کم عمری کی شادی اور صنفی امتیاز


نیشنل کمشن آن دی سٹیٹس آف وویمن (این سی ایس ڈبلیو) کی جانب سے پرنٹ میڈیا ’الیکٹرانک میڈیا‘ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے وابستہ صحافیوں کے لئے کم عمری کی شادی اور صنفی امتیاز کے حوالے سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ’یہ دس روزہ تربیتی ورکشاپ سنٹر فار ایکسیلنس جرنلزم (سی ایس

جے ) آئی بی اے کراچی میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان بھر سے چالیس صحافیوں نے شرکت کی ’یہ ورکشاپ اس فیلو شپ کا حصہ تھی جس کا آغاز گزشتہ سال کیا گیا تھا‘ فیلو شپ کے منتظمین کے مطابق فیلو شپ کے لئے پانچ سو سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں چالیس منتخب صحافیوں کو فیلو شپ میں شرکت کا موقع دیا گیا ان صحافیوں میں انیس خواتین اور ایک خواجہ سرا بھی شامل تھے ’نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف دی وویمن کے مطابق اس فیلو شپ کے لئے اسے اقوم متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی) اور سنٹر فار ایکسیلنس جرنلزم کی حمایت حاصل ہے‘ بطور صحافی مجھے بھی اس فیلو شپ میں شمولیت کا موقع ملا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ فیلوشپ صحافیوں کے لئے منعقد ہونے والی تربیتی ورکشاپوں سے قدرے مختلف تھی ’اس کی بڑی وجہ ایک تو اس کا دورانیہ اور دوسرا ٹریننگ سیشن تھے‘ دس روز کے دوران صحافیوں کو خود احتسابی ’بنیادی حقوق‘ صنفی بنیاد پر معاشرے میں ہونے والے تشدد اور اس حوالے رپورٹنگ کے اسلوب بارے بتایا گیا ’جبکہ چائے اور کھانے کے وقفے پر بھی اس بات کا اہتمام کیا گیا تھا کہ ملک بھر سے آئے ہوئے صحافیوں کی ایسے افراد سے ملاقات کروائی جائے جن کا صحافت میں ایک مقام ہے‘ اگر چہ یہ ملاقاتیں فیلوشپ شیڈول میں شامل نہیں تھی مگر اس فیلو شپ کے ٹیکنیکل ہیڈ کی ذاتی کاوش کی وجہ سے ایسا ممکن ہو پایا ’جس سے فیلوشپ میں شامل صحافیوں کو ان نامور شخصیات جن میں غازی صلاح الدین جیسے سینئر صحافی شامل ہیں سے ملاقات کا موقع ملا ہے‘ فیلو شپ کے دوران صحافیوں کو کوہی گوٹھ وویمن ہسپتال کا دورہ بھی کروایا گیا ’یہ وہ ہسپتال ہے جہاں پر کم عمری کی شادی سے فیسٹولا جیسے خطرناک مرض مرض میں مبتلا بچیوں اور خواتین کا علاج کیا جاتا ہے ‘ فیسٹولا وہ بیماری ہے جس میں مبتلا خاتون زندہ در گو ہوجاتی ہے ’معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ جب کسی بچی کی کم عمری میں شادی ہو جاتی ہے تو زچگی کے دوران بچے کا سر پھنس جاتا ہے جس سے اس کے اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچتا ہے جس سے اس کا پاخانہ اور پیشاب رک نہیں پاتا ہے اور وہ فیسٹولا جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہے‘ بدقسمتی میں بیشتر علاقوں میں نہ تو اس مرض بارے لوگوں کو آگاہی حاصل ہیں اور نہ ہی اس کا علاج میسر ہے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا خواتین کو ذہنی مریض قرار دے کر الگ کر دیا جاتا ہے اور وہ انتہائی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ’بطور صحافی کوہی گوٹھ وویمن ہسپتال کا وزٹ کر کے مجھے یہ محسوس ہوا کہ این سی ایس ڈبلیو جس مشن کے تحت یہ فیلو شپ کروانا چاہ رہی تھی وہ پورا ہو گیا ہے‘ کیونکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات بارے جس طرح سے اس ہسپتال سے آگاہی حاصل ہوئی وہ شاید لیکچرز سننے سے حاصل نہیں ہو پانی تھی ’فیلو شپ میں صحافیوں کو موبائل جرنلزم‘ ڈیٹا جرنلزم ’اور ڈیجیٹل جرنلزم جیسی مہارتوں بارے بھی بتایا گیا‘ نیشنل کمشن آن دی سٹیٹس آف وویمن کی چیئر پرسن سابق پارلیمنٹرین نیلوفر بختیار ہیں ’فیلو شپ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بطور چیئر پرسن این سی ایس ڈبلیو وہ یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے صحافی صنفی بنا پر برتے جانے والے امتیاز کے بارے میں اتنے حساس ہو جائیں کہ صنفی تشدد کے شکار افراد بارے رپورٹنگ کرتے وقت وہ یہ محسوس کریں کہ یہ تشدد ان پر ہوا ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ دس روز پر مشتمل اس فیلو شپ میں صحافیوں کو اس حوالے حساس بنانے میں وہ کامیاب رہی ہیں۔

Facebook Comments HS