وہ گھر جو دیکھتے ہی دیکھتے مکان بن گئے
ہمارا بچپن اپنے ارد گرد کے ہم عمر نوجوانوں کے بچپن سے مختلف ہے یا نہیں، یہ تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان یادوں سے کچھ حد تک بہت خالی ہے جن کو شاید ہر بچہ اپنے معصوم ذہن کے کینوس پر اتارتا ہے، جیسا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں نانی اماں یا دادی جان کے گھر جانا اور وہاں کچھ دن گزارنا۔
دو ایک سال کے تھے کہ نانا جان چل بسے لہذا ان سے تعارف صرف سنا سنایا ہے اور کوئی بارہ تیرہ سال کے تھے کہ نانی اماں بھی چل بسیں، وہ کبھی کبھی آ کے ہمارے ہاں رہا کرتی تھیں۔ ہماری دادی جان اور نانی اماں سگی بہنیں تھی مگر طرز زندگی میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ نانا جان نے ساری زندگی محنت کی، پہلے ریلوے میں فوڈ انسپکٹری کی اور بعد میں سعودیہ چلے گئے۔ پیروں میں روایتی کھسہ اور سر پر پگڑی، روایات کے امین۔ دوسری طرف دادا جان ڈنگر ڈاکٹر تھے، انھوں نے پاکستان میں بھی سرکاری ملازمت کی اور سعودیہ میں بھی بہت عرصہ کام کیا۔ ان کے بھائیوں نے بھی اعلی تعلیم حاصل کی اور دیار مغرب میں بہت وقت گزارا۔
خیر، واپس کہانی کی طرف آتے ہیں۔ بابا نے کبھی ہماری بہنوں کو نانی اماں کے گھر جانے سے منع نہیں کیا جبکہ ہمیں پچپن میں وہ اکثر ڈانٹ کے روک لیا کرتے تھے۔ جب ذرا بڑے ہو گئے تو کہا کرتے تھے کہ ”آپ میرے پاس ہی رہنا، کوئی فلم دیکھیں گے۔ اماں سے کہو بریانی بنا دیں، آپ نے کیا کرنا ہے وہاں جا کے“ ۔ یہ سنتے ہی جی خوش ہوتا اور کہیں بھی جانے کا سارا خیال بریانی کے خوشگوار خیال میں تبدیل ہوجاتا۔
یہ دنیا کا سب سے شاندار پیکج تھا۔ میں، بابا، فلم اور بریانی۔
ہماری عمر اب تئیس سال ہے اور نانی اماں کے گھر گزارے تمام گھنٹوں کو اگر یکجا بھی کر لیں تو بہ مشکل تئیس دن بنتے ہوں۔ کسی کے ہاں رات رہنے کے خیال سے ہی بابا کو چڑ تھی، یہی وجہ کہ ہم آج تک اپنی دادی جان کے ہاں ایک رات گزار سکے نہ نانی اماں کے ہاں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کسی کے ہاں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سامنے والے کے پورے دن کے منصوبوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ بابا کی اس منطق کے پیچھے ان کی کتب بینی کی عادت کا بہت دخل تھا کیونکہ کتاب پڑھتے ہوئے بعض اوقات پنکھے کی آواز بھی شور لگتی ہے، گھر میں لوگوں کا ہجوم تو بہت بڑی بات ہے۔
ہم جب بھی گئے، دادا دادی کے گھر ہی گئے۔ ننھیال میں کبھی دل نہیں لگا۔ دادا دادی کے ساتھ بہت وقت گزارا۔ ہم سب سے چھوٹے پوتے تھے، لہٰذا خوب مال سمیٹا۔ عید شبرات پر ہمیشہ سو دو سو زیادہ ہی لیا اور کبھی تو دادا دادی دونوں کی جیب پر ہاتھ صاف کیا۔ ان تمام بیس پچاس کے نوٹوں کا نعم البدل قارون کا خزانہ بھی نہیں۔
جو لوگ دادا جان کے گھر میں رہتے تھے ان میں سے ہماری دادی جان چلی گئیں، دو میں سے ایک تایا بھی گزر گئے اور ان کا خاندان بھی شہر سے باہر کسی کونے میں جا بسا۔ ہمارے لیے تو شہر ایک تکون کی مانند تھا جس کے ایک سرے پر دادا جان، دوسرے پر نانی اماں اور تیسرے سرے پر ہمارا گھر بستا تھا۔ دادا جان کا گھر اب مکان لگتا ہے۔ ایک ایسا مکان جس میں برگد کا بس ایک ہی درخت رہ گیا ہے۔ گھر انسانوں سے بنتے ہیں، انسانوں کی آوازوں اور قہقہوں کا مترادف ہے گھر۔ جب انسان ہی نہ رہیں تو بلند و بانگ دیواروں اور گھروں کی روشنیاں بھی بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
تصویر میں نظر آنے والی یہ چھت دادا جان کے گھر کی چھت ہے۔ آج برسوں بعد یہاں آنے کا موقع ملا۔ بڑے ابو (بڑے تایا جان) نے بیٹھنے کو کہا لیکن نہ جانے کیوں قدموں نے چھت کا طواف شروع کر دیا اور برسوں کا سفر لمحوں میں طے ہونے لگا۔ ہوا میں خنکی تھی مگر یادوں کی تپش ماحول کو گرما رہی تھی۔ ان دیواروں نے ہاتھوں کو اپنی طرف کھینچا جہاں ہم پیالی میں گوند بنا کر چودہ اگست کی جھنڈیاں لگایا کرتے تھے۔ پتھر کی اس ٹنکی کا لمس مسحور کن تھا جس کے سامنے گردن جھکائے کھڑے تھے اور وہ دن آنکھوں کے سامنے بجلی کی سی تیزی سے گزر گیا جب کرسی کے سہارے اس پر چڑھنے کی کوشش ناکام رہ گئی تھی۔
مغرب کی اذان شروع ہو چکی تھی، ماحول میں خنکی پہلے سے زیادہ تھی اور بڑے ابو دروازے کے پاس انتظار کر رہے تھے۔ اسی لمحے دروازے کے ساتھ دیوار کے کونے پر نظر پڑی اور وہ لمحہ، لمحہ بھر میں آنکھوں کے سامنے آ گیا جب چودہ سال پہلے دس سال کے ایک بچے نے ہمسایوں کی ایک پتنگ لوٹی تھی جس کی ڈور دیوار کے اس کونے سے رگڑ کر توڑی گئی تھی۔
چھت کا دروازہ بالکل اسی انداز میں بند کیا گیا جیسا رگڑ کھاتا ہوا وہ چودہ سال پہلے پتنگ لوٹنے کے بعد بند ہوا تھا، کنڈی نے بھی اسی طرح شور مچایا جیسا کہ اس نے اس دن مچایا تھا۔ اب حالت دل یوں ہے کہ سو پتنگیں ہاتھ میں ہیں مگر حاکم شہر نے پتنگ اڑانے والے کی گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔
اقبال کا یہ شعر معلوم نہیں کیوں کئی ایک دنوں سے یاد آ رہا ہے۔
راہ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو
بارش شروع ہونے والی تھی، دادا جان کو خدا حافظ کہا اور اپنے گھر کی تلاش میں مکان سے نکل آئے۔


