وہ گھر جو دیکھتے ہی دیکھتے مکان بن گئے

ہمارا بچپن اپنے ارد گرد کے ہم عمر نوجوانوں کے بچپن سے مختلف ہے یا نہیں، یہ تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان یادوں سے کچھ حد تک بہت خالی ہے جن کو شاید ہر بچہ اپنے معصوم ذہن کے کینوس پر اتارتا ہے، جیسا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں نانی اماں یا دادی جان کے گھر جانا اور وہاں کچھ دن گزارنا۔ دو ایک سال کے تھے کہ نانا جان چل

Read more

قومی افق پر چھائی تاریکی اور ایک چراغ کا اعلان

آج داغ دہلوی کا ایک شعر نظر سے گزرا۔ زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں یہ شعر پڑھتے پڑھتے اقبال بانو کی دل سوز آواز میں باقی صدیقی کی ایک نہایت شاندار غزل کا مطلع ذہن میں طلوع ہوا داغ دل ہم کو یاد آنے لگے لوگ اپنے دیے جلانے لگے ذرا سا غور کرنے پر خیال آیا کہ دونوں اشعار میں کوئی مماثلت نہیں ماسوائے لفظ

Read more