں جس طرح زبان کی نفاست اور برتاؤ کا اظہار ہے اس کی داد دینی تو بنتی ہے۔ لفظ ”جگلری“ کو ایسے خوبصورتی سے اردو زبان کا حصہ بنایا ہے کہ رتی بھر اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا اور اس لفظ میں چھپی تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے اور اسے معمول کا حصہ بنا لینے کا جو زیر زباں اشارہ ہے وہ بھی خوب ہے۔

نظم کے بیان کا زمانہ محض ایک لفظ میں چھپایا گیا ہے۔ ”اپنے سرسید کی داڑھی“ گویا متکلم سرسید کے زمانے کا ہے مگر فیل فا شاید اس سے قبل گزرے زمانے کا ۔ پھر نظم کے آخری دو مصرعے نہ صرف نظم کو داستان گوئی کے قریب لے آتے ہیں بلکہ اس زمانے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ جب داستان گوئی عام تھی تو گویا ایک داستان گو سر سید کے زمانے میں ماقبل زمانے کی ایک کہانی سنا رہا ہے۔

حج کا ذکر بھی ایک اہم موڑ ہے۔ گویا اپنی سماجی حیثیت کو بلند کرنے اور اپنی بظاہر عیب دار زندگی کو قابل قبول بنانے کے لئے ہر قسم کی مشکلات سے گزر کر حج کرنے کو فیل فا کا سماجی حلقہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ یہ سماج اور سپیشل لوگوں کی طرف بے اعتنائی کی نشانی ہے۔ اپنے دکھ سنبھالے ہوئے اس دنیا سے چلے جانے کا ذکر اس گہرائی تنہائی کی طرف اشارہ ہے جو ان تمام لوگوں کو زندگی بھر گھیرے رکھتی ہے۔

جب اپنے کمرے میں ہم نے اس نظم کو پڑھا تھا تو اس کے مصرعے ”اپنے راز اپنے مفاعلین اٹھائے چل پڑا“ میں مفاعلین کا لفظ نہیں تھا بلکہ دو ایسے الفاظ تھے جنھیں قاسمی صاحب نے ”فنون“ میں شائع کرتے ہوئے خوف فساد خلق سے تبدیل کر دیا۔ گو کہ ان الفاظ کے سمیت نظم کے بیان میں چھپی تنہائی اور اداسی اپنی اصل شکل میں ظاہر ہو جاتی تھی۔ یہ نظم اس سماج پر اور اس کی سنگدلی پر اس میں بسنے والوں کی ازلی تنہائی کو ایک ایسے حقیقی تخلیق کار کی طرح بیان کرتی ہے، جو ان لفظوں کو لکھتے ہوئے زیر لب مسکرا رہا ہے مگر اس کی آنکھوں میں نمی بھی تیر رہی ہے ؂ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔

Facebook Comments HS