پاکستان کی مخدوش صورتحال پر ایک تجزیہ
نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر جوزف ہوپ کے ایک آرٹیکل میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی انڈیا کو ترقی کی راہ پر لے جانے اور پاکستان کو بین الاقوامی طور پر تنہا کرنے کی پالیسی پر آسٹریلیا میں مقیم میرے ایک دوست نے نہایت دردمندی سے بہت تلخ تبصرہ کیا جس کے جواب میں میرا نکتہ نگاہ ملاحظہ ہو۔
” محترم آپ کا تبصرہ چونکا دینے والا ضرور ہے لیکن معروضی حالات اور واقعات کی روشنی میں ان تلخ حقائق سے آنکھیں چرائی بھی نہیں جا سکتیں۔ میں بھی کئی برسوں سے ان ممکنہ خطرات کی بات کرتا رہا ہوں۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ابھی حالیہ تاریخ میں دو ملک چیکو سلاواکیہ اور یوگوسلاویہ ہوا کرتے تھے۔ یہ دونوں ملک اب کہاں ہیں۔ کیا وہ ہوا میں تحلیل ہو گئے کہ آج انہیں کوئی جانتا بھی نہیں۔ جی نہیں دونوں ممالک ختم کر کے آج اسی خطہ پر کئی نئے ممالک بنا دیے گئے۔
ستر کی دہائی میں سوویت یونین کی عظیم سلطنت معاشی بدحالی اور افغانستان میں بے مقصد دخل اندازی کے نتیجے میں ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ روس جب ٹوٹا تو اس کے بارود خانے میں سینکڑوں انٹر کونٹینینٹل بیلسٹک میزائل اور ہزاروں نیوکلیر وار ہیڈ تھے لیکن عوام کو ڈبل روٹی میسر نہیں تھی۔ جنگ اور معاشی بدحالی کے سبب سوویت یونین ٹوٹ گیا اور اس کے سارے ایٹمی کھلونے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
سوویت یونین کا ٹوٹنا اس صدی کا ایک المیہ تھا۔ پہلے دنیا میں دو سپر طاقتیں تھیں اور کسی حد تک طاقت کا توازن بھی قائم تھا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دنیا بائی پولر سے یونی پولر ہو گئی اور طاقت کا پلڑا انکل سام کے حق میں جھک گیا۔ اب امریکہ ہی واحد سپر پاور ہے اور دنیا کی حکمرانی اسی کے پاس ہے۔
آج کی دنیا کی جنگ ہتھیاروں کی نہیں بلکہ معیشت کی ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جرمنی اور جاپان مکمل برباد ہوچکے تھے شکست کے بعد ان کے اوپر پابندیاں عائد تھیں لیکن ان دونوں قوموں نے اپنی تعمیر نو کی اور بربادی کے باوجود اپنی معیشت بحال کی۔ سماجی انصاف اور تعلیم کو عام کیا اور آج وہ ایک بار پھر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نمایاں ہیں۔
آج پاکستان فوجی ساز و سامان۔ صلاحیتوں اور میزائل پروگرام میں تو بلاشبہ خود کفیل ہے لیکن کیا ہماری معیشت بھی مضبوط ہے کیا وطن عزیز میں عوام کو دو وقت کی روٹی اور بنیادی سہولیات بھی میسر ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ ملک میں معاشی صورتحال اتنی ابتر ہے کہ شاید وہ دن بہت دور نہیں کہ ننگے بھوکے عوام سڑکوں پر نکل آئیں اور ملک میں انارکی پیدا ہو جائے۔ معاشی بدحالی کے علاوہ وطن عزیز میں لسانی۔ مسلکی اختلاف اور مذہبی انتہا پسندی جلتی پر تیل کا کام کر سکتی ہے جس کی آڑ لے کر وہ قوتیں جو ملک میں انتشار اور بدامنی کے ذریعے اس کے ٹکڑے کر دینے کے در پہ ہیں کھل کر سامنے آ سکتی ہیں۔
ہم نے بے شک اپنی فوجی قوت تو بڑھا لی لیکن سیاسی۔ سماجی اور اقتصادی طور پر ہم کہیں بہت پیچھے رہ گئے۔ فارن پالیسی اور ڈپلومیسی کا یہ حال ہے کہ ہمارے کسی موقف پر کوئی ہمارا ہمنوا نہیں۔ بین الاقوامی طور پر ہم شاید ٹریش کر دیے گئے ہیں۔ نام نہاد مسلم امہ نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ چین جس کے بارے میں ہمارا گمان ہے کہ ہماری دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے وہ بھی اپنے مفاد تک ساتھ ہے اور شاید زیادہ دیر تک ہمارے ساتھ کھڑا نہیں رہ پائے گا۔
یاد رہے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی مستقل دوست یا دشمن ہوتا ہے۔ یہ مفادات کا کھیل ہے آج دشمن کل دوست اور کل کا دشمن آج کا دوست۔ کل تک بھارت اور روس ایک کیمپ میں تھے آج وہی انڈیا انکل سام سے پینگیں لڑا رہا ہے اور ہم جو روس سے افغانستان میں لڑ رہے تھے آج ان ہی کے ساتھ فوجی مشقیں کر رہے ہیں اور ان سے تیل خرید رہے ہیں۔ سپر پاورز کے لیے چھوٹی اور کمزور اقوام شطرنج کے مہروں سے زیادہ کچھ نہیں ان کے اپنے مفادات اور ترجیحات ہوتی ہیں۔
افغانستان میں ہم نے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے چکر میں دخل اندازی کی۔ اس کو برباد کر دیا اور خود بھی کہیں کے نہیں رہے ہماری غلط پالیسیوں کی بنا پر وہی افغانی آج ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ آج اسی افغانستان سے ہماری سر زمین پر حملے ہو رہے ہیں۔ روز ہماری فوجی چوکیوں پر وہ لاشیں گرا جاتے ہیں اور ہم ایک پھسپھسا سا احتجاج ہی کر پاتے ہیں۔ اور ہمارے موقف کی کوئی تائید کرنے والا نہیں دوسری طرف انڈیا جی ٹونٹی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے وہ یورپ و امریکہ تک سمندر میں ٹیوب ڈال کر رسائی حاصل کرنے والا ہے۔ ہمارے نام نہاد برادر اسلامی ممالک وہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ہم مکمل طور پر سائڈ لائن کر دیے گئے ہیں۔
وطن عزیز میں سیاست اور سیاستدانوں کو پہلے ہی مارجنلائز کر دیا گیا ہے اس میں بہت زیادہ قصور تو ان پلانٹڈ سیاستدانوں کا ہے جو ایک خاص مقصد کے لیے تیار کئیے گئے تھے اور بہت زیادہ کردار ان مقتدر حلقوں کا بھی ہے جو نہیں چاہتے کہ ملک میں مضبوط سیاسی کلچر پروان چڑھے وہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں اور وہی پس پردہ ان کٹھ پتلیوں کو آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک کے معاشی اور سیاسی مسائل کا حل فوجی جنرل پیش کر رہے ہیں اور وہی بزنس ٹائیکونز کو تجارت کے اصول بھی سکھا رہے ہیں جبکہ ہماری اپنی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔
ایک بات تو طے ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی سیاسی انقلاب یا بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ لیکن کوئی مانے یا نہ مانے ایک قوت اور گروہ ہے جو متحد بھی ہے اور فوکسڈ بھی ہے۔ ان کے پاس ہارنے کو بھی کچھ نہیں یہ گروہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں بد قسمتی اور حقیقت یہ ہے کہ ”فریکنساٹائن“ کا یہ بھوت بھی انہی قوتوں کا پیدا کردہ ہے جو ملک میں سیاسی استحکام نہیں چاہتے۔ یہ انتہا پسند گروہ ملک میں انارکی اور مذہب کے نام پر انتشار پھیلانے اور کشت و غارتگری کا کھیل کھیل سکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
ان کے بھی تانے بانے افغانستان اور کچھ دوسری طاقتوں سے ملتے ہیں انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو کبھی نہیں مانا اور وہ اٹک تک کے علاقے کو اپنی سرحد کہتے ہیں۔ ان جتھوں کے سلیپر سیل مختلف ناموں سے یہاں پہلے ہی موجود ہیں جو کسی بھی وقت ایکٹیویٹ ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ اپنے بیرونی آقاؤں کے سگنل ملنے کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی یہ گروہ اسلام آباد کا محاصرہ بھی کرچکے ہیں اور وہ مارگلہ پہاڑوں سے اتر کر اسلام آباد میں امن و امان کو مخدوش بنا سکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وہ ایسی کارروائیوں کی گاہے بگاہے دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔
ان گروہوں کا الائنس بلوچ قوم پرستوں سے بھی ہو جانے کی خبر ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ خاص طور پر بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی تحریک کے تناظر میں جبکہ اس خطہ پر کئی ممالک کے مفادات وابستہ ہیں۔
کے پی کے اور بلوچستان کے بعد سندھ خاص طور پر شہری سندھ کی صورتحال بھی مخدوش ہے وہاں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر ریاست پر اعتماد کم ترین سطح پر ہے جو باعث تشویش ہے۔ ماضی میں کراچی کو بھی ہانگ کانگ بنانے کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ ایسی افواہیں یونہی نہیں پھیلائی جاتیں بلکہ اس کے پیچھے مذموم مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں جو سسٹم سے مایوس اور ففتھ کالمسٹ عناصر کے ذریعے صورتحال سے فائدہ ضرور اٹھاتے ہیں۔ جس کے تدارک کے لیے بہت ضروری ہے کہ ملک میں ایک توانا سیاسی نظام اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی ریاست سے جڑا رہے۔
پنجاب کے تناظر میں بقول آپ کے خدانخواستہ ”پاکستان سکڑ کر پنجاب تک رہ جائے گا“
تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ بہت پرانا پلان ہے اگر آپ کو یاد ہو تو پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلی شاید حنیف رامے کی زیر صدارت لاہور میں ایک ورلڈ پنجابی کانفرنس ہوئی تھی جس میں ہندوستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے سکھ اور ہندو پنجابیوں نے شرکت کی تھی اس کانفرنس میں گریٹر پنجاب کا نقشہ بھی پیش کیا گیا تھا۔ اس نقشے کے مطابق مشرقی اور مغربی پنجاب پر مشتمل گریٹر پنجاب بنانے کی تجویز تھی اس نقشے کے مطابق مجوزہ گریٹر پنجاب کو گوادر پورٹ تک رسائی دی گئی تھی۔ عالمی قوتوں کے اس کھیل میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ اگر پاکستان سکڑ کر پنجاب تک محدود ہو گیا تو سکھوں کے جتھے ”منی پاکستان“ میں آ کر اپنے مقدس مقامات کو تحویل میں لے لیں گے ”میں تو اس سے بھی آگے کا سوچ رہا ہوں اگر کبھی خدانخواستہ ایسا ہوا تو وہ نہ صرف اپنے مقدس مقامات پر قبضہ کر لیں گے بلکہ وہ اپنی ان جائیدادوں اور املاک کا بھی کلیم کریں گے جو ان کے اجداد تقسیم کے وقت چھوڑ گئے تھے اور جن پر مقامی پنجابیوں نے قبضہ کر لیا تھا اور راتوں رات ”جاگیردار“ بن بیٹھے تھے۔ اس ”قبضہ“ کے بعد ایک پلان کے تحت لاہور میں واقع ریونیو آفس کو جلا دیا گیا تھا کہ سارا ریکارڈ تلف ہو جائے۔
بین الاقوامی قوتیں ہماری فوجی قوت اور میزائل پروگرام سے خائف بھی ہیں اور وہ نہیں چائیں گے کہ یہ اثاثے کبھی ان انتہا پسندوں کے ہاتھ لگیں جس کی وجہ سے دنیا کی سلامتی خطرے میں پڑے اس کے تدارک کے لیے وہ قوتیں کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
ادھر یہ حال ہے کہ بجائے اس کے کے اپنی معیشت کو بہتر بنائیں۔ ڈپلومیسی کو فروغ دے کر دوستوں کی تعداد بڑھائیں اور عوام کا اعتماد حاصل کریں ہم لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے اور غزوہ ہند کے مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
میری دعا یہی ہے کہ میری آنکھیں کبھی وہ منظر نہ دیکھیں کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ آئے لیکن کیا کروں کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ آپ سے بہت زیادہ اختلاف کر سکوں۔ ہمارا دو قومی نظریہ تو پہلے ہی سقوط مشرقی پاکستان کے بعد متنازعہ ہو گیا اب رہا سہا پاکستان بھی ہماری اپنی غلطیوں اور نالائقیوں کی وجہ سے خطرات میں گھرا نظر آتا ہے۔
خدا میرے ملک کی حفاظت فرمائے اور مقتدرہ حلقوں کو عقل دے کہ ہم صحیح سفارتکاری سے دوستوں کی تعداد میں اضافہ کریں ملک میں سیاسی استحکام ہو اور معیشت بہتر ہو۔ جنگی جنون سے نکلیں اور پر امن بقائے باہمی کو اصول بنا کر بین الاقوامی برادری میں اپنی ساکھ بنائیں۔


